Monday , September 25 2017
Home / سیاسیات / شیوسینا پر پابندی عائد کرنے الیکشن کمیشن سے مطالبہ

شیوسینا پر پابندی عائد کرنے الیکشن کمیشن سے مطالبہ

ممبئی ۔ 19 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی نے آج یہ مطالبہ کیا کہ شیوسینا کی حالیہ پرتشدد کارروائیوں بشمول کرکٹ کنٹرول بورڈ آفس پر آج کے احتجاج کے پس منظر میں اس جماعت کی مسلمہ حیثیت ختم کردینے کا مطالبہ کیا اور بتایا کہ 50 سالہ تاریخ میں شیوسینا نے نفرت کی سیاست اور غنڈہ گردی کے سواء کچھ نہیں کیا۔ عام آدمی پار ٹی کی ترجمان پریتی شرما مینن نے کہا کہ شیوسینا کا وجود عمل میں آئے 50 سال گزر گئے جس کے دوران نفرت کی سیاست اور غنڈہ گردی سے کام لیا اور قوم کیلئے کوئی گرانقدر خدمات انجام نہیں دے سکی ۔ شیوسینا پر تنقید کرتے ہوئے پریتی شرما نے کہا کہ پارٹی کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ مرہٹوں کی آواز اور ترجمان ہے لیکن وہ ایک مرتبہ بھی اپنے بل بوتے پر اقتدار میں نہیں آسکی۔ انہوں نے یہ نشاندہی کی کہ شیوسینا اپنے قیام کے 20 سال بعد صرف ایک لوک سبھا نشست پر کامیابی حاصل کرسکی اور تقریباً 30 سال بعد 1995 ء میں اسمبلی کی 288 میں سے 73 نشستوں پر کامیابی کے ذریعہ پیشرفت کی تھی ۔ عام آدمی پارٹی لیڈر نے یہ سوال اٹھایا کہ آخر شیوسینا کیا ہے ؟ یہ صرف غنڈوں کی نمائندہ جماعت ہے اور بے ضرر لوگوں بشمول فنکاروں ، قلمکاروں کو دھمکیاں دیتی ہے اور مالیاتی دارالحکومت میں بند اور تشدد بھڑکانے کا خوف دلاکر جبراً رقومات وصول کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے شیوسینا جارحیت پسند بن گئی ۔ جس کے تحت میں پاکستانی غ زل گلوکار غلام علی کا پروگرام منسوخ کردیا گیا ۔ حتیٰ کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی تصنیف کی رسم اجرائی کی تقریب منعقد کرنے پر منتظم پر حملہ کردیا ۔ بالآخر آج بی سی سی آئی آفس کو نشانہ بنایا جس کے باعث ہند۔پاک کرکٹ اجلاس منسوخ کردینا پڑا۔انہوں نے بتایا کہ یہ ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا ۔ مہذہب سماج کو متحد ہوکر شیوسینا پر پابندی کا مطالبہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ جماعت ہمارے دستور اور جمہوریت کو سمجھ سکتی ہے اور نہ ہی اس کی پاسدار کرسکتی ہے اور ہمیشہ پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کیلئے ہمہ تن مصروف رہتی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ شیوسینا کی غیر قانونی اور خطرناک سرگرمیوں کا سخت نوٹ لیتے ہوئے اس کی مسلمہ حیثیت ختم کردے اور ریاستی حکومت کوچاہئے کہ ریاست میں تشدد بھڑکانے اور امن و قانون کو بگاڑنے پر شیوسینا لیڈروں کے خلاف کیس درج کرے۔

TOPPOPULARRECENT