Sunday , October 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / صحابہ کرام ؓ … جن کا مسلک تھا طواف رُخ زیبا کرنا

صحابہ کرام ؓ … جن کا مسلک تھا طواف رُخ زیبا کرنا

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس رات مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی، اس رات کفار اور مشرکین مکہ ننگی تلواریں لئے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ اللہ تعالی نے جب آپ کو ہجرت کا حکم دیا تو اس وقت تک اکثر مسلمان مدینہ ہجرت کرچکے تھے، تاہم ابھی تک حضرت علی مرتضی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما نے ہجرت نہیں کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوچا کہ حکم خداوندی کی تعمیل میں ہجرت کرنے سے قبل اپنے پاس پڑی ہوئی لوگوں کی امانتیں کسی کے سپرد کرجاؤں۔ آپ کی نگاہ انتخاب حضرت علی رضی اللہ عنہ پر پڑی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا کہ ’’میں مدینہ ہجرت کرنا چاہتا ہوں، تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ، میرے پاس کچھ لوگوں کی امانتیں ہیں، تم یہ امانتیں انھیں واپس کرکے بعد میں آجانا‘‘۔ اس رات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر مبارک کافروں کی تلوار کے نشانہ پر تھا۔ آپ کے بستر مبارک پر سونا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جان قربانے کے مترادف تھا۔
حضرت امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’التفسیر الکبیر‘‘ اور حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی نے ’’احیاء العلوم‘‘ میں بیان کیا ہے کہ ہجرت کی شب حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کو اپنے بستر مبارک پر سلاکر چلے گئے تو اللہ تعالی نے حضرت جبرئیل و حضرت میکائیل علیہما السلام سے فرمایا کہ ’’دیکھو! علی (رضی اللہ عنہ) میرے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جان فدا کر رہا ہے، جاؤ جاکر ساری رات اس کی حفاظت کرو‘‘۔ چنانچہ بحکم خداوندی دونوں فرشتے آئے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام سر کی طرف اور حضرت میکائیل علیہ السلام پاؤں کی طرف کھڑے ہو گئے اور حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے بلند آواز سے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرما رہے تھے ’’اے ابن ابی طالب! آج تیرے جیسا کون ہے؟ اللہ تعالی فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرما رہا ہے‘‘۔ اور یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ’’اور لوگوں میں سے ایک وہ ہے، جو اپنی جان اللہ کی رضامندی کے لئے بیچتا ہے‘‘۔

ہجرت مدینہ کی شب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر مبارک پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سونا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حد درجہ ایثار، شجاعت اور جواں مردی کا مظہر ہے۔ مگر ہجرت ہی کی شب اگر حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ایثار دیکھیں تو وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں سفر کرنا، کفار و مشرکین مکہ کے نزدیک ایک ایسا جرم تھا، جس کی سزا بہرحال شہادت ہی تھی۔ کتب حدیث میں آتا ہے کہ جب ہجرت مدینہ کا حکم آیا اور اکثر مسلمان مدینہ ہجرت کرچکے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی مدینہ منورہ جانے کی تیاری کرلی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ’’تم ذرا ٹھہرو! کیونکہ مجھے بھی اجازت ملنے کی امید ہے‘‘۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے ’’میرے ماں باپ پر قربان، کیا آپ کو بھی ہجرت کی امید ہے؟‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہاں‘‘۔ پس حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی خاطر اپنے آپ کو روکے رکھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس دو اونٹنیاں تھیں، آپ انھیں چار ماہ تک کیکر کے پتے کھلاتے رہے۔ (صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وصحابہ الی المدینہ)

TOPPOPULARRECENT