Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / صحافت کے اُفق پر انقلاب، انگریزی ہفت روزہ ’سیاست‘ کی رسم اجراء

صحافت کے اُفق پر انقلاب، انگریزی ہفت روزہ ’سیاست‘ کی رسم اجراء

مسابقتی دور سے نوجوانوں کو ہم آہنگ کرنے کی ستائش : محمد محمود علی۔ انگریزی ہفت روزہ کو چند برسوں میں روزنامہ میں تبدیل کرنے کا عزم : جناب زاہد علی خاں

٭  ادارۂ سیاست کی جانب سے مسلم نوجوانوں کی فنی تربیت کے آغاز کیلئے جائیداد خرید لی گئی ہے ۔ بہت جلد اس زمین پر تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز عمل میں آئے گا جہاں مسلم نوجوانوں کو مختلف فنون میں تربیت کرتے ہوئے ہنر مند بنانے کیلئے سرگرمیاں چلائی جائیں گی تاکہ ملت کے معاشی مسائل کو حل کرنے کے علاوہ بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے عملی طور پر اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے
٭  معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کیلئے سیاست کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیںاور عوام جوق در جوق ان تحریکوں سے وابستہ ہورہے ہیں۔ فی زمانہ ضعیف افراد کیلئے اولڈ ایج ہوم کی اشد ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے سیاست نے بہت جلد اس سلسلے میں بھی پیشرفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اولڈ ایج ہوم کے قیام کیلئے عملی طور پر اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے۔
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد 15 اکٹوبر ۔ حکومت تلنگانہ ادارہ سیاست کی مشکور ہے چونکہ ادارہ سیاست کی جانب سے فلاحی اسکیمات کے متعلق جو شعور بیداری مہم چلائی جاتی ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ حکومت کی جانب سے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے نہ صرف بی سی کمیشن کی تشکیل پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے گا۔ جناب الحاج محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ نے آج انگریزی ہفت روزہ سیاست کی رسم اجراء تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ اُنھوں نے بتایا کہ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی یقینی ہے اور اندرون5  سال اِس عمل کو بہرصورت مکمل کرلیا جائے گا۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست کی زیرصدارت منعقدہ انگریزی ہفت روزہ سیاست کی رسم اجراء تقریب میں جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن پارلیمنٹ، جناب محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل، جناب ظہیرالدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست، جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ جناب محمد محمود علی نے کہاکہ حکومت تلنگانہ کی تشکیل ہوئے16  ماہ کا عرصہ گزرا ہے اور اِن 16 مہینوں میں کافی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ تلنگانہ کے مسلمانوں میں اعتماد پیدا ہوا ہے جس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہورہا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ ایک مسلم دوست قائد ہیں اور وہ حیدرآباد کے علاوہ مسلم تہذیب سے آشنا ہیں۔ اسی لئے وہ ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کی ترقی کے متعلق ہمہ وقت متفکر رہتے ہیں۔ جناب محمد محمود علی ادارہ سیاست کی کارکردگی کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ اخبار سیاست ہمیشہ حق گوئی و بے باکی کا عکاس رہا ہے۔ اُنھوں نے ادارہ سیاست کے زیراہتمام شائع کئے جانے والے انگریزی ہفت روزہ کو ہر گھر تک پہونچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ نوجوانوں کے مسائل کے حل اور اُن کی رہبری کے لئے ایک زیرانتظام انگریزی اخبار کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست کی جانب سے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے بی سی کمیشن کی تشکیل کیلئے نمائندگی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جناب محمد محمود علی نے 12% تحفظات پر کہا کہ چیف منسٹر جناب کے چندر شیکھر راؤ صاحب اس مسئلہ پر سنجیدہ ہیں، البتہ عام انتخابات میں یہ اُمید کی جارہی تھی کہ مرکز میں مخلوط حکومت قائم ہوگی جس کے بعد ہم اس میں حصہ دار بنتے ہوئے 9 ویں شیڈول میں ترمیم کرواکر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن اب جبکہ مرکز میں بی جے پی کی اکثریتی حکومت قائم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے 12% تحفظات کی فراہمی میں وقت لگ رہا ہے۔ اُنھوں نے آندھرائی حکمرانوں کی جانب سے کی گئی ناانصافیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ آندھرائی حکمرانوں نے مسلمانوں میں احساس کمتری پیدا کیا جس کی وجہ مسلمان پسماندگی کا شکار ہوچکے ہیں۔ جناب محمد محمود علی بانی سیاست جناب عابد علی خاں مرحوم اور جناب محبوب حسین جگر مرحوم کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ 1948 ء میں پولیس ایکشن کے بعد مسلمان متنفر ہوچکے تھے جن میں حوصلہ پیدا کرنے کے لئے بانیان سیاست نے ایک تحریک کا آغاز کیا جو بڑی حد تک کامیاب ثابت ہوئی۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے انگریزی ہفت روزہ کو انگریزی صحافت میں آگے بڑھنے کی جانب پہلا قدم قرار دیتے ہوئے کہاکہ بہت جلد ادارہ سیاست انگریزی صحافت میں روزنامہ کے آغاز کے لئے سنجیدہ ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ جناب عابد علی خاں مرحوم نے پولیس ایکشن کے بعد پیدا شدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اخبار سیاست کی بنیاد ڈالی اور مسلمانوں میں یہ اعتماد پیدا کیاکہ اُن کا مستقبل ہندوستان میں پاکستان سے زیادہ تابناک ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ انگریزی اخبار کی ضرورت کو 1980 ء کے دہے سے محسوس کیا جارہا تھا اور اِس سلسلہ میں جناب سید حامد وائس چانسلر علیگڑھ یونیورسٹی نے ایک تحریک بھی شروع کی تھی جس کا مثبت ردعمل آنے کے باوجود وہ اخبار نہیں نکالا جاسکا لیکن اب سیاست نے اپنے انٹرنیٹ کے 24 لاکھ قارئین کی تعداد اور اُن کی جانب سے انگریزی ویب سائٹ پر کئے جانے والے تبادلہ خیال سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے یہ قدم اُٹھایا ہے جس کے بہتر نتائج حاصل ہونے کی قوی اُمید ہے۔ جناب زاہد علی خاں نے تحریک تلنگانہ کے دوران روزنامہ سیاست کے موقف کا تذکرہ کرتے ہوئے سیاست نے تحریک تلنگانہ کی کھل کر تائید کی تھی۔ اُنھوں نے بتایا کہ حیدرآباد کی شناخت عموماً چارمینار، گنڈی پیٹ کا پانی یا پھر بریانی بتائی جاتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حیدرآباد کی شناخت دراصل حیدرآبادیوں کی شرافت ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ جناب محمد محمود علی کو مشورہ دیا کہ وہ مسلم نوجوانوں کے لئے تربیتی پروگرامس کے آغاز کو یقینی بنائیں۔ ایڈیٹر سیاست نے روزنامہ سیاست کے لیتھو پریس سے ملٹی کلر آفسیٹ تک کے سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اُردو اخبارات میں روزنامہ سیاست سب سے پہلا اُردو اخبار ہے جس کے ای پیپر کا آغاز ہوا اور سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس کا افتتاح انجام دیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ اُردو کے ہمدردوں نے جو اخبار شروع کئے وہ وارث نہ ہونے کے سبب بند ہوتے جارہے ہیں لیکن روزنامہ سیاست پر اللہ کا یہ فضل و کرم ہے کہ بانی سیاست نے اِس اخبار کی ذمہ داری مجھے تفویض کی اور اب میں یہ ذمہ داری نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کے حوالہ کئے ہوئے ہوں اور توقع ہے کہ عامر علی خاں کے فرزند بھی اِس میدان میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT