Saturday , March 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / صحابہ کرام صوفی ہی تھے لیکن کہلاتے صوفی نہ تھے

صحابہ کرام صوفی ہی تھے لیکن کہلاتے صوفی نہ تھے

…گزشتہ سے پیوستہ …
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ شریعت کے مقابلہ میں مشرب پیر بھی کوئی چیز نہیں ۔ چنانچہ فرماتے ہیں :
(مشرب پیر) … حجت نمی شود ، دلیل از کتاب وحدیث می باید
(پیر کامشرب ) … کوئی دلیل نہیں، دلیل قرآن و حدیث سے ہونا چاہئے ۔
صوفیہ کا یہ عقیدہ اور مسلک رہا ہے کہ جس عمل کو کتاب و سنت مسترد کردیں وہ زندقہ ہے ۔ جس شخص کی زندگی شریعت و طریقت کے مطابق نہ ہو تو اس کو صوفیہ میں شمار کرنا ہی غلط ہے   چہ جائے کہ اس کے عمل کو تمام صوفیہ کا عمل تصور کرکے تصوف پر تنقید کی جائے ۔ دراصل تصوف پر ساری مصیبت اُن ہی غلط کار ، نام نہاد ، جاہل صوفیوں ہی کی وجہ سے آئی ہے جنھوں نے اپنی کم علمی اور کم نگاہی سے قطع و برید کرکے تصوف کا حلیہ ہی بگاڑ دیا اور تصوف کو طعن و تشنیع اور تنقید کا نشانہ بنوادیا ۔ چنانچہ جو کام مسجدوں میں ہونے کے ہیں آج وہ مقبروں میں ہورہے ہیں اور جو کام مقبروں میں ہونے کے ہیں وہ مسجدوں میں ہورہے ہیں ۔
ہماری اس طویل گفتگو کے بعد اگر کسی کو یہ اعتراض ہو کہ قرآن و سنت میں تصوف کے لفظ تک کا وجود نہیں تو پھر درمیان میں یہ کہاں سے آن ٹپکا اور اس طرح آن ٹپکا کہ دین کا روح رواں بن گیا ؟
تو اس کی تاریخ یہ ہے کہ عہد رسالت میں اگرچہ تصوف کا لفظ نہیں تھا لیکن اس کی روح اور حقیقت پوری طرح جلوہ گر تھی ۔ تمام صحابہ کرام صوفی ہی تھے لیکن کہلاتے صوفی نہ تھے ، کیوں کہ صحابیت کے اعلیٰ ترین شرف کے بعد ان کو کسی اور لفظ سے منسوب کرنا لغو ہوتا ۔
اس بات کو اس طرح سمجھیں کہ ایک شخص پی ایچ ڈی ہے تو کیا تم اس کے متعلق یہ بھی بتاؤ گے کہ وہ میٹرک ، انٹر ،    بی اے یا ایم اے پاس بھی ہے؟
یا کوئی جامعہ نظامیہ کا کامل ہے تو کیا تم اس کے متعلق یہ بھی بتاؤ گے کہ وہ مولوی ، عالم یا فاضل بھی ہے ؟
اسی طرح جب ہم کسی کو صحابی کہتے ہیں تو یہ بات (Understood) پہلے سے مانی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ صوفی بھی ہے ، متقی اور پرہیزگار بھی ہے ، دیندار اور امانت دار بھی ہے ، خداترس اور رضا جو بھی ہے وغیرہ وغیرہ کیوں کہ یہ سارے مقامات و مراتب صحابیت سے فروتر ہیں۔
جہاں تک لفظ صوفی کا تعلق ہے علماء اور صوفیہ نے اس کے ماخذ میں اختلاف کیا ہے ۔ چنانچہ اس کے مندرجہ ذیل مآخذ بتائے گئے ہیں :
۱۔   صفا :  پاکیزگی اور صفائی قلب
۲۔  صفہ :  اہل صفہ ، عہد رسالت کے وہ لوگ جو ہمہ وقت مسجد نبویؐ میں تعلم و تعلیم اور عبادت میں مشغول رہتے تھے ۔
۳۔  صف : یعنی وہ لوگ جو ہمیشہ صف اول میں نماز ادا کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔
۴۔   صوفہ : ایک قدیم قبیلہ جو خانۂ کعبہ کا خادم ہوا کرتا تھا ۔
۵۔   صوف : پشمینہ یعنی اونی کپڑا۔
اس کے علاوہ اور بھی مآخذ بتائے گئے ہیں لیکن وہ انتہائی دورازکار ہیں۔ مذکورہ مآخذ کا تجزیہ کرکے دیکھ لیجئے تو صاف نظر آتا ہے کہ ان میں صرف ’صوف‘ کے علاوہ کوئی لفظ بھی صوفی کا ماخذ بننے کے قابل نہیں ہے۔ مثلاً صفا سے صفوی ہوگا ۔ صوفی نہیں ہوسکتا ۔ صفہ سے صفّی ہوگا صوفی نہیں ہوسکتا ۔ صرف ’صوف‘ ہی صوفی کا ماخذ ہوسکتا ہے ۔ کیوں کہ صوف کے معنی ہیں پشمین یا پشمینہ اور لغت میں اس کے معنی لکھے ہیں : پارچہ یا جامہ کہ از پشم بافتہ باشد ۔چنانچہ آج بھی ایران اور فارس میں صوفی کو پشمینہ پوش کہا جاتا ہے یعنی کسے کہ جامہ پشمی برتن کند ۔ یعنی وہ شخص جو اونی کپڑا پہنتا ہو۔
یہ اونی کپڑے کا قصہ یہ ہے کہ بیشتر انبیائے کرام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اونی کپڑا پہنتے تھے ۔ گویا یہ انبیائے کرام کا عام پیرہن تھا ۔ عہد رسالت سے پہلے ہمیں ایک شخص کا تذکرہ ملتا ہے کہ وہ مکہ سے باہر کا رہنے والا تھا ، اس کا لباس اونی ہوتا تھا وہ مکہ آتا تھا اور خانۂ کعبہ کا طواف کرکے چلا جاتا تھا ۔ لوگ اس کو اس کے لباس کی وجہ سے صوفی کہنے لگے تھے ۔ ہوسکتا ہے یہ بندۂ خدا انبیاء کرام کی سنت سمجھ کر ہی یہ لباس پہنتا ہو۔ اس سے زیادہ اس شخص کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بہرحال عہد رسالت سے پہلے صرف یہی ایک شخص تھا جس کو صوفی کہا جاتا تھا ۔ عہد رسالت کے بعد دوسری صدی ہجری میں شیخ ابوہاشم کوفیؒ نے اونی لباس اختیار کیا ، چنانچہ تاریخ اسلام کے یہ وہ بزرگ ہیں جن کے لئے سب سے پہلے لفظ صوفی استعمال ہوا ہے ۔ چنانچہ ان کے بعد یہ لباس طبقہ زہاد اور تارک الدنیا حضرات میں عام ہوگیا اور انھوں نے یہ لباس فقر و توکل اور عجز و انکسار کے لئے ہی اس کو اختیار کیا تھا اور صوفی کہلاتے تھے اور ان کا علم ’تصوف ‘ کہلایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تصوف کا لفظ عہد رسالت کے بعد سامنے آیا لیکن اس کی حقیقت اور روح عہد رسالت میں بھرپور طریقے سے موجود تھی ۔ قرآن و سنت اور عہد رسالت میں جو الفاظ تزکیہ اور احسان کہلاتے تھے وہی بعد میں حاملین تزکیہ و احسان اپنے لباس کی وجہ سے صوفی کہلائے اور تزکیہ و احسان کے لئے تصوف کی اصطلاح استعمال ہونے لگی ۔ اس طرح تصوف کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی چیز ہے جو عہد رسالت میں تزکیہ و احسان کے نام سے متعارف تھی ۔                                …جاری ہے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT