Thursday , September 21 2017
Home / شیشہ و تیشہ / شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعود
بندوبست دوامی
ہر اِک چیز فانی ہے مٹ جائے گی
ہے یارا کسے اِس کی تردید کا
مگر پھر بھی باقی رہے گی جو شے
وہ ہے محکمہ ضبطِ تولید کا
……………………………
حامد سلیم حامدؔ
رِنگ ٹون …!
موبائل فون لیکر دور یہ کیا خوب آیا ہے
شبابِ نو نشے میں نغمگی کے ڈوب آیا ہے
کل اک میت میں رنگ ٹون پر ہنس پڑے سارے
’’بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے ‘‘
………………………
محمد ابوالحسن حسنؔ
مسلم تحفظات ( نظم )
تحفظات میں گُم ، محو انتظار ہیں ہم
وفا ہو وعدہ تمہارا کہ بے قرار ہیں ہم
تحفظات کا اعلان بارہ فیصد کا
کیا تھا ہوش میں تم نے ؟ کہ مئے گُسار ہیں ہم
نہ گاؤ ، گیت وہ بنگارو تلنگانہ کے
تحفظات کی راہوں میں بے بہار ہیں ہم
’’نشانِ کار‘‘ کو ہم دے کے اوٹ سب اپنے
نہیں کسی کے ، تمہارے ہی گناہ گار ہیں ہم
متاعِ عُہدۂ جاناں سے بامُراد ہو تم
خرابِ جوروستم ، ہائے بے شمار ہیں ہم
تمہاری فرما روائی پہ پختہ  اِیمانی
تحفظات عطا ہوں اُمیدوار ہیں ہم
ہمارا ووٹ جو بخشا ہے تمہیں کے سی آر
تحفظات کے وعدوں کی یادگار ہیں ہم
ہم اپنے رزق جُنوں کا ہیں ایک افسانہ
مثال پارہ ئِ دامان تار تار ہیں ہم
وزیراعلیٰ کی راحت کا شوق تھا تم کو
خراب حال ہیں بسمل ہیں سوگوار ہیں ہم
کہ اُن کا وعدہ ہمیں یاد آرہا ہے حسنؔ
اقلیت میں ہی ہیں پھر بھی آشکار ہیں ہم
………………………
کیا بنوگے ؟
استاد شاگرد سے : تُم بڑے ہوکر کیا کرو گے ؟
شاگرد : شادی
اُستاد : میرا مطلب ہے کیا بنوگے ؟
شاگرد : دولہا
استاد : تم بڑے ہوکر کیا حاصل کرو گے ؟
شاگرد : دُلہن
استاد : ارے بڑے ہوکر ماں باپ کے لئے کیا لاؤ گے ؟
شاگرد : گھر میں بہو لاؤں گا ۔
استاد : تمہارے والدین تم سے کیا چاہتے ہیں؟
شاگرد : پوتا ، پوتی
استاد : ارے بیوقوف تمہاری زندگی کا مقصد کیا ہے؟
شاگرد : ہم دو ہمارے دو ۔
یہ سنتے ہی استاد سر پکڑ کر بیٹھ گئے ۔
ڈاکٹر گوپال کوہیرکر ۔ نظام آباد
………………………
اﷲ کا شکر ہے !
پہلی عورت : آپ کے شوہر کا انتقال    کیسے ہوا؟
دوسری عورت : سڑک حادثے میں روڈ رولر کے نیچے آکر چپک گئے تھے ۔
پہلی عورت : پھر شناخت کیسے ہوئی ؟
دوسری عورت : اﷲ کا شکر ہے وہ ہیلمٹ پہن کر تھے اس لئے چہرہ اور سر سلامت تھا۔
مظہر قادری۔ حیدرآباد
………………………
تعریف پر سزاء
٭  ایک آدمی نے شادی کے بیس سال کی زندگی میں کبھی کھانے کی تعریف نہیں کی ۔ ایک دن جمعہ کے خطبہ میں مولوی صاحب نے کہا بیوی کے پکوان کی تعریف کیا کرو ۔ جب وہ شخص گھر گیا تو دال کھاتے ہوئے ہر لقمہ پر واہ واہ ، سبحان اﷲ کہہ رہا تھا ۔ یہ سنتے ہی بیوی اُٹھی اور کچن سے روٹی پکانے والا بیلن لائی اور گھماکر اس کی پیٹھ پر دے مارا اور کہا : ’’بیس سال میں میری تو کبھی تعریف نہیں کی آج پڑوسن نے دال کیا بھیجی تو اتنی تعریف ہورہی ہے ۔
امتیاز علی نصرتؔ۔ پداپلی
………………………
یہی تو …!
مریض ڈاکٹر سے :کیا آپ کو اپنے اوپر پورا بھروسہ ہے کہ آپ میرا آپریشن کامیابی کے ساتھ کرسکیں گے ۔
ڈاکٹر : یہی تو آپ کے آپریشن کے بعد مجھے معلوم کرنا ہے ۔
صادق شریف ۔ میدک
………………………

TOPPOPULARRECENT