Wednesday , August 16 2017
Home / مذہبی صفحہ / صاحب ِخلق عظیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

صاحب ِخلق عظیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

مولانا محمد نعیم نگوروی

قرآن مجید ایک ایسے معاشرہ کی تشکیل کا خواہاں ہے، جس کے رہنے والے بلند اخلاق کے مالک ہوں۔ جس معاشرہ میں اچھے بُرے کی تمیز ختم ہو جائے، اسے اسلامی معاشرہ نہیں کہا جاسکتا۔ قرآن حکیم نے جو اخلاقیات کی فہرست دی ہے، اس کے تناظر میں اگر حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ نظامِ اخلاق کو دیکھیں تو یہ بات پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ کے تمام گوشے اور شعبے ’’تخلقوا باخلاق اللّٰہ‘‘ کی عین تفسیر ہیں۔
وہ ذات جو ’’العلی العظیم‘‘ کی بلند عظمتوں کی مالک ہے، اس کا محبوبﷺ صفاتِ ربانی کا مکمل آئینہ دار ہے، اسی لئے ذاتِ باری تعالیٰ نے حضورﷺ کے اخلاق کی بلندیوں کا ذکر کیا تو فرمایا: ’’اور بے شک تم اعلیٰ اخلاق کے مالک ہو‘‘۔ پھر فرمایا: (اے محبوبﷺ!) یہ سب اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان کے لئے نرم ہو گئے اور اگر آپ تُند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے، آپ ان کو معاف فرمادیں اور ان کے لئے بخشش طلب کریں‘‘ (القرآن) یعنی قرآن حکیم حضور رحمت عالمﷺ کے اخلاق کی عظمتوں کا واضح لفظوں میں اعلان کر رہا ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ معاشرہ کی تعمیر و ترقی میں اخلاقِ حسنہ کا بڑا دخل ہے۔ حضور اکرمﷺ نے اخلاقیات کا جو واضح پروگرام امت مسلمہ کو دیا ہے، وہ قیامت تک آنے والی نسل انسانیت کے لئے ایک جامع اور ہمہ گیر انقلابی پروگرام ہے۔

حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے خلق کی تعریف یہ کی ہے کہ ’’لفظ خلق نفس کی اس ہیئت راسخہ کا نام ہے، جس سے تمام افعال بلاتکلیف اور بلاتامل صادر ہوں۔ اگر یہ افعال عقلاً و شرعاً اور عمداً قابل تعریف ہوں تو اس حالت کو خلق نیک اور اگر بد ہوں تو خلق بد کہتے ہیں‘‘۔ حضرت امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب کہا: ’’آفتابِ محمدی سے نکلنے والے نور کی شعاعیں اور کرنیں قیامت تک آنے والی نسل آدمیت کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہیں گی اور کہتی بھی رہیں گی کہ اے امت محمدیہ! اگر تم اپنی زندگی کو سنوارنا اور اخلاق کو پاکیزہ بنانا چاہتے ہو، تو تمہارے پاس ایک ہی نسخہ ہے جو آج سے چودہ صدیاں قبل فاران کی چوٹیوں سے نکلنے والے آفتاب نے دیا، جس کی پُرنور شعاعوں اور کرنوں نے ساری کائنات کو آفتابِ عالمتاب کردیا، جس کی پاکیزہ سیرت کو ساری آدمیت کے لئے نمونۂ کامل اور اسوۂ حسنہ قرار دیا‘‘۔

کتنے تعجب کی بات ہے کہ آج کے دور میں ہمارے مذہبی و سیاسی قائدین ذاتِ مصطفیﷺ کے اسوۂ مبارکہ کی بات تو کرتے ہیں، مگر خود اس پر عمل پیرا ہونے سے صرف گریزاں ہی نہیں، بلکہ ان کی صورتوں پر مصطفوی رنگ کی جھلک تک نہیں دکھائی دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ حاضر میں دین صرف ایک رسمی عمل بن کر رہ گیا ہے۔
معلم اخلاق صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کی کتاب کو دیکھیں، جس کو قرآن پاک اسوۂ حسنہ کہہ کر پیش کر رہا ہے، آپ کو کہیں بھی کوئی لغزش نظر نہیں آئے گی۔ جنگ کا میدان، جہاں دشمن نفرتوں اور کدورتوں کے انگارے پھینکتا ہے، وہاں بھی معلم اخلاقﷺ حسن اخلاق کے گلدستے پیش کرتے ہیں اور معلم اخلاق کی صحبت کاملہ سے فیضیاب ہونے والے اس حسنِ اخلاق سے محبت کے پھول چن رہے ہوتے ہیں۔ معلم انسانیت کو حلقۂ یاران میں یا محبت و قرابت کے جشن بہاراں میں دیکھیں، غار حرا کی خلوتوں کو دیکھیں یا حرم کعبہ کی جلوتوں کو دیکھیں، مکہ کے گلی کوچوں کی تنہائی میں دیکھیں یا بوقت ہجرت وطن عزیز کی جدائی کے موقع پر دیکھیں۔ آپ کو کوئی ایسا مقام نہیں ملے گا، جہاں محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوۂ کامل کے گہرے نقوش نہ چھوڑے ہوں۔ آپﷺ کی ساری حیاتِ طیبہ بگڑی ہوئی انسانیت کے لئے ایک مکمل دارالشفاء ہے، جہاں بداخلاقیوں اور بداعمالیوں کے روحانی مریض شفایاب ہوتے ہیں۔

حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کسی نے خواہش کی کہ ’’اے ام المؤمنین! آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں کچھ بتائیں؟‘‘۔ ام المؤمنین نے اس شخص سے پوچھا: ’’کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟‘‘۔ اس شخص نے کہا: ’’پڑھا ہے‘‘۔ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ نے فرمایا: ’’قرآن ہی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق ہے‘‘۔ یعنی قرآن پاک بیانِ اخلاق کا اجمال ہے تو ذاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی واضح تفسیر اور تفصیل ہے۔

حضرت سیدنا جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بہت ہی پیارا نکتہ بیان فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے اخلاق کو ’’عظیم‘‘ اس لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اور خواہش نہ تھی‘‘۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کمال اور بزرگی کے جس درجہ پر بھی فائز ہوگا، وہ کمالِ مصطفوی کے سامنے ایک ذرہ کے برابر ہوگا، کیونکہ آپﷺ براہ راست اللہ رب العزت سے فیضیاب ہوکر امت کو فیض پہنچانے والے ہیں اور سبھی آپ کے دربار کے خوشہ چیں اور آپ کے ٹکڑوں پر پلنے والے ہیں۔ پھر جس عبدِ مکرم کا مربی خود خالقِ کائنات ہو، اس تلمیذ الرحمن کی عظمتوں، رفعتوں اور اخلاق کی بلندیوں کا اندازہ کون لگا سکتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعثت کا مقصد یہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوا ہوں‘‘ (کنز العمال) آپﷺ خود رب العزت کی بارگاہ میں دعا فرمایا کرتے کہ ’’اے اللہ! مجھے ادب اور مکارمِ اخلاق سے آراستہ فرما‘‘۔ آپﷺ یہ بھی دعا فرمایا کرتے کہ ’’اے اللہ! مجھے اخلاقِ بد سے دور رکھ‘‘۔ (احیاء العلوم)
منبعِ کمالات، حضور اطیب و اجمل، اکمل و احسن صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم اقدس تمام نجاستوں اور آلودگیوں سے پاک، منزہ اور مزکیّٰ تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ خود بھی پاک تھے اور آپ کی صحبتِ کاملہ سے فیضیاب ہونے والے بھی پاک و طاہر ہو گئے۔ آپﷺ نے تمام عبادات کی بنیاد اخلاق پر رکھی، اسی لئے آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ مکارمِ اخلاق کو پسند کرتا ہے اور بُرے اخلاق کو ناپسند کرتا ہے‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، جنت میں صرف وہی لوگ داخل ہوں گے، جن کے اخلاق اچھے ہوں گے‘‘۔ (احیاء العلوم)
وہ خوش نصیب انسان، جس کو اخلاقِ حسنہ کا پیکر بننے کی سعادت نصیب ہوئی، اس کے بارے میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انسان اپنے اخلاقِ حسنہ کی وجہ سے اس درجہ پر فائز ہو جاتا ہے، جو ساری رات ذکر الہٰی میں کھڑے رہنے والے اور عمر بھر روزہ رکھنے والے کو نصیب ہوتا ہے‘‘۔ (سنن ابی داؤد) (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT