Monday , July 24 2017
Home / Top Stories / شہر کے بیشتر اے ٹی ایم سنٹرس رقم سے خالی

شہر کے بیشتر اے ٹی ایم سنٹرس رقم سے خالی

پرانے شہر میں 80 فیصد سنٹرس بند ، کوئی پرسان حال نہیں ، عوام کو حصول رقم کے لیے مشکلات
حیدرآباد۔9 مارچ (سیاست نیوز) شہر کے اے ٹی ایم سنٹرس ایک مرتبہ پھر مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں اور کسی بھی اے ٹی ایم میں عوام کو مطلوبہ رقم نکالنے کے لئے مشکل پیش آرہی ہے لیکن ان حالات کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور کوئی بینک کی جانب سے اس مسئلہ کے متعلق شکایات پر سنوائی نہیں ہو پا رہی ہے۔نومبر میں حکومت کی جانب سے کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد اے ٹی ایم مشین غیر کارکرد ہوگئے تھے اور اس وقت یہ جواز پیش کیا جا رہا تھا کہ کرنسی کی تبدیلی کے سبب اے ٹی ایم میں کرنسی جمع کرنا ممکن نہیں ہے لیکن اس کے بعد بتدریج حالات معمول پر آنے لگے تھے اور کئی اے ٹی ایم میں 30ڈسمبر کے بعد سے معمول کے مطابق رقومات منہاء ہونے لگ گئی تھیں ۔گذشتہ ماہ فروری کے آخری ایام میں ایک روزہ بینک ہڑتال اور تعطیلات کے بعد حالات تبدیل ہوگئے اور اس کے بعد سے اب تک دونوں شہروں کے بیشتر اے ٹی ایم خالی پڑے ہوئے ہیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پرانے شہر میں 80فیصد سے زیادہ اے ٹی ایم خالی ہیں جبکہ نئے شہر کے علاقوں میں 60فیصد سے زیادہ اے ٹی ایم خالی پڑے ہوئے ہیں ایسی صورت میں بینکوں میں ایک مرتبہ پھر اژدہام کی نوبت آسکتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ دونوں شہرو ںمیں 500اور 1000کے نئے کرنسی نوٹوں کی اجرائی کے اہل 60فیصد سے زیادہ اے ٹی ایم مراکز کو بنا دیا گیا ہے جبکہ مابقی 40فیصد اے ٹی ایم مراکز سے اب بھی 100کے نوٹ جاری کئے جا رہے تھے لیکن ماہ مارچ کے دوران اے ٹی ایم میں رقومات نہ ہونے کے سبب عوام میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔اے ٹی ایم میں رقومات نہ ہونے کے متعلق استفسار پر بینک کے ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ماہ مارچ مالی سال کے اختتام کا مہینہ ہوتا ہے اسی لئے اس مہینہ کے دوران بینکوں سے رقومات کی منہائی کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے ممکن ہے اسی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہو رہی ہے تاکہ بینک اپنے کرنسی ذخائر میں اضافہ ریکارڈ کروا سکیں۔اس طرح کے حالات کے سبب شہر میں لوگوں کو مختلف اے ٹی ایم کے چکر کاٹتے دیکھا جا رہا ہے لیکن 95فیصد اے ٹی ایم میں نقد رقومات نہ ہونے کے سبب صورتحال انتہائی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور اس مسئلہ کو فوری حل نہ کئے جانے کے سبب عوام کی برہمی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT