Saturday , September 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / صالح اولاد

صالح اولاد

محمد عارف

حضرت امیرالمؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ ابھی اپنے بستر پر پہلو کے بل لیٹے ہی تھے کہ انکا سترہ سالہ (صالح بیٹا) عبدالملک کمرے میں داخل ہوا اور کہا’’امیرالمؤمنین آپ کیا آرام کرنا چاہتے ہیں؟‘‘
فرمایا: ہاں  بیٹے ! میں تھوڑی دیر سونا چاہتا ہوں اس لئے کہ اب میرے جسم میں طاقت نہیں ہے میں بہت تھک چکا ہوں۔
بیٹے نے کہا: امیرالمؤمنین کیا آپ مظلوم لوگوں کی فریاد سنے بغیر ہی سونا چاہتے ہیں؟  اگر آپ سوگئے تو پھر انکا وہ مال جو ظلم سے چھینا گیا وہ واپس کون دلائے گا؟
فرمایا: بیٹا! چونکہ میں تمہارے چچا خلیفہ سلیمان کی وفات کی وجہ سے گزشتہ ساری رات جاگتا رہا، تھکاوٹ کی وجہ سے جسم میں طاقت نہیں ہے۔ انشاء اللہ تھوڑا آرام کرنے کے بعد نماز ظہر لوگوں کے ساتھ پڑھوں گا اور پھر یقینا مظلوموں کی فریاد رسی بھی ہوگی۔ ہر ایک کو اس کا حق دیا جائے گا، کوئی محروم نہیں رہے گا۔  بیٹے نے کہا: ’’امیرالمؤمنین! اسکی کون ضمانت دیتا ہے کہ آپ ظہر تک زندہ رہیں گے‘‘؟
بیٹے کی یہ بات سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز تڑپ اٹھے، آنکھوں سے نیند جاتی رہی، تھکے ہوئے جسم میں توانائی لوٹ آئی اور اور یکدم جست لگا کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ بیٹا! میرے قریب آؤ- بیٹا قریب ہوا تو گلے لگا کر اسکی پیشانی کو بوسہ دیا اور فرمایا: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا نیک فرزند عطا کیا جو دینی معاملے میں میری اعانت کرتا ہے، پھر آپ اٹھے اور حکم دیا یہ اعلان کردیا جائے کہ جس پر کوئی ظلم ہوا ہے وہ اپنا مقدمہ خلیفہ کے سامنے آکر پیش کرے۔

TOPPOPULARRECENT