Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / ’صبروتحمل سے عاری‘ ٹرمپ امریکی صدر نہیں بن سکتے

’صبروتحمل سے عاری‘ ٹرمپ امریکی صدر نہیں بن سکتے

بچوں کا مستقبل ٹرمپ کے حوالے نہیں کیا جاسکتا : سان ڈیگو میں ڈیموکریٹک امیدوار ہلاری کلنٹن کا خطاب
لاس اینجلس ۔ 3 جون (سیاست ڈاٹ کام) ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن نے آج ری پبلکن امکانی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ پر تنقیدیں کرتے ہوئے انہیں ’صبروتحمل سے عاری‘ شخص قرار دیا اور کہا کہ ایسا شخص جس میں ’بے صبری‘ کا مادہ کوٹ کوٹ کے بھرا ہو وہ امریکہ کا صدر ہرگز نہیں ہوسکتا۔ ٹرمپ نے اپنی جن خارجہ پالیسیوں کا تذکرہ کیا ہے اس میں رواداری اور صبروتحمل کا نام و نشان تک نہیں۔ دنیا میں آج ایسے کئی بڑے قائدین، علما ‘دانشور، سیاسی تجزیہ نگار ہیں جنہوں نے یہ واضح کردیا ہیکہ ری پبلکن پارٹی نے صدر کے عہدہ کیلئے جس امیدوار کو نامزد کیا ہے، وہ اس عہدہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مندرجہ بالا تمام شخصیات کی رائے سے وہ (ہلاری) متفق ہیں کیونکہ وہ خود بھی ٹرمپ کو صبروتحمل سے عاری شخص قرار دیتی ہیں۔ سان ڈیگو، کیلیفورنیا میں ہلاری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے جن خارجہ پالیسیوں کا تذکرہ کیا ہے وہ آگے چل کر (ٹرمپ صدر بننے کی صورت میں) انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔ چلئے اگر کوئی یہ مان بھی لے کہ خارجہ پالیسیوں کے تحت ٹرمپ نے کچھ مفید مشورے یا تجاویز پیش کی ہیں، تو ہم خاموش رہیں گے لیکن ٹرمپ نے تو شخصی مخاصمت اور سفیدجھوٹ کے ڈھیر لگا دیئے ہیں۔

ایسا لگتا ہے جیسے وہ صدر بننے کے بعد شخصی انتقام پر اتر آئیں گے۔ اپنی تقریر کے دوران ہلاری نے ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا اور وہی ان کی زبان پر تھا جو ان کے دل میں تھا اور ان کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالی جو دراصل حقائق پر مبنی بیانات تھے۔ ہلاری نے ٹرمپ کے کچھ سابقہ بیانات جو انہوں نے بین الاقوامی امور پر دیئے تھے، کا بار بار تذکرہ کیا۔ ہلاری نے کہا کہ ہر انسان جس قابلیت اور صلاحیت کا حامل ہوتا ہے اسے اگر وہی ذمہ داری دی جائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتا ہے۔ ٹرمپ میں صدر بننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے اور وہ صدارتی انتخابات کی دوڑ میں نہ صرف شامل ہوئے بلکہ اب ری پبلکن کی جانب سے نامزد بھی کئے جانے والے ہیں۔ ٹرمپ ایسے شخص ہیں جو امریکہ کو نیوکلیئر جنگ میں جھونک سکتے ہیں لہٰذا ہم امریکہ کے بچوں اور پوتا، پوتیوں، نواسا، نواسیوں کے مستقبل کو ٹرمپ کے حوالے نہیں کرسکتے کیونکہ یہ وہی شخص ہیں جنہوں نے اس بات کی وکالت کی تھی کہ دنیا کے ہر ملک کے پاس نیوکلیئر طاقت ہونی چاہئے بشمول سعودی عرب۔ ہلاری نے کہاکہ ٹرمپ وہ شخص ہیں جو ناٹو سے امریکی حلیف ممالک کو الگ تھلگ کردینا چاہتے ہیں جبکہ یہ وہ ممالک ہیں جو امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہلاری کلنٹن نے شاید اپنی تقریر کے دوران یہ عزم کر رکھا تھا کہ وہ ٹرمپ کو آج کسی حال نہیں بخشیں گی۔ انہوں نے ٹرمپ کے کاروبار کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ ٹرمپ امریکی معیشت کو بھی اپنے جوئے خانے کی طرح سمجھتے ہیں اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو امریکی معیشت کو 2008ء سے بھی زیادہ بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جب عالمی کساد بازاری نے دنیا کے بڑے بڑے ممالک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی اور کہا کہ ٹرمپ امریکہ کے صدر بننے کے اہل نہیں۔
جبکہ وہ (ہلاری) نے بحیثیت امریکی وزیرخارجہ ملک کے کچھ مشکل اور پیچیدہ فیصلوں میں اہم رول ادا کیا جس میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کروانا قابل ذکر ہے۔

TOPPOPULARRECENT