Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / صبر و نماز کا فیضان

صبر و نماز کا فیضان

سید صابر علی

قرآن مجید میں اﷲ رب العزت فرماتا ہے : ’’صبر اور نماز کے ذریعہ سے اﷲ تعالیٰ کی مدد حاصل کرو ‘‘ (البقرہ:۴۵) ۔ اللہ کے حبیب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’نماز روشنی ہے ‘‘ (صحیح مسلم)۔
مشکلات اور مصائب سے نجات استعانت باﷲ اور صبر جمیل میں مضمر ہے ۔ انسان پر جب چاروں طرف سے مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں تو اُس کو بے اختیار خدا یاد آتا ہے ۔ دراصل مصیبت میں ہمارے صبر کا امتحان لیا جاتا ہے اور نعمت سے نوازکر ہمارے شکر کاامتحان لیا جاتا ہے ۔ ہمیں ہر حال میں اپنے خالق کو نہیں بھولنا چاہئے ۔ ہماری مصیبتیں محض ہمارے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اﷲ رب العزت فرماتا ہے ’’اﷲ کو کثرت سے یاد کرو شاید تمہیں فلاح نصیب ہوجائے‘‘ ۔ (الجمعہ ۱۰)
بندہ گنہگار ہے مگر جب وہ عجز و انکساری کے ساتھ رجوع الی اﷲ ہوجاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنے بندے کی مغفرت فرمادیتا ہے ۔ وہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت فرماتا ہے۔ ’’رحمت حق بہانہ می جوید‘‘ … ’’اﷲ کی رحمت بہانہ مانگتی ہے ‘‘… دشمن کے مقابلے میں کوئی بڑی سی بڑی چیز کوئی بڑی سے بڑی قوت انسان کیلئے اُتنی کارآمد نہیں ہوتی جتنی اﷲ تعالیٰ سے امداد کیلئے بندہ عاجزی و انکساری کے ساتھ اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہے ۔ جب بندہ صدق دل سے خداوند کریم کے حضور روروکر گڑگڑاکر مدد کا طالب ہوتا ہے تو رحمتِ خداوندی کو جوش آجاتا ہے اور وہ اپنے بندہ کی فریاد ضرور سُن لیتا ہے ۔ صبر اور نماز یہ دونوں ایک نسخۂ کیمیا کا درجہ رکھتے ہیں ۔ صبر وہ بے بہا نعمت ہے جو انسان کو مصائب و مشکلات میں ثابت قدم رکھتی ہے ۔ صبر کے اصلی معنی ہیں اپنے نفس کو روکنے اور مشکلات میں اپنے نفس پر قابو رکھنے کے ۔ نماز اور تمام عبادات صبر ہی کے جزئیات ہیں۔ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو صبر کا مکمل نمونہ ہے ۔ صبر کے نتیجہ میں انسان کو حق تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ سے مدد مانگنا اور مصائب و آفات کا ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہی کامیابی کی کلید ہے۔ جب ظلم کی انتہا ہوجاتی ہے تو قدرت غضبناک ہوجاتی ہے اور جب اﷲ کا غضب نازل ہوگا تو ظالموں کا خاتمہ ہوجائیگا۔ مسلمانوں کو حالات حاضرہ سے خوفزدہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے آپ کو اﷲ کے حضور رجوع کریں اور اُس سے ظلم کے خاتمہ کیلئے دعائیں مانگیں ۔ سلطنتیں ظلم سے ختم ہوجاتی ہیں اگر حکومت رعایا پر ظلم کرے تو مظلوموں کی آہوں کی تاثیر سے بہت جلد ایسی حکومت کا خاتمہ ہوجائیگا ۔

TOPPOPULARRECENT