Wednesday , July 26 2017
Home / شہر کی خبریں / شیوشنکر ، شہاب الدین ، منظور الامین ، منیر احمد کو خراج

شیوشنکر ، شہاب الدین ، منظور الامین ، منیر احمد کو خراج

قائدین کی زندگی نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ اور رحلت قوم و ملت کا نقصان عظیم
حیدرآباد ۔ 9 ۔ مارچ : ( پریس نوٹ ) : مدینہ ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام اکابرین قوم و ملت کا مشترکہ تعزیتی جلسہ زیر نگرانی جناب غلام یزدانی سینئیر ایڈوکیٹ منعقد ہوا ۔ انہوں نے تینوں اکابرین سے دیرینہ رفاقت کا تفصیلی ذکر کیا اور ان کی رحلت کو قوم و ملت کا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحومین کی خدمات نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ ہیں ۔ علاوہ ازیں منیر احمد سے شخصی تعلقات کا بھی احاطہ کیا ۔ جناب کے ایم عارف الدین داعی اجلاس نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہاب الدین کو مفکر ، مدبر ، قلم کار اور قائد بے مثل قرار دیا ۔ اور جناب شیوشنکر اعلی درجہ کے سیکولر اور بااصول قائد تھے ۔ اور جناب منظور الامین ہمہ پہلو شخصیت تھے ۔ مذکورہ مرحوم اکابرین مدینہ سوسائٹی کی ہمہ جہت کارکردگی سے بے حد متاثر تھے اور اپنے زرین مشوروں سے نوازتے تھے ۔ جناب منیر احمد ابتداء سے مدینہ سوسائٹی سے وابستہ تھے آپ کی جدائی میرا شخصی نقصان ہے ۔ ڈاکٹر ونود کمار آئی ایف ایس ریٹائرڈ سابق سفیر جرمنی نے شہاب الدین کو اپنا آئیڈیل قرار دیا اور کہا کہ بحیثیت سفیر موصوف سے استفادہ کرتے ۔ مولانا حامد محمد خاں امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ شہاب الدین ملی مسائل سے کماحقہ آگہی رکھتے تھے اور وہ پارلیمنٹ میں بے باکی سے پیش کرتے ۔ شاہ بانو کیس کے بعد کا قائدانہ رول ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ جناب شیونکر صف اول کے سیکولر قائد تھے ۔ جسٹس ای اسماعیل نے کہا کہ شیوشنکر اور شہاب الدین سے قدیم تعلقات تھے اور دونوں نے قوم و ملت کی خاطر ملازمت سے مستعفی ہو کر میدان عمل میں آئے ۔ تادم آخر خدمت کرتے رہے ۔ منظور الامین دوستی قدیم تھی اور انہوں نے کبھی اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا ۔ ٹھاکر ہردے ناتھ سنگھ ( کانگریس ) نے کہا کہ موصوف نے ہمیشہ نوجوانوں کی ہمت افزائی کی ۔ ممتاز دانشور ڈاکٹر خواجہ معین الدین سیول سرجن نے کہا کہ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ان اکابرین کے جانشین تیار کریں ۔ محمد علی الدین قادری ( سادات ایجوکیشن سوسائٹی ) نے کہا کہ جناب شیوشنکر اردو شریف ہائی اسکول کے سینئیر ساتھی تھے اور دکن کی مشترکہ تہذیب کے پرور دہ تھے ۔ اعلی منصب پر فائز ہونے کے باوجود پیکر انسانیت رہے اور انکساری کو قائم رکھا ۔ موصوف میں مقناطیسی کشش تھی ۔ ملاقات کرنے والا دوبارہ ملاقات کا متمنی ہوتا  ۔ اردو کے دلدادہ تھے ۔ اب ایسی شخصیتیں قال قال ہی نظر آتی ہیں ۔ جناب سید حامد حسین ، قاضی زین العابدین ، قاری سید صدیق حسین ، یس کے افضل الدین نے بھی مخاطب کیا ۔ آخر میں مولانا حامد محمد خاں نے مرحومین کے لیے دعا کی ۔ علاوہ ازیں پروفیسر انوار رحمن ( حال مقیم شکاگو ) کے لیے بھی دعا مغفرت کی گئی ۔ تعزیتی اجلاس میں مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT