Sunday , September 24 2017
Home / شیشہ و تیشہ / شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

شاہدؔ عدیلی
غزل
تیرے فیشن سے مجھے اس لئے ڈر لگتا ہے
لاڈلے تُو کبھی مادہ کبھی نَر لگتا ہے
ایک سامع کو اچانک پڑا دل کا دورہ
آپ کے بھونڈے ترنم کا اثر لگتا ہے
عالمِ دیں کے ہے پہلو میں سیاسی لیڈر
خیر کے پہلو میں بیٹھا ہوا شر لگتا ہے
جب سے شادی ہوئی وہ ہوگیا ڈرپوک اتنا
ایک چوہا بھی اسے اب تو ببر لگتا ہے
جب بھی سسرال میں گم ہوتی ہے پاکٹ میری
نسبتی بھائی کے ہاتھوں کا ہنر لگتا ہے
اپنی بیوی سے وہ پٹتا ہوا دیکھا نہ گیا
’’گھر کسی کا بھی جلے اپنا ہی گھر لگتا ہے ‘‘
کئی محبوب مرے دل میں بسے ہیں شاہدؔ
دل مرا دل نہیں محبوب نگر لگتا ہے
………………………
لغت جدید …!
چارہ گر :  بیٹے یا بیٹی کو چارہ بناکر دلہن یا دولہا والوں کو ٹھگنے والا ۔
بھائی چارا: لین دین یعنی ہمارا لڑکا آپ کا اور جہیز کے نام لڑکی کے نام پر بنک میں جمع کردہ نقدی ہماری …!
اختر نواب ۔ وجئے نگر کالونی
………………………
قابل رحم …!
ایک غائب دماغ پروفیسر نے کوئی بات یاد رکھنے کیلئے اپنی اُنگلی کے گرد ایک دھاگہ باندھ لیا۔ رات کے کھانے کے بعد ان کی نظر دھاگے پر پڑی مگر انتہائی کوشش کے باوجود اُنہیں وہ بات یاد نہ آئی ، جس کیلئے انہوں نے وہ دھاگہ اپنی انگلی میں لپیٹا تھا ۔
وہ یہ بات سوچتے رہے ، سوچتے رہے اور صبح 5 بجے اچانک اُنہیں یاد آیا کے انہوں نے دھاگہ اِس لیے باندھا تھا کے وہ رات کو جلدی سونا چاہتے تھے ۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
………………………
چھلکا آپ رکھ لیں …!
٭  ایک کنجوس نے کیلے (موز ) بیچنے والے سے کہا ۔ بھائی ایک کیلا کتنے کا ہے ؟
کیلے والے نے کہا ایک روپیہ کا !
یہ سن کر کنجوس نے کہا ساٹھ پیسہ میں دیدو ۔
اس پر کیلے والے نے کہا ساٹھ پیسے میں تو صرف چھلکا آئیگا ۔
یہ سنتے ہی جھٹ کنجوس نے اپنی جیب سے چالیس پیسے نکالے اور کہا چھلکا آپ رکھ لیں اور موز مجھے دیدیں…!!
ایم اے وحید رومانی ۔ پھولانگ نظام آباد
………………………
اتنی طوفانی بارش …!
٭  طوفانی بارش میں آدھی رات کے وقت ایک آدمی پیزا لینے کیلئے پیزا ہاؤس پہنچا ۔ پیزا ہاؤس کے مالک نے از راہِ ہمدردی اُس سے دریافت کیا کہ کیا وہ شادی شدہ ہے؟
وہ آدمی ناراض ہوکر کہنے لگا آپ کو کیا لگتا ہے کوئی ماں اپنے بیٹے کو اتنی طوفانی بارش میں پیزا (Pizza)لینے بھیج سکتی ہے ۔
محمد حامداﷲ ۔ حیدرگوڑہ
………………………
فضول خرچ …!
کنجوس باپ (بیٹے سے ) : کیا تم کچھ پڑھ رہے ہو ؟
بیٹا : نہیں ڈیڈی ۔
باپ : کیا تم کچھ لکھ رہے ہو؟
بیٹا : نہیں ڈیڈی ۔
باپ : چشمہ کیوں پہن کر بیٹھے ہو ۔ فوراً نکال دو ، مجھے تمہاری یہ فضول خرچی بالکل پسند نہیں…!
ڈاکٹر گوپال کوہیرکر ۔ نظام آباد
………………………
معاف کرنا …!
٭  دو پڑوسی آپس میں لڑپڑے اور غصہ کی حالت میں ایک دوسرے سے کہنے لگے :
پہلا : میں آپ کو شریف آدمی سمجھتا تھا ؟
دوسرا : میں بھی آپ کو شریف آدمی سمجھتا تھا ؟
پہلا : معاف کرنا مجھ ہی سے غلطی ہوگئی ، آپ کا خیال صحیح تھا …!
………………………
میں بھی موجود ہوں …!
پہلا وکیل : میں آپ سے بڑا گدھا آج تک نہیں دیکھا …!
دوسرا وکیل : میں بھی آپ سے زیادہ بڑا بیوقوف شخص آج تک نہیں دیکھا ؟
جج : آرڈر آرڈر میں بھی یہاں موجود ہوں ۔
مظہر قادری ۔ حیدرآباد
………………………

TOPPOPULARRECENT