Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / صبر مومن کی پہچان

صبر مومن کی پہچان

سید جلیل ازہر
ہمیشہ زندگی اس طرح بسر کرو کہ دیکھنے والے تمہارے درد پر افسوس کے بجائے تمہارے صبر پر اشک کریں۔ یہی مومن کی پہچان ہے۔ ان خیالات کا اظہار نرمل کے مختلف مساجد کے ائمہ حضرات مفتی الیاس احمد قاسمی صاحب مفتی کلیم الرحمن مظاہری صاحب مفتی ریاض الدین انصاری صاحب ، مولانا عبدالعلیم صاحب نے مقامی دفتر سیاست  میں ماہِ رمضان ا لمبارک کی آمد کے موقع پر سید جلیل ازہر کو ایک مشترکہ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ماہِ رمضان پر مفصل روشنی ڈالی اور نسل نو کو ہدایت دی کہ وہ ماہ رمضان کی قدر کریں اور کثرت سے عبادت کریں۔ ان مذہبی محترم شخصیتوں نے بتایا کہ 2 سن ہجری میں جب حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو اس کے دوسرے سال ماہِ صیام یعنی رمضان المبارک کے روزہ فرض کئے گئے ۔ چنانچہ خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے دوسرے سال ہزاروں فرزندان توحید کے ہمراہ روزہ رکھے ۔ اگر اس آنے والے ماہ کی ہم قدر نہ کریں تو بدنصیبی ہوگی۔ ہم تمام مسلمانوں کو پھر ایک بار یہ بتادیں کہ رمضان المبارک کی خصوصی عبادات سے نئی نسل آگاہ ہو۔ اس ماہ مبارک میں ہر عاقل اور بالغ مسلمان پر دن میں روزے فرض کئے گئے اور رات میں تراویح کا حکم دیا گیا کیونکہ یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن مجید کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنے اور اس پر غور و فکر کرنے کیلئے حکم دیا گیا ہے ۔ عام دنوں میں ایک نیک عمل پر ایک گنا ثواب ملتا ہے  مگر رمضان المبارک کے تقدس اور فیوض و برکات کے پیش نظر ہر عبادت اور نیک عمل پرایک گنا نہیں بلکہ ستر گنا ثواب عطا کیا جاتا ہے ۔ پر وردگار عالم کی شان کریمی پر غور کیجئے ۔ فرمایا گیا ہے کہ روزہ خالصتاً میرے لئے ہے اوراس کا اجر و ثواب بھی روزہ دار کو میں اپنی شان کریمی کے مطابق خود ادا کروں گا۔ اللہ رب العزت یہ چاہتا ہے کہ اس کے محبوبؐ کی امت روزوں کے فیوض و برکات سے بہرہ ور ہو۔ تزکیہ نفس ہو روح کی تطہیر کے ساتھ ساتھ بدن کی جسم کی طبی اصلاح پر شعور آگہی اور روحانیت و عرفانیات کے مراحل طئے کرنے میں آسانیاں میسر آئیں کیونکہ روزہ صرف پیٹ کا ہی نہیں ، نظر کا ، خیال کا ، ہاتھ کا ، پیر کا ، بلکہ جسم کے ہر عضو کا ہوتا ہے اور اس کا قلب اپنے معبود حقیقی کی ایمان افروز کی کیفیات کا سرچشمہ ہوتا ہے ۔ اس عالم میں جب ایک روزہ دار اپنے خالق حقیقی سے رجوع کرتا ہے تو کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔ اس کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں ۔ جیسے تم سے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے ۔ رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کیلئے حق تعالیٰ شانہ کا بہت ہی بڑا انعام ہے ، مگر جب ہی کہ اس انعام کی قدر بھی کی جا ئے ورنہ ہم ایسے محروموں کیلئے ایک مہینے تک رمضان رمضان چلائے جانے کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ ان مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ ایک حدیث میں ہے کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ رمضان المبارک کیا چیز ہے تو میری امت یہ تمنا کرے کہ سارا سال رمضان رہے۔

ماہ رمضان المبارک کی معظم شان ہے
ہم سبھی پہ یہ خدائے پاک کا احسان ہے
جس قدر بھی کرسکیں ہم اس کی خاطر کریں
یہ ہمارے گھر میں بس ایک ماہ کا مہمان ہے
ان علمائے دین نے مسلمانوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ آنے والے رمضان المبارک کے مہینہ کا احترام کریں ۔ کثرت سے عبادات کریں، سڑکوں اور ہوٹلوں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ غریب ، غرباء، یتیم کی مدد کریں، بھوکوں کو کھانا کھلائیں۔ بالخصوص رزق کی قدر کریں کیونکہ آج کل یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ افطاری ہو یا دعوتیں لوگ کھانا کی اشیاء کا احترام نہیں کرتے اور چھوڑ دیتے ہیں جس کی دین اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔اگر کوئی چیز کھانے کی بچ جائے تو اس کو اٹھاؤ اور کسی بھوکے کو تلاش کرکے اس تک پہنچادو۔ ان علماء نے ایک واقعہ بھی بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو روٹی کا ٹکڑا گرا ہوا دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اٹھاکر صاف فرمایا اور کھالیا اور فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عزت دار چیز کی عزت کرو جب اللہ کسی قوم کا رزق چھین لیتا ہے تو واپس نہیں کرتا ۔ ہم تمام کی اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ پوری امت مسلمہ کو نیک عمل کرنے کی توفیق فرمائے ،آمین۔ اور رمضان المبارک کا یہ مقدس مہینہ ہم سب کیلئے رحمت اور مغفرت کا مہینہ ثابت ہو۔آمین ثم آمین

TOPPOPULARRECENT