Sunday , July 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / صاحبِ ترتیب کا شرعی حکم

صاحبِ ترتیب کا شرعی حکم

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شحص صاحب ترتیب نہ ہوتو صاحب ترتیب ہونے کیلئے کیا کرنا چاہئے اور اگر کسی کو یا د نہیں کہ اس کی کتنی نمازیں قضاء ہوئیں ہیں تو اس کو کیا کرنا چاہئے ۔
جواب: اگر کسی شخص کی بشمول وتر کے چھ نمازیں فوت ہوجائیں تو وہ شرعاً صاحب ترتیب باقی نہیں رہتا اور جس کے چھ نمازیں فوت نہیں ہوئی ہیں وہ صاحب ترتیب ہے۔ جس شخص کی چھ یا چھ سے زائد نمازیں فوت ہوئیں ہیں اس کو صاحب ترتیب ہونے کے لئے پوری فوت شدہ نمازیں قضاء کرنا ہوگا ۔ عالمگیری جلد اول ص ۱۲۳ باب قضاء الفوائت میں ہے ’’ و یسقط الترتیب عند کثرۃ الفوائت وھو الصحیح ھکذا فی محیط السرخسی وحد الکثرۃ ان تصیر الفوائت ستا بخروج وقت السادسۃ و عن محمد رحمہ اللہ انہ اعتبر دخول الوقت والاول ھو الصحیح کذا فی الھدایۃ ‘‘ ۔
جس شخص کی نمازیں اسقدر قضاء ہوگئی ہوں کہ اسکو ان کی تعداد یاد نہیں تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنی قضاء نمازوں کا اندازہ کرے اور اندازہ کرنے کو بعد اس پر اپنی طرف سے احتیاطاً اس قدر نمازیں اضافہ کرے جس سے اس کو یہ یقین ہوجائے کہ اب اس کے ذمہ کوئی قضاء نماز باقی نہیں رہی ۔ ایسی صورت میں اس کی جملہ قضاء نمازیں ادا ہوجانے کے بعد جو زائد ہو گئی ہیں وہ اس کی جانب سے نفل ہوجائیں گی اور کسی فرض کا مواخذہ نہیں ہوگا ۔
چھوٹی ہوئی رکعتوں کی قضاء
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عشاء کی دوسری رکعت میں ایک شخص جماعت میں شریک ہوا ۔ جب امام دوسری اور چوتھی رکعت میں بیٹھے گا تو اس نئے شخص کو اس وقت بیٹھ کر کیا پڑھنا چاہئے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت جو اس کی رہ گئی ہے اس کو کس طرح ادا کرنا چاہئے ۔ یعنی سورہ فاتحہ کے ساتھ دوسرا سورہ ملا کر پڑھنا چاہئے یا نہیں ۔
جواب: امام جب قعدہ اولیٰ میں بیٹھے تو ایسے شخص پر امام کے ساتھ بیٹھنا واجب ہے۔ اور ا یسی صورت میں اس کو تین مرتبہ قعدہ کرنا ہوگا ۔ جن میں آخری قعدہ فرض اور پہلے کے دو واجب ہوں گے ۔ البحر الرائق جلداول ص۱۸ میں ہے ’’ فان المسبوق بثلاث من الرباعیۃ یقعد ثلاث قعدات کل من الاولیٰ والثانیۃ واجب والثالثۃ ھی الاخیرۃ وھی فرض ‘‘ ۔
چونکہ ہر قعدہ میں تشہد پڑھنا واجب ہے اس لئے اس پر ہر ایک قعدہ میں تشہد پڑھنا واجب ہوگا ۔ البحرالرائق کے اسی صفحہ میں ہے ’’ و کل تشھد یکون فی الصلوٰۃ فھو واجب سواء کان اثنین او اکثر کما علمتہ فی القعود‘‘ ۔ اور قاعدہ اخیرہ میں امام کی پیروی کرتے ہوئے صرف تشھد پڑھنا کافی ہے۔ درود اور دعاء ماثورہ کی ضرورت نہیں ۔ فتاوی عالمگیری جلداول ص۹۱میں ہے ۔ ’’ ان المسبوق ببعض الرکعات یتابع الامام فی التشھد الاخیر و اذا تشھد لا یشتغل بما بعدہ من الدعوات ‘‘ اور تشہد کو امام کے سلام پھیرنے تک آہستہ آہستہ پڑھنا چاہئے ۔ چنانچہ اسی مقام میں ہے ’’ ثم ماذا یفعل تکلموا فیہ والصحیح ان المسبوق یترسل فی التشھد حتی یفرغ عنہ سلام الامام کذا فی الوجیز للکردی ‘‘ فتاوی قاضی خان وھکذا فی الخلاصۃ و فتح القدیر‘‘۔ باقی رکعتوں میں قراء ت کا یہ حکم ہیکہ امام سلام پھیرنے کے بعد مقتدی جب رکعتوں کی تکمیل کیلئے کھڑا ہوگا تو پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورہ ملا کر پڑھے گا جیسے وہ تنہا نماز پڑھنے کے وقت کرتا ہے اور باقی رکعتیں ضم سورہ کے بغیر ادا کرے گا ۔ فتاوی عالمگیری کے ص۹۱ میں ہے ( و منھا) انہ یقضی اول صلوتہ فی حق القراء ۃ و آخرھا فی حق التشھد‘‘۔ فقط واﷲأعلم

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT