Monday , September 25 2017
Home / مضامین / شہر کے چوراہے پر پائی تھی اس نے تربیت

شہر کے چوراہے پر پائی تھی اس نے تربیت

 

محمد مصطفے علی سروری
ہرش وردھن زالا کی عمر صرف 15 برس ہے، احمد آباد میں واقع ایک گجراتی اسکول کا یہ طالب علم اگرچہ خود دسویں کلاس کا ا سٹوڈنٹ ہے مگر 60 دوسرے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا ہے ۔ قارئین اکرام آپ سوچ رہے ہوں گے کہ زالا اپنے سے چھوٹی جماعت (کلاس) کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا ہوگا لیکن ایسا نہیں زالا جن بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا ہے ، وہ نہ صرف عمر میں بلکہ تعلیمی اعتبار سے بھی اس سے بہت آگے کی کلاس میں پڑھتے ہیں، کیا واقعی ایسا ہوتا ہے یا یہ بھی فیس بک اور واٹس اپ پر Share کئے جانے والا کوئی فرضی یا Fake حصہ ہے ۔ جی نہیں آپ حضرات اگر ہرش وردھن زالا کے متعلق مزید جاننا چاہتے ہیں تو خود بھی انٹرنیٹ پر یا اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کو پڑھ سکتے ہیں۔ 5 اگست 2017 ء کو اخبار ہندو ستان ٹائمز نے ایک خبر شائع کی جس کے مطابق پونے کے ایک اسکول نے جب زالا کو اپنے ہاں پروگرام میں دعوت دی تو زالا نے بجاج کمپنی کے مالک راجیو بجاج کے ساتھ پروگرام میں شرکت کی ۔ اخبار کی اسی رپورٹ کے مطابق دسویں کلاس کا زالا انجنیئرنگ کے اسٹوڈنٹس کو ان کے پراجکٹ مکمل کرنے کیلئے ٹیوشن دے کر پیسے کماتا ہے ۔ جی ہاں زالا صرف ٹیوشن ہی نہیں پڑھاتا بلکہ اس نے ایک ایسا Drone تیار کیا ہے جو زمینی سرنگوں کا پتہ لگاکر انہیں تباہ کرتا ہے۔ زالا کو اس کی ایجاد کی بدولت ابھی تک مختلف اداروں اور کمپنیوں کی جانب سے 5 کروڑ روپیوں کے لئے سائن کیا گیا ہے ۔ کیا ہرش وردھن زالا کے ابا کوئی سائنٹسٹ تھے جن سے زالا کو ریسرچ کرنے کی ترغیب ملی ۔ جی نہیں زالا کے والد بھی ایک پلاسٹک کمپنی میں اکاؤنٹنٹ کا کام کرتے ہیں ۔ زالا نے بتلایا کہ ایک مرتبہ وہ ٹیلی ویژن دیکھ رہا تھا جس میں بتلایا گیا کہ دنیا میں کس طرح (Land Mines) کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے میدان جنگ میں جانے والے فوجیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ ٹیلی ویژن تو ہمارے بچے بھی دیکھتے ہیں۔ مگر ان کے پسندیدہ پروگرام کچھ اور ہوتے ہیں۔ بچے ہی کیوں ہم نے بھی تو ٹیلی ویژن کو صرف تفریح کا ہی ذریعہ سمجھ رکھا ہے ۔ اب زالا کو دیکھئے کہ ٹیلی ویژن پر ایک پروگرام دیکھا زمینی سرنگ ایک بڑا مسئلہ ہے ، بس اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے سوچنے لگا۔ وہ خود کہتا ہے کہ میں دو برسوں تک مسلسل سوچتا رہا اور ریسرچ کرتا رہا اور بالآخر ایک اچھا ڈرون تیار کرنے میں کامیابی ملی جس کی مدد سے زمینی سرنگ کو ڈھونڈا جاسکتا ہے اور پھر اس کو تباہ کیا جاسکتا ہے ۔ زالا کو اپنے اس ریسرچ کے کام کیلئے پیسے چاہئے تھے سو اس نے کچھ تو اپنے والد سے مدد مانگی اور بقیہ پیسے جمع کرنے کیلئے انجنیئرنگ کے بچوں کو ٹیوشن دینے لگا اور اب تو یہ عالم ہے کہ سرکاری ڈپارٹمنٹ خود آگے آکر زالا کو فنڈز دے رہے ہیں کہ بیٹے تم ریسرچ کا کام آگے بڑھاؤ ، ہم تمہیں اسپانسر کریں گے۔
ہرش وردھن نے 14 سال کی عمر میں اپنی خود کی ایک کمپنی بھی کھول لی ہے ۔ یہ صرف ایک ہرش وردھن زالا کی مثال نہیں ہے ۔ ٹاملناڈو سے تعلق رکھنے والے آکاش منوج کے دادا کو ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کا عارضہ لاحق تھا ۔ ا یک صبح منوج کے دادا اپنے بستر سے نہیں اٹھے ، گھر والے پر یشان ہوکر انہیں دواخانہ لیکر گئے جہاں پر ڈاکٹروں نے بتلایا کہ رات میں نیند کے دوران ہی ایک ہارٹ ایٹک ہوا اور منوج کے دادا اس ہارٹ ایٹک کے سبب چل بسے۔ یوں تو ہارٹ اٹیک کے سبب بہت سارے لوگ مرتے ہیں لیکن منوج نے اپنے دادا کی موت کا سبب جان کر طئے کیا کہ وہ اس سلسلے میں کچھ ایسا کام کرے گا کہ لوگوں کی زندگی بچائی جاسکے کیونکہ ڈاکٹرس نے کہا کہ اگر ہارٹ اٹیک آنے کے بعد ہی اس کے دادا کو دواخانہ لے جایا جاتا تو ان کی جان بچائی جاسکتی تھی ۔ منوج اگرچہ آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے لیکن اس نے طئے کرلیا کہ وہ اپنے دادا جان کی موت کا سبب جانے گا اور دوسروں کی مدد کرے گا ۔ آٹھویں جماعت کا طالب علم ہونے کے ناطے وہ ڈاکٹر بھی بننا چاہے تو کافی وقت لگ سکتا تھا ۔ منوج نے خاموش رہنے کے بجائے ڈاکٹری کی کتابیں اور میڈیکل ریسرچ جرنل پڑھنے کا فیصلہ کیا لیکن ٹاملناڈو کے ہوسر شہر میں ایسی کوئی سہولت نہیں تھی ، منوج نے لوگوں سے پوچھ کر پتہ کیا تو معلوم ہوا ٹاملناڈو میں نہیں بلکہ پڑو سی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں Indian Institute of Sceince کی لائبریری سے مدد مل سکتی ہے ۔ اب منوج نے طئے کیا کہ وہ ٹاملناڈو کے اپنے شہر ہوسر سے بنگلور کا سفر کرے گاجو کہ تقریباً 40 کیلو میٹر دور واقع ہے، اب منوج کو اسکول سے جب بھی وقت ملتا وہ بنگلور کا سفر کرتا اور وہاں IIS کی لائبریری میںHeart attack کے بارے میں پڑھتا۔ آٹھویں جماعت کا منوج لائبریری جاتا اور انسانی دل اور کارڈیالوجی کے بارے میں پڑھتے جاتا۔ 15 سال کی عمر میں منوج کا جب وزیٹنگ کارڈ لیا گیا تو اس پر لکھا تھا کہ Researcher in Cardiology یہ کوئی دیوانہ کی دیوانگی نہیں تھی بلکہ منوج نے Cardiology کے مضمون کو مسلسل پڑھ کر اتنی مہارت حاصل کرلی کہ اس نے ایک ایسا آلہ تیار کرلیا جس کے ذ ریعہ سے حالت نیند میں آنے والے ہارٹ ایٹک کا بروقت پتہ لگایا جا سکتا ہے ۔ کلائی یا کان کے قریب باندھنے پر یہ چھوٹا سا آلہ قلب پر ہونے والے خاموش حملوں کا پتہ لگاکر بتاسکتا ہے ۔
منوج کے اس آلہ کی حکومتی سطح پر آزمائش کی جارہی ہے ۔ منوج آگے چل کر AIIMS سے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اور اپنی اس ایجاد کو سرکار کے حوالہ کرنا چاہتا ہے تاکہ سرکار ا پنے طور پر ضرورت مند مریضوں کے لئے اس کو تیار کرسکے۔ آج دسویں کلاس کے اس اسٹوڈنٹ کی پوزیشن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر سے لوگ ، ادارے بڑی بڑی کانفرنسوں اور پر و گراموں میں شرکت کیلئے بلا رہے ہیں اور اس کے منفرد آلہ کے بارے میں اس کی کارکردگی کے بارے میں سننا چاہ رہے ہیں ۔ (بحوالہ ہندوستان ٹائمز 5 اگست) مثالیں اس لئے دی جاتی ہے کہ ترغیب ملے ۔ مسلم قوم و ملت کیلئے بھی اور خاص کر والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو صحیح سمت میں آگے بڑھنے کیلئے رہنمائی کریں۔
دو برس ہوگئے پرانے شہر حیدرآباد میں ڈی سی پی ستیہ نارائنا نے چبوترہ مہم شروع کی اور آج بھی اس طرح کی مہم میں سینکڑوں نوجوانوں کو پولیس پکڑ رہی ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پولیس کی مہم کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکل رہے ہیں؟ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت تعلیمی اداروں اساتذہ اور پولیس ہی کی ذمہ داری نہیں ہے۔ جب تک خود والدین اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھائیں گے اس وقت تک پولیس تو کیا فوج بھی کسی کو نہیں سدھار سکتی ہے۔ ذرا سا احساس ذمہ داری جگانے کی ضرورت ہے ۔ کون کہتا ہے ، مسلم نوجوان صلاحیت نہیں رکھتے۔ ضرورت ہے کہ ان کی ہمت افزائی کی جائے، ان کو ترغیب دلائی جائے ۔ ان کو آگے بڑھنے میں ہاتھ بٹایا جائے ۔ اس طرح کا مثبت ماحول محمد رفعت شاہ رخ جیسے نوجوانوں کو دنیا کے سامنے اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ ٹاملناڈو سے تعلق رکھنے والے اس مسلم نوجوان نے 18 سال کی عمر میں دنیا کا سب سے چھوٹا سیٹلائیٹ تیار کر لیا ہے اور اس سائنسی کارنامے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ محمد رفعت شاہ رخ کے سیٹلائیٹ کو امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا نے خلاء میں چھوڑا ، رفعت کا شمار ایسے پہلے ہندوستانی طالب علم میں ہوتا جس کے تیار کردہ سب سے چھوٹے تجرباتی سیٹلائیٹ کو خلاء میں لانچ کرنے کیلئے NASA نے آمادگی ظاہر کی ۔ خبر رساں اداروں کی اطلاعات کے مطابق 21 جون 2017 ء کو ناسا نے کامیابی کے ساتھ محمد رفعت شاہ رخ کے سیٹلائیٹ کو خلاء میں بھیج دیا ۔ یہ تو ایک مسلم نوجوان کی کامیابی کا ذکر تھا جس کو والدین کے ساتھ ساتھ اسکول کالج میں بھی صحیح رہبری دی گئی اور جب بچوں کو صرف تعلیمی اداروں کے بھروسے چھوڑ دیا جائے تو اس کے کتنے خطرناک نتائج نکل جاسکتے ہیں۔ اس کا اندازہ 17 مئی 2016 ء کو شائع شدہ دکن کرانیکل کی اس خبر سے لگایا جاسکتا ہے، جس کی سرخی تھی Hyderabad: Hi-tech cheat caught ۔ تفصیلات کے مطابق 16 مئی 2016 ء کو رائل جونیئر کالج ایس آر نگر میں انٹرمیڈیٹ کے سپلیمنٹری امتحانات لکھنے کیلئے 19 برس کا ایک مسلم نوجوان امتحان ہال میں داخل ہوتا ہے۔ امتحان ہال میں داخلے کے بعد جب اس طالب علم کی تلاشی لی گئی تھی تو ممتحن حضرات اور دیگر ٹیچرس یہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ طالب علم کی بنین کے ساتھ ایک ’’چھوٹا سا مائیکروفون لگا ہوا ہے جو Bluetooth آلہ کے ساتھ جڑا ہواہے ۔ طالب علم اپنے اس آلے کی مدد سے اپنے دوسرے دوست سے امتحان میں جوابات پوچھ کر لکھنا چاہتا تھا ۔
پولیس کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ طالب علم نے تقریباً 13 ہزار خرچ کرنے کے بعد اپنے دوسرے انجنیئر دوست سے خاص ٹی شرٹ اور بلیو ٹوتھ کاسٹم اس کے ساتھ لگایا تھا ، وہ چاہتا تھا کہ نقل کے اس ہائی ٹیک سسٹم سے وہ کسی طرح کام لیتے ہوئے انٹرمیڈیٹ کے ان پیپرس میں کامیابی حاصل کرلے جس میں وہ فیل ہوگیا تھا ۔ (بحوالہ دکن کرانیکل 17 مئی 2016 ء) اس خبر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ مسلم بچوں میں سائنسی مزاج ہے ، ضرورت صرف اس بات کی ہے ، ان کی صحیح رہبری اور ان کو گائیڈنس فراہم کیا جانے اور والدین کے علاوہ دوسرے یہ کام صحیح طور پر نہیں کرسکتے کیونکہ تعلیمی ادارے اکیڈیمک کیلنڈر کے اختتام پر بھی ہر سال یہ دیکھتے ہیں کہ انہوں نے کتنا منافع کمایا ہے ، بچوں کی تربیت اخلاق و کردار سنوارنا ان کی ترجیحات میں کہیں نظر نہیں آتا ۔ آخر کو ہمارے بچوں کی تربیت ہماری ہی ذمہ داری تو ہے ۔ بقول شاعر
شہر کے چوراہے پر پا ئی تھی اس نے تربیت
عمر بھر اوروں کے آگے ہاتھ پھیلاتا رہا
اللہ رب العزت ہم سب کو اولاد کی تربیت کی توفیق دے اور اس کام میں ہم سب کی مدد فرما ۔ آمین
[email protected]

TOPPOPULARRECENT