Monday , April 24 2017
Home / شہر کی خبریں / صحافی ، ملت کا حقیقی رہنما ، قلم اس کی طاقت

صحافی ، ملت کا حقیقی رہنما ، قلم اس کی طاقت

کالم نگار سیاست جناب غضنفر علی خاں کی کتاب کی رسم اجراء
جناب عامر علی خاں ، پروفیسر ایس اے شکور اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 14 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : صحافت کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں جب تک ہاتھ میں قلم ہے وہی آپ ( صحافی ) کی سانسیں ہیں ۔ صحافت ایک ایسا دریا ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے بزرگ صحافی اور سیاست کے کالم نگار جناب غضنفر علی خاں کی کتاب ’ میرا پیغام محبت ہے ، جہاں تک پہنچے ‘ کی رسم اجراء انجام دینے کے بعد اپنے خطاب میں کیا ۔ اس موقع پر جناب غضنفر علی خاں کے ارکان خاندان ، دوست احباب اور صحافیوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ جناب عامر علی خاں نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 20 سال قبل حیدرآباد میں مشاعرہ پڑھتے ہوئے منظر بھوپالی نے ایک شعر یوں کہا تھا :
کہدو میر و غالب سے ہم بھی شعر کہتے ہیں
وہ صدی تمہاری تھی یہ صدی ہماری ہے
لیکن اس شعر کے جواب میں جو شعر آیا تھا وہ یوں تھا :
قبر میر و غالب سے یہ صدائیں آتی ہیں
وہ صدی تو کیا منظر یہ صدی ہماری ہے
چنانچہ اس شعر کے حوالے سے ہم غضنفر صاحب کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ وہ صدی بھی آپ کی تھی یہ صدی بھی آپ کی ہے ۔ جناب عامر علی خاں نے جناب غضنفر علی خاں کی صلاحیتوں کے حوالے سے بتایا کہ وہ جناب عابد علی خاں صاحب مرحوم اور جگر صاحب مرحوم کے ہم عصر ہیں ۔ جناب غضنفر علی خاں جیسی شخصیتیں نوجوان صحافیوں کے لیے ایک مشعل راہ ہیں ۔ ان کے تجربات اور مشاہدات سے بہت کچھ سکھا جاسکتا ہے ۔ سب سے بڑھ کر ڈسپلن ایسی شخصیتوں کی پہچان ہے ۔ جگر صاحب کی طبیعت کے نتیجہ میں سیاست کا ڈسپلن آج بھی مشہور ہے ۔ غضنفر صاحب جیسی شخصیتوں کا تجربہ ، علمی لیاقت ، زبان و بیان پر عبور آج کی نسل میں مفقود ہوتا جارہا ہے ۔ جناب عامر علی خاں نے مزید کہا کہ جناب غضنفر علی خاں نے آزادی کے بعد مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا مشاہدہ کیا ۔ کئی انقلابات دیکھے اور دراصل ان کے مضامین ان تجربات و مشاہدات کا نچوڑ ہے ۔ وہ اپنے مضامین کے ذریعہ معاشرہ کی صحیح سمت میں رہنمائی کرتے ہیں ۔ اپنے خطاب میں نیوز ایڈیٹر سیاست نے مسلمانوں کے لیے 12 فیصد تحفظات سے متعلق سیاست کی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے غضنفر علی خاں سے درخواست کی کہ وہ اپنے مضامین کے ذریعہ اس تحریک کی رہنمائی کریں ۔ ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی تلنگانہ پروفیسر ایس اے شکور نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔ انہوں نے جناب غضنفر علی خاں کے بارے میں کہا کہ وہ ایک ایسے صحافی ہیں جنہیں رہنما ، منصف ، سالار ، سٹیزن اور سیاست تمام اخبارات میں پیار و محبت ملا ہے ۔ وہ سب کے چہتے ہیں ۔ ان کے خیال میں غضنفر علی خاں صحافت کی ایسی واحد شخصیت ہیں جنہیں بلا شبہ غیر متنازعہ کہا جاسکتا ہے ۔ وہ قومی اور بین الاقوامی سیاست اور صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اردو اکیڈیمی کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے اکیڈیمی کے ذریعہ شعرا ، ادباء کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے ۔ جس کا ثبوت خود غضنفر علی خاں صاحب کی یہ کتاب ہے جو اردو اکیڈیمی تلنگانہ کے جزوی مالی تعاون سے شائع ہوئی ہے ۔ پروفیسر شکور نے اس امید کا اظہار کیا کہ قارئین کو غضنفر صاحب کی مزید کتابیں پڑھنے کو ملیں گی ۔ پروفیسر مسعود جعفری نے بڑی خوبصورتی سے نظامت کے فرائض انجام دئیے اور بہترین انداز میں جناب غضنفر علی خاں کی صحافتی خدمات کے بارے میں تفصیلات پیش کی ۔ سب ایڈیٹر سیاست محمد ریاض احمد کی قرات کلام پاک سے تقریب رسم اجرائی کا آغاز ہوا ۔ محمد ریاض احمد نے جناب غضنفر علی خاں کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ایک ایسی عمر میں جب لوگ گھروں تک محدود ہوجاتے ہیں ۔ غضنفر صاحب مسلسل لکھ رہے ہیں اور خوب لکھ رہے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحافتی لحاظ سے وہ ابھی بھی جوان ہیں ۔ ان کے قلم سے نکلنے والا ہر لفظ ملت کی رہنمائی کرتا ہے ۔ فرقہ پرستوں اور امن کے دشمنوں کی کھینچائی کرتا ہے ۔ ملت کی پریشانیوں اور محرومیوں میں آہ و زاری بھی کرتا ہے ۔ جناب غضنفر علی خاں کے قریبی دوست محمد نسیم الدین احمد ، ڈاکٹر کمال اور محترمہ رفیعہ نے بھی اپنے خطاب میں جناب غضنفر علی خاں کی صحافتی زندگی پر روشنی ڈالی اور ان کی تحریروں کو ان کی طاقت قرار دیا ۔ جناب غضنفر علی خاں نے بطور خاص ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب سیاست میں شائع مضامین پر مشتمل ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT