Friday , August 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / صحابیات اورکسب معاش کی جدوجہد

صحابیات اورکسب معاش کی جدوجہد

اسلام نے ایک ایسے نظام خاندان کی بنیادرکھی ہے، جس میں مردکی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بیرون خانہ ذمہ داریوں کو نبھاے اورخاتون اندورن خانہ کا نظم وانتظام سنبھالے ،کسب معاش مردوں کی ذمہ داری ہے خواتین کی نہیں ،اسلام نے بیوی اوربچوں کے مالی حقوق اداکرنے اوران کی بنیادی ضرورتوں کو پوراکرنے کا مردکو پابندکیا ہے ،خواتین پر اسلام کا یہ بڑااحسان ہے کہ اس نے خواتین کو معاشی جدوجہدسے بے نیاز رکھا ہے ،خواتین کو نہ تو کسی اورکی ضروریات کا کفیل بنایا گیاہے نہ ہی خود اس کی ضروریات کا ،یہاں تک کہ وہ بیوہ یا مطلقہ ہوجائے تب بھی اس کی بنیادی ضروریات کی تکمیل اس کے بیٹے یا بھائیوں پر ڈالی گئی ہے،خاند ان کے کوئی افراد موجودنہ ہو ں تو حکومت وقت اس کی ذمہ داررہے گی،الغرض عام حالات میں خاتون خانہ پر کسب معاش کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ،لیکن شوہرکے معاشی حالات کمزورہوں توتعاون کی بنیادپر حدودشریعت میں رہتے ہوئے بیوی اگراندورن خانہ یا شدید ضرورت کی بناپر بیرون خانہ حدودشریعت میں رہتے ہوئے کسب معاش کا کوئی ذریعہ اختیارکرنا چاہے تو شرعا اس کی گنجائش ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ نکاح نہ ہواہو توولی کی اجازت اورنکاح ہوگیا ہو تو شوہر کی اجازت حاصل ہو ،اندورن خانہ سلائی ، کڑائی ،دست کاری یا ایسی اشیاء جن کا گھرمیں رہتے ہوئے تیارکرنا آسان ہو ،معاشی سہولتوں کے لیے ان جیسے کاموں کو اختیارکیا جاسکتاہے۔ بیرون خانہ کسی معاشی ذریعہ کواختیارکرنا ناگزیرہو تو دواخانوں میں خاتون مریضوں کا علا ج ومعالجہ یا ان کی تیمارداری وغیرہ یا زنانی درسگاہوں میں بچیوں کی تعلیم وتربیت ودیگرایسے پیشے اختیارکرسکتی ہیں ،حصول معاش کیلئے ایسے اداروں میں خدمات انجام دینا جہاں مردوں اورخواتین کا اختلاط ہو اسلامی نقطئہ نظرسے ناجائزہوگا،چونکہ یہ بہت بڑے مفسدہ کا پیش خیمہ ہے ،اسلامی احکام کی پا سداری نہ کرکے مخلوط اداروں میں خواتین کی حصہ داری نے جوگل کھلائے ہیں معاشرہ اس کے نقصانات کا خمیازہ بھگت رہا ہے ۔

خاندان کی مددکیلئے کسی کسب وپیشہ اختیار کرنے کی ضرورت نہ ہو تب بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرنے اورکارہائے خیرانجام دینے کا جذبہ ایک فطری امرہے ،اس جذبہ خیرکی تسکین کیلئے اندون خانہ رہتے ہوئے خاتون خانہ کا صنعت وحرفت وغیر ہ کا اختیار کرنا امرمباح ہے ،جبکہ شوہر بھی اس پر رضامندہو اور اس کی وجہ شوہراور بچوں کے حقوق کے ادائیگی میں کوئی حرج واقع نہ ہورہا ہو ،صنعت وحرفت کے شعبہ میں باصلاحیت خواتین اندورن خانہ رہتے ہوئے یا بیرون خانہ شرعی حدود کی پاسداری کے ساتھ خاندانی و سماجی ترقی میں اپنا نمایاں رول اداکرسکتی ہیں ۔ اس کا فائد ہ یہ ہو گا کہ خواتین اپنی نسلوں کی تعلیم وتربیت باآسانی کرسکیں گی، اوران کو کسب معاش کے لیے کسی ہنرکے سکھانے میں مددگارثابت ہو سکیںگی ، قرآن کریم میں حضرت موسی علیہ السلام کے واقعہ کے ضمن میں حضرت شعیب علیہ السلام کی دوبیٹیوں کا بیرون خانہ کام کرنے کا ذکر ملتاہے، حضرت شعیب علیہ السلام چونکہ ضعیف ہو چکے تھے اس لیے ان کی بیٹیاں اپنے جانوروں کو سیراب کرنے لیے کنویں کے پا س جایا کرتی تھیں
حضرت جابررضی اللہ عنہ کی خالہ مطلقہ تھی، وہ اپنے باغ کے درختوں سے کھجورتوڑنے کی خواہش مند ہوئی تو آپ ﷺ نے ان کو اجازت مرحمت فرمائی اورفرمایا کہ شائد تم اس سے صدقہ کرسکو یا کوئی خیر کا کام انجام دے سکو‘‘( مسلم ۱۰/۱۰۸،رقم الحدیث ۱۴۸۳)۔ حضر ت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک باندی تھی جوبکریوں کو سلع پہاڑی کے پا س چرایا کرتی تھی ،ایک دن بکری کو کچھ ہوگیا تو اس باندی نے اس بکری کو ایک تیز پتھرسے ذبح کردیا ،حضر ت بنی پا ک ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کا گوشت کھانے کی اجازت دے دی۔ (بخاری :۵/۲۰۹۵،رقم الحدیث ۵۱۸۳)

ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں آتا ہے کہ وہ سات غزوات میں شریک ہوئی۔ وہ ان کے لیے کھانا بناتی، زخمیوں کی مرہم پٹی اور مریضوں کی دیکھ بھال بھی کیا کرتی تھی ۔(مسلم ۱۲/۱۹۴،رقم الحدیث ۱۸۱۲)ربیع بنت معوذرضی اللہ عنہا کابھی شریک غزوہ ہونا اور مجاہدین کی خدمت کرنا اورمقتولین اورزخمیوں کو مدینہ پاک لے آنے کے کام میں شرکت کرنا ثابت ہے ۔(بخاری ۳/۱۰۵۴،رقم الحدیث :۲۷۲۷)۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رفیق حیات حضرت زینب رضی اللہ عنہا کوئی ہنرجانتی تھی، اوراس سے ان کو مال حاصل ہوتا تھا،انہون نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ !میں اپنے ہنرسے کچھ کمالیتی ہوں ،اس کے علاوہ کوئی ذریعہ روزگارمیرے ،میرے شوہراورمیرے بچوں کے لیے نہیں ہے ،تو آپ ﷺ نے فرمایا’’ جوکچھ تم ان پر خرچ کرواس میں تمہارے لیے اجرہے‘‘۔(مسلم ۷/۸۷،رقم الحدیث ۱۰۰) حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے حضرت نبی پاک ﷺ کو بزمانہ رضاعت دودھ پلایا تھا ،اورعربوں کے ہا ں اس طرح کا دستورتھا کہ دیہا ت میں رہنے والی خواتین شہرمیں رہنے والے خوشحال خاندانوں کے بچوں کو دودھ پلایا کرتی تھیں ،ظاہر ہے اس سے مقصودبھی معاشی احوال ہی کی سدھارتھی ،ایک خاتون کپڑابننے کا فن جانتی تھی اس نے ایک چادربنائی اورعرض کی یا رسول اللہ !  اس چادرکومیں اپنے ہاتھ سے بنائی ہوں ،اورنبی پاک ﷺ کو اس نے یہ چادربطورہدیہ پیش کی ،آپ ﷺ نے اس کو قبول فرمایا ۔(بخاری ۱/۱۸۲)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بارے میں آتا ہے کہ وہ ہنرمندخاتون تھیں ،چمڑے سے مختلف اشیاء تیارکرتی اورموتیوں کے ہا ر بھی بنایا کرتی تھیں، ان کا معمول یہ تھا کہ اس سے ہونے والی آمدانی کو اللہ کے راستہ میں خرچ کیا کرتی تھیں۔(عورت اورکاروان دعوت ۵۵)حضر ت سہل بنت سعد ایک ایسی خاتون کا ذکرفرماتی ہیں جو کھیتی باڑی کیا کرتی تھی اورپانی کی نالیوں کے آس پا س چقندرکی کا شت کیا کرتی تھی ۔(بخاری ۱/۲۲۳،رقم الحدیث :۹۳۸)قیلہ نامی ایک صحابیہ نے تجارت کے مسائل دریافت کرتے ہوئے عرض کیا کہ میں مختلف اشیا ء کی خریدوفروخت کرتی ہو ں ۔(طبقات ابن سعد۸/۲۲۸)اسماء بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے فرزندعبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ یمن سے عطرروانہ کرتے تھے ،اوریہ اس کی تجارت کرتی تھی (طبقات ابن سعد۸/۲۲۰)۔حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کا اندون خانہ رہتے ہوئے تجارت کرنا ثابت ہے،نکاح سے پہلے آپ ﷺ ان کا مال تجارت کے غرض سے اورمقامات پرلے جایا کرتے تھے۔ حضرت شفاء بنت عبیداللہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہا ں تھی اورآپ ﷺ تشریف لائے تو فرمایاجیسے تم نے ان کو کتابت سکھائی ہے ویسے ہی ڈنک کا جھاڑپھونک بھی سکھا دو (ابوداؤد،النسائی)۔حضرت زینب رضی اللہ عنہا جو حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کی زوجہ تھی دھاگا کاتا کرتی تھی ،اوراپنی گھروالوں کی ضروریات پوراکرتی تھی ،امہات المومنین میں حضر ت زینب رضی اللہ عنہا دباغت کا فن جانتی تھیں، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرما تی ہیں کہ حضر ت زینب ہم میں زیادہ سخی تھی ،بڑے کھلے ہا تھ والی تھی صدقہ وہ خیرات کیا کرتی تھی(مسلم رقم الحدیث:۶۲۶۹)۔ان نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ بوقت ضرورت صحابیات کاشتکاری اوربکریوں کے چرانے کی ذمہ داری، غزوات میں شریک مجاہدین کی کھانے پینے، علاج ومعالجہ ومرہم پٹی وغیرہ کی ذمہ داری بھی اداکرتی رہی ہیں ۔اسی طر ح موجودہ دورمیں اگر خواتین پڑھی لکھی ہو ںتو قرآن کی تعلیم یا کسی اورمضمون کی تعلیم اپنے گھرمیں رہ کر دے سکتی ہیں ۔اوراگروہ کوئی ہنر جیسے سیناپرونا،کشیدہ کاری ،مہندی ڈیزائن وغیرہ جانتی ہیں یا کوئی صنعت وحرفت سے واقفیت رکھتی ہیں تو اس کو اورں کو سکھانے اوراس کو تحصیل معاش کا ذریعہ بنا سکتی ہیں ۔ اسلام عورتوں کو کام کرنے سے منع نہیں کرتا یہا ں تک کہ ان کو خریدوفروخت وغیرہ کا پوراپورا حق  دیتا ہے ،لیکن شرط یہ ہے وہ اس حق سے استفادہ کرنے میں احکام شرع کو ملحوظ رکھیں (الموسوعۃ الفقہیہ ۷/۸۲) ۔شرعی حدود میں رہتے ہوئے خواتین کوئی جائز کسب وپیشہ اختیارکرسکتی ہیں،صنعت وحرفت میں مہارت حاصل کرکے اپنی ماہرانہ خدمات سے اپنے خاندان کے ساتھ خلق خداکوفائدہ پہنچاسکتی ہیں ،خواتین اپنی ملکیت ،دولت پر اپنے تصرف کی مختارہیں ،اس میں وہ شوہرکی اجازت کی محتاج نہیں ۔
تعلیم وتربیت کے میدان میں یا فکروعمل کی جولان گاہ میں دائرہ شریعت میں رہتے ہوئے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کارلاکرسماج ومعاشرہ کی ترقی میں حصہ داربن سکتی ہیں ،اسی طرح زراعت ،تجارت اورکسی صنعت وحرفت کے شعبہ سے وابستہ ہو کر وہ اگرخودفائدہ اٹھا تی ہیں اورخلق خداکوفائدہ پہنچاتی ہیں تواسلام اس کی اجازت دیتاہے ۔

TOPPOPULARRECENT