Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / صحابہ کرام ؓ کی ہجرت سے کفار مکہ اندیشوں میں گرفتار تھے

صحابہ کرام ؓ کی ہجرت سے کفار مکہ اندیشوں میں گرفتار تھے

آئی ہرک کا’۱۲۶۰‘ واں تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ‘پروفیسرسید محمدحسیب الدین حمیدی کے لکچرس
حیدرآباد ۔۱۶؍جولائی( پریس نوٹ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اجازت سے صحابہ کرام نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ مسلمانوں کی ہجرت کے باعث قریش مکہ اندیشوں میں گرفتار ہو گئے۔ مدینہ پہنچ کر مسلمانوں کی ترقی، ثروت، مذہبی آزادی، سیاسی وحدت، عسکری قوت، اسلام کے فروغ، مکہ کے تجارتی راستوں کی ناکہ بندی کا اندیشہ وغیرہ جانے کتنے تصورات تھے جو انہیں مضطرب کئے تھے۔ اب صورتحال یہ تھی کہ اگر حضور اقدسؐ کو قریش زبردستی مکہ میں روکتے تو یہ خطرہ لاحق تھا کہ کہیں اہل مدینہ اپنے رسول کی خاطر صف آراء ہو کر مکہ پر ہلہ نہ بول دیں۔ان تمام خطرات کا کامیاب حل ڈھونڈنے تمام قبائل قریش کے نمائندوں نے مکہ کے مشہور مکان ’’دار الندوہ‘‘ میں اجلاس منعقد کیا۔دارالندوہ کو حضرت قصی بن کلاب نے قائم کیا تھا جہاں قریش کے جملہ معاملات پر مشورہ ہوا کرتا تھا ۔ اس اجلاس کا مقصد محض حضورؐ کو شہید کر دینے کی تدابیر پر غور اور فیصلہ پر مشتمل تھا۔ اس اجلاس میں شیطان، نجد کے ایک بوڑھے کے بھیس میں شامل ہو ا تھا۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح ۹ بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’۱۲۶۰‘ویں تاریخ اسلام اجلاس میں واقعات ہجرت مقدسہ کے معظم و مکرم موضوع پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔اہل علم حضرات اور باذوق سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔صاحبزادہ سید محمد علی موسیٰ رضا قادری حمیدی نے خیر مقدمی خطاب کیا۔مولانا مفتی سید محمد سیف الدین حاکم حمیدی کامل نظامیہ و معاون ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک آیت جلیلہ کا تفسیری مطالعاتی مواد پیش کیا۔پروفیسرسید محمد حسیب الدین حمیدی جائنٹ ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک حدیث شریف کا تشریحی اور ایک فقہی مسئلہ کا توضیحی مطالعاتی مواد پیش کیا بعدہٗ انھوں نے انگلش لکچر سیریز کے ضمن میں حیات طیبہؐ کے مقدس موضوع پراپنا ’۹۹۳‘ واں سلسلہ وار لکچر دیا۔ مولانا سید محمد رضی الدین قادری حسان حمیدی پروفیسر(اسسٹنٹ ) عر عر یونیورسٹی نے تعارفی خطبہ دیا۔ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے بتایا کہ دارالندوہ کے اس اجلاس میں سرگرم مباحث کے بعد مکہ کے سب سے بڑے فتنہ گر ابو جہل کی تجویز کو تمام ارکان نے بالاتفاق منظور کر لیا کہ ہر قبیلہ سے ایک منتخب جوان تیز تلوار لے کر حضورؐ کے کاشانہ اقدس کو گھیر لیں اور جب حضورؐ صبح کی نماز کو باہر نکلیں تو جوان ایک ساتھ اپنی تلواروں سے حضورؐ پر وار کریں۔ چوں کہ اس میں سب قبائل شامل ہوں گے لہذا بنی ہاشم و بنی عبد المطلب اس کا بدلہ نہ لے سکیں گے اور نہ حضورؐ کے ماننے والے کچھ کر سکیں گے۔ شیخ نجد کے بھیس میں شامل شیطان نے ابو جہل کی اس تجویز پر سب سے پہلے حامی بھری اورکفار قریش کے تمام سرغنوں نے اس کو منظوری دے دی۔دار الندوہ میں رسول اللہؐ کے خلاف مشاورت اور قرارداد کی منظوری کے لحاظ سے اس دن کا نام ’’یوم الزحمہ‘‘ رکھا گیا۔ڈاکٹر شرفی نے بتا یا کہ رسول اللہ ؐ کی بارگاہ میں حضرت جبرئیلؑ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضورؐ کیلئے ہجرت کا فرمان و اجازت لے کر آئے۔جب رات کا اندھیرا ہوا تو قریش کے منتخب جوان حجرہ شریف کے دروازے پر جمع ہونے لگے اور حضورؐ پر حملہ کرنے موقع کا انتظار کرنے لگے۔حضور اقدسؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ ’’تم میرے بستر پر لیٹ جائو، میری یہ چادر اوڑھ لو اور اسی چادر میں استراحت کرو‘‘۔رسول اللہؐ جب بھی استراحت کرتے تو ہمیشہ اسی چادر کو اوڑھنا معمول رہا۔ اجلاس کے اختتام سے قبل بارگاہ رسالت پناہیؐ میں سلام تاج العرفاءؒ پیش کیا گیا ذکر جہری اور دعاے سلامتی پر آئی ہرک کا’۱۲۶۰‘ واں تاریخ اسلام اجلاس اختتام پذیر ہوا۔الحاج محمد یوسف حمیدی نے ابتداء میں تعارفی کلمات کہے اور آخر میں شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT