Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / شہر ہمارا، میئر اور ڈپٹی میئر بھی ہمارا ہی ہوگا

شہر ہمارا، میئر اور ڈپٹی میئر بھی ہمارا ہی ہوگا

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی: ڈپٹی چیف منسٹرمحمود علی
حیدرآباد۔/9ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے درگاہ حضرات یوسفین ؒ پر حاضری دینے کے بعد کہا کہ شہر ہمارا ہے میئر اور ڈپٹی میئر بھی ہمارا ہی ہوگا۔ گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس تمام حلقوں پر مقابلہ کرے گی اور 80سے زائد حلقوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے درگاہ حضرات یوسفینؒ  پر حاضری دی اور گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعدمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ورنگل لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں ریکارڈ اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد ٹی آر ایس کارکنوں کے حوصلے بلند ہیں اور حکمران ٹی آر ایس مقامی اداروں کی 12کونسل نشستوں کے انتخابات میں تمام نشستوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ اپوزیشن کے حوصلے ہیں اور انہیں مقابلہ کرنے کیلئے امیدوار بھی دستیاب نہیں ہیں۔

شہر حیدرآباد کے حدود میں چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے برقی اور آبرسانی کے جملہ 418 کروڑ روپئے کے بقایا جات کو معاف کردیا ہے جس سے 6لاکھ عوام کو فائدہ ہوگا۔ 1988 کے بعد اس طرح کا اقدام پہلی مرتبہ کیا گیا ہے اور عوام ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کررہے ہیں۔ اس تاریخی فیصلہ کا عوام میں مثبت ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ ہمارا ہے، چیف منسٹر ہمارا ہے، شہر ہمارا ہے، میئر اور ڈپٹی میئر بھی ہمارا ہی ہوگا۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کررہے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد کے بلدی انتخابات میں حکمران ٹی آر ایس کی کامیابی شہر حیدرآباد کی ترقی کی ضامن ہوگی۔ جناب محمود علی نے بتایا کہ ٹی آر ایس تمام 150حلقوں پر مقابلہ کرے گی اور 80تا90بلدی حلقوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیف منسٹر پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کے ترقیاتی، تعمیری و فلاحی اقدامات اور چیف منسٹر کے سی آر کے ٹھوس اقدامات سے متاثر ہوکر دوسری جماعتوں کے قائدین ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین پہلی مرتبہ سیاسی وفاداریاں تبدیل نہیں کررہے ہیں بلکہ ماضی میں بھی ایسا کئی بار ہوا ہے اور جو بھی قائدین پارٹیاںتبدیل کررہے ہیں انہیں اپنی جماعتوں کی قیادت پر بھروسہ نہیں ہے اس لئے وہ ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT