Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر کی صاف صفائی پر حکومت کے اقدامات کی قلعی کھلنے لگی ہے

شہر کی صاف صفائی پر حکومت کے اقدامات کی قلعی کھلنے لگی ہے

سیاحتی مقامات پر کوڑا کرکٹ کے انبار ، پرانے شہر سے جی ایچ ایم سی کا سوتیلا سلوک
حیدرآباد ۔12نومبر ( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کو اسمارٹ شہر بنانے کے منصوبہ پر عمل آوری کیلئے حکومت کی جانب سے کئی اعلانات کئے جارہے ہیں ۔ گذشتہ دنوں حکومت نے گھروں سے کچرے کی نکاسی کیلئے خصوصی منصوبہ کا اعلان کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ شہر حیدرآباد میں صاف صفائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن اندرون دو یوم حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی قلعی کھلتی نظر آرہی ہے ۔ شہر کے مختلف علاقوں بالخصوص مرکزی مقامات جہاں سیاحوں کی آمد و رفت ہوتی ہے ‘ ان علاقوں میں بھی دو یوم سے صفائی نہیں ہوئی ہے یا پھر ان علاقوں میں موجود کچرے کے انبار ہٹائے نہیں گئے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی عملہ کی جانب سے کچرے کی نکاسی کے خصوصی انتظامات کی نگرانی کیلئے عہدیدار نہ ہونے کے سبب شہر میں کچرے کی نکاسی کے عمل کو درست کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔ پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں تجارتی اداروں کی جانب سے پھینکے جانے والے کچرے کو اٹھانے کیلئے مناسب انتظامات نہ ہونے کے سبب یہ کچرا بدبو و تعفن کا سبب بن رہا ہے ۔ پرانے شہر سے حکومت بالخصوص جی ایچ ایم سی کے سوتیلے سلوک کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا کہ نئے شہر کے کئی علاقوں میں تجارتی مراکز بالخصوص ہوٹلس ‘ شادی خانوں کے علاوہ ایسے ادارے جہاں سے بدبو و تعفن والا کچرا نکلتا ہے ‘ وہ لینے کیلئے بلدیہ کی گاڑیاں ان اداروں تک پہنچتی ہیں جب کہ پرانے شہر کے ہوٹلس و دیگر تجارتی اداروں کی جانب سے اس بات کی شکایت کی جارہی ہے کہ بلدی عہدیدار ٹیکس کے ساتھ کچرے کی نکاسی کے پیسے تو وصول کررہے ہیں اور اضافی ٹیکس کے متعلق یہ استدلال پیش کیا جارہا ہے کہ جو کچرا تجارتی مراکز سے نکلتا ہے اس کی نکاسی کو یقینی بنانے کیلئے یہ اضافہ کیا گیا ہے لیکن پرانے شہر کے بیشتر مقامات سے کچرے کی نکاسی کا انتظام نہ ہونے کے سبب تجارتی مراکز کچرا کنڈیوں پر پھینکنے کے لیے مجبور ہیں تاکہ بلدیہ کا عملہ اس کچرے کی نکاسی کو یقینی بناسکے ۔ نئے شہر کے کئی علاقوں میں بالخصوص بنجارہ ہلز ‘ پنجہ گٹہ ‘ سوماجی گوڑہ ‘ جوبلی ہلز میں کچرے کی نکاسی کیلئے خصوصی انتظامات موجود ہیں جب کہ پرانے شہر میں ایسا نہ ہونے کے سبب کنڈیوں سے کچرے کی نکاسی بھی دو تین یوم میں ایک مرتبہ ہورہی ہے ۔بلدی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب تک شہر میں کنڈیوں سے کچرے کی نکاسی کا انتظام بہتر نہیں بنایا جاسکتا اس وقت تک صاف صفائی کے انتظامات ممکن نہیں ہیں ۔ اسی لئے یہ ضروری ہے کہ گھریلو کچرے کی نکاسی کے ساتھ ساتھ تجارتی اداروں کے کچرے کو نکالنے کیلئے بہتر انتظامات یقینی بنائے جائیں اور اس سلسلہ میں اعلیٰ عہدیدار وں نے ایک رپورٹ تیار کرتے ہوئے حکومت کو روانہ کی ہے ۔ توقع ہے کہ آئندہ ماہ اس سلسلہ میں سرکاری طور پر کوئی احکام جاری کئے جائیں لیکن اُس وقت تک کچرا کنڈی سے کچرے کی روزآنہ نکاسی کو یقینی بنایا جانا انتہائی ضروری ہے چونکہ صاف صفائی کیلئے سب سے اہم سڑکوں کے کنارے اور رہائشی علاقوں میں موجود کچرا کنڈیوں سے روزآنہ کچرے کی صفائی ناگزیر ہے ۔

TOPPOPULARRECENT