Saturday , October 21 2017
Home / مضامین / شیشے کے لب پہ آئے گی پتھر کی گفتگو

شیشے کے لب پہ آئے گی پتھر کی گفتگو

جاٹ کو تحفظات…مسلمان محروم کیوں ؟
سنجے دت رہا … مسلم نوجوان ابھی جیلوں میں

رشیدالدین
جمہوری اقدار کی تبدیلی نے حقوق حاصل کرنے کے انداز بھی بدل دیئے ہیں۔  جمہوریت میں مطالبات کی تکمیل یا پھر حقوق حاصل کرنے پرامن انداز میں احتجاج کی اجازت ہے۔ کوئی بھی احتجاج دستور اور قانون کے دائرہ میں ہونا چاہئے اور تشدد کیلئے کوئی گنجائش نہیں۔ حالیہ عرصہ میں دیکھا گیا کہ سماج میں تشدد اور طاقت کے ذریعہ حقوق حاصل کرنے اور مطالبات منوانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ رجحان جمہوریت کیلئے اچھی علامت نہیں۔ اس سے نہ صرف جمہوری روایات اور اقدار کو نقصان ہوگا بلکہ امن کے بجائے نراج کی صورتحال پیدا ہوگی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال کیلئے ذمہ دار کون ہے؟ کس نے عوام کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ ظاہر ہے کہ اس کا ایک ہی جواب ملے گا کہ ذمہ دار حکمراں طبقہ یعنی حکومت ہے۔ اگر اقتدار کی کرسیوں پر فائز افراد عوامی ضروریات کی تکمیل اور مسائل کی یکسوئی و حقوق کی ادائیگی پر توجہ دیتے تو عوام قانون شکنی کی ہمت نہ کرتے۔

اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مرکز اور ریاستوں کی حکومتیں اگر اپنی ذمہ داری اور فرائض کی تکمیل کرتیں تو عوام کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ تشدد اور طاقت کے مظاہرہ کے ذریعہ مطالبات منوانے کا رجحان ایک طرح سے فائدہ مند کم اور نقصان دہ زیادہ ہے۔ حکومتوں کو تشدد کے ذریعہ بعض غیر منصفانہ مطالبات قبول کرنے کیلئے بھی مجبور کیا جاسکتا ہے ، جس سے حقیقی مستحق افراد جائز حقوق سے محروم ہوجائیں گے۔ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ والا معاملہ ہوجائے گا اور نئی روایت چل پڑے گی۔ طاقت کے زور پر کچھ بھی منوایا جاسکے گا اور جو طبقات عدم تشدد امن اور جمہوریت پر ایقان رکھتے ہوں ، وہ اپنے جائز حقوق سے ہمیشہ محروم رہیں گے۔ تحفظات کیلئے ہریانہ اور گجرات میں جو کچھ ہوا، وہ ملک اور جمہوریت پر سوالیہ نشان ہے۔ جاٹ اور پٹیل طبقات نے پرتشدد احتجاج کے ذریعہ حکومتوں کو جھکنے پر مجبور کردیا ہے۔ جاٹ اور پٹیل طبقات کا شمار اگرچہ خوشحال طبقات میں ہوتا ہے ، پھر بھی وہ تحفظات کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔ ملک کی آزادی کو 67 سال مکمل ہوگئے لیکن آج تک مسلمان جائز حقوق سے محروم ہیں۔ ایسے حقوق جو کسی پارٹی کے انتخابی منشور یا حکومت کے اعلانات نہیں بلکہ دستور ہند میں دی گئی مراعات ہیں جن کی پابندی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مسلمان چونکہ ہر اعتبار سے پسماندہ ، دیانتدار و پر خلوص قیادت اور اتحاد سے محروم ہیں ، لہذا دستوری حقوق سے بھی انہیں محروم کردیا گیا کیونکہ حکومت سے بازپرس کرنے والا کوئی نہیں ہے۔  مرکز اور ریاست میں بی جے پی حکومت ہے لیکن جاٹ طبقہ نے 3 دن تک ساری ریاست کو عملاً یرغمال بنالیا تھا۔ تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں کے علاوہ 34000 کروڑ سے زائد کی سرکاری و خانگی املاک کو نقصان کا اندازہ کیا گیا ہے۔ بیشتر علاقوں کو فوج کے حوالہ کرنا پڑا لیکن تحفظات کے اعلان تک فوج اور نیم فوجی دستے بھی صورتحال پر قابو نہیں پاسکے۔ تشدد کے دوسرے ہی دن حکومت کو تحفظات کے لئے کمیٹی قائم کرنی پڑی۔ تحفظات کے حقیقی حقدار طبقات میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ ان کیلئے انتخابی منشور، انتخابی مہم اور پھر کامیابی کے بعد بھی وعدے اور اعلانات کئے گئے لیکن یہ معاملات کچھوے کی رفتار سے بھی سست ہیں۔ کوئی بھی پارٹی برسر اقتدار آنے کے بعد  انتخابی منشور پر عمل آوری کیلئے اخلاقی طور پر پابند ہے لیکن آج تکنیکی سہارے تلاش کرتے ہوئے مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ تلنگانہ کی حکمراں جماعت ٹی آر ایس نے انتخابی منشور میں 12 فیصد تحفظات کا اعلان کیا تھا۔ انتخابی مہم میں کہا گیا کہ اقتدار کے 4 ماہ میں تحفظات فراہم کئے جائیں گے لیکن آج کمیشن آف انکوائری کے ذریعہ مسلمانوں کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔

12 فیصد تحفظات کیلئے ریاست بھر میں جمہوری انداز سے عوامی مہم جاری ہے۔ شائد حکومت کو جاٹ طبقہ کی طرز کے احتجاج کا انتظار ہے۔ جاٹ طبقہ کے احتجاج سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جمہوری انداز سے مانگ کر نہیں بلکہ چھین کر حق حاصل کرنا چاہئے۔
جاٹ طبقہ نے ہریانہ میں غیر قانونی حربے استعمال کئے لیکن کسی جماعت نے  ان کی مذمت نہیں کی۔  اگر جاٹ کی جگہ مسلمان ہوتے تو کیا حکومت کا رویہی ہوتا؟ اگر کشمیر میں کوئی احتجاج ہو تو اسے ملک دشمنی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح کسی اور مقام پر مسلمان احتجاج کریں تو پولیس اور فوج کی گولیاں احتجاجیوں کا تعاقب کریں گی اور ملک سے غداری اور دشمنی کا مقدمہ درج کردیا جائے گا ۔ ظاہر ہے کہ اب تو حکومت کے پاس غداری کا مقدمہ عام بات ہوچکی ہے۔ مسلم تحفظات کیلئے طاقت اور اتحاد دونوں ضروری ہیں۔ دوسری طرف ممبئی میں سلسلہ وار بم دھماکوں 1993 ء کے مجرم سنجے دت کو سزا کی تکمیل سے قبل جیل سے رہائی دیدی گئی۔ 8 ماہ 16 دن قبل ان کے ’’اچھے برتاؤ‘‘ کے سبب رہائی کا فیصلہ کیا گیا۔ اچھے برتاؤ کی بنیاد پر سزا کی معافی اگر ممکن ہے تو اس کا اطلاق ہر قیدی کے ساتھ ہونا چاہئے۔ سنجے دت چونکہ ایک سلیبریٹی ہیں ، ان کی سزا معاف کرنا ، دوسرے ان قیدیوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو اچھے سلوک کے باوجود سزا کاٹ رہے ہیں۔ اچھے برتاؤ اور اچھے سلوک کے تعین کا پیمانہ کیا ہے؟ آخر کونسی مشن ہے جس سے اس کی جانچ کی جاتی ہے؟

سزا کے دوران ہی سنجے دت پیرول کے نام پر جیل میں کم اور باہر زیادہ دکھائی دیتے رہے۔ خود مہاراشٹرا کی جیلوں میں کئی مسلم نوجوان ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کے اچھے برتاؤ کا حکومت کو خیال کیوں نہیں آتا ؟ ملک میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ سزا کی تکمیل کے با وجود قیدیوں کو رہائی نہیں ملی۔ ملک کی جیلوں میں سزا کے بغیر صرف مقدمات کے نام پر محروس مسلم نوجوانوں کی کمی نہیں لیکن حکومتوں کو ان کا خیال نہیں آتا۔ شائد حکومت کا یہ تاثر ہے کہ جیلوں کا قیام مسلم نوجوانوں کیلئے ہی کیا گیا ہے۔ صرف سنجے دت سے رعایت معنیٰ خیز ہے جبکہ ان پر الزام ثابت ہوچکا تھا۔ ظاہر ہے کہ فلمی شخصیت ہونا ، سیاسی گھرانے سے تعلق اور حکومت میں شامل افراد سے قربت نے رہائی کو آسان کردیا۔ انصاف کا پیمانہ اور اس کے معیارات سب کیلئے یکساں ہونے چاہئیں۔ یوں ہی ملک میں مسلم اقلیت کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی کیلئے بس بہانہ چاہئے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے آج تک مختلف عنوانات سے مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں بند کیا گیا۔ کبھی ٹاڈا تو کبھی پوٹا دراصل قوانین کے نام بدلتے رہے لیکن ان تمام قوانین کا مقصد صرف مسلمانوںکو نشانہ بنانا تھا۔ ملک میں مسلمانوں سے نفرت اور عدم رواداری کی بدترین مثال لاتور میں مسلم پولیس عہدیدار پر حملہ ہے۔ اگر کسی پولیس عہدیدار کو داڑھی ہو تو اس پر حملہ کرنا زعفرانی ذہنیت کو اجاگر کرتا ہے ۔

اگر کسی نے غربت ، بیروزگاری ، بیماری ، فرقہ پرستی اور ذات پات سے آزادی کی بات کی تو ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے لیکن مہاراشٹرا حکومت کو مسلم پولیس عہدیدار کے خاطیوں کو سزا دینے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں طلبہ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ، اس کی دنیا بھر میں مذمت کی جارہی ہے اور ہندوستان کا وقار مجروح ہوا ہے۔ یونیورسٹی کے معاملہ کو اب وہاں کے مسلم طلبہ پر تھوپنے کی سازش کی جارہی ہے کیونکہ عمر خالد کے والد قاسم رسول الیاس ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے صدر ہیں اور پرتعیش طاقتوں کے خلاف اور کمزور طبقات کے حق میں وہ آواز اٹھاتے رہیں گے۔ یوں بھی مسلمان سیکوریٹی ایجنسیوں اور پولیس کیلئے آسان شکار ہیں۔ افضل گرو کی یاد میں جلسہ کرنے پر ملک سے غداری کا مقدمہ لیکن کشمیر میں پی ڈی پی سے بی جے پی نے اتحاد کیا جبکہ پی ڈی پی کا موقف افضل گرو کے بارے میں ہر کسی پر عیاں ہے۔ پی ڈی پی نے افضل گرو کو شہید قرار دیا تھا ۔ اگر حکومت حب الوطنی اور ملک سے غداری کے موجودہ موقف میں سنجیدہ ہیں تو اسے پہلے پی ڈی پی قائدین کے خلاف مقدمہ درج کرنا چاہئے تھا، برخلاف اس کے ان کے ساتھ مل کر کشمیر میں ایک سال حکومت کی گئی اور پھر دوبارہ تشکیل حکومت کیلئے منت سماجت کی جارہی ہے۔ اقتدار کیلئے بی جے پی کا دوہرا معیار کیوں ؟ عمر خالد اور کنہیا پر جب ملک سے غداری کا الزام عائد کیا گیا تو پھر سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم پر مقدمہ کیوں نہیں ؟ انہوں نے پارلیمنٹ پر حملہ میں افضل گرو کے ملوث ہونے پر شبہات کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی سزا پر بھی سوال اٹھائے۔ چدمبرم جو یوپی اے دور میں وزیر داخلہ تھے ، ان کا یہ بیان جے این یو ہنگاموں کے بیچ منظر عام پر آیا ہے۔ کیا حکومت ان کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ درج کرے گی۔ چدمبرم کی جگہ اگر کوئی مسلم قائد جیسے اعظم خاں یہی بیان دیتے تو شائد ان پر مقدمہ درج کردیا جاتا۔ بی جے پی کو حب الوطنی اور ملک سے غداری کا سرٹیفکٹ جاری کرنے کا اختیار آخر کس نے دیا ہے ؟ شہود آفاقی نے کچھ اس طرح تبصرہ کیا ہے   ؎
شیشے کے لب پہ آئے گی پتھر کی گفتگو
قدریں بدل رہی ہیں تو وہ دن بھی آئے گا

TOPPOPULARRECENT