Wednesday , August 23 2017
Home / سیاسیات / صدارتی امیدوار پر اتفاق رائے کیلئے تمام جماعتوں سے بات چیت

صدارتی امیدوار پر اتفاق رائے کیلئے تمام جماعتوں سے بات چیت

ہم جمہوریت کے جذبہ کے تحت کام کرینگے : وینکیا نائیڈو ۔ نئے صدر کی تقریب حلف برداری کی تیاریوں کیلئے کمیٹی مقرر
نئی دہلی 13 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرے گی تاکہ صدارتی امیدوار کے سلسلہ میں ایک وسیع تر اتفاق رائے پیدا ہوسکے اور یہ کام جمہوریت کے حقیقی جذبہ کے مفاد میں ہوگا ۔ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے یہ بات بتائی ۔ وینکیا نائیڈو اس تین رکنی کمیٹی میں شامل ہیں جو کل بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے قائم کی ہے ۔ اس کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ نہ صرف بی جے پی کی حلیف جماعتوں کے ساتھ بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کریں تاکہ مجوزہ انتخابات کیلئے صدارتی امیدوار کے نام کو قطعیت دی جا سکے ۔ اس کمیٹی میں وزیر فینانس ارون جیٹلی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی ارکان کے طور پر شامل کئے گئے ہیں ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ہم نے داخلی مشاورت کا آغاز کردیا ہے ۔ ہماری برسر اقتدار جماعت ہے اور ہم کو سب کو ساتھ لے کر چلنے اور ایک صدارتی امیدوار کے انتخاب کیلئے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہے ۔ ہم اس سلسلہ میں اپوزیشن سے بات کرکے ان سے تعاون کی خواہش کرینگے ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ حکومت یہ کام جمہوریت کے حقیقی جذبہ کے تحت کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے تاہم سبھی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مسئلہ میں عوام کی رائے کو ذہن میں رکھیں ۔ عوام نے اس حکومت کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے ۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ انہوں نے پارٹی سربراہ سے بھی بات چیت کرلی ہے اور آئندہ دنوں میں کمیٹی کے تمام ارکان کی جانب سے دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بات چیت کی جائے گی ۔

اس دوران ہندوستان کے 14 ویں صدر جمہوریہ کے عہدہ سنبھالنے کی تقریب کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ اس کام کیلئے کئی سکریٹریز پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس کے سربراہ کابینی سکریٹری پی کے سنہا ہونگے ۔ یہ کمیٹی تمام انتظامات کی نگران ہوگی ۔ ملک کے اعلی عہدیدار کئی وزارتوں سے مشاورت اور تعاون کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صدر جمہوریہ کی تقریب حلف برداری پرسکون اندا زمیں انجام پائے ۔ ملک میں صدر جمہوریہ کا انتخاب 17 جولائی کو عمل میں آئیگا جس کے بعد ان کے عہدہ سنبھالنے کی تقریب منعقد ہوگی ۔ انتظامات سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر عہدیدار نے آج کہا کہ تمام ضروری ہدایات متعلقہ عہدیداروں کو دیدی گئی ہیں تاکہ تقریب کو بہترین بنایا جاسکے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ تقریب انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اس لئے اس میں کئی وزارتوں کی بہترین منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس تقریب میں ملک کے نئے صدر جمہوریہ پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں حلف لیں گے جس کے بعد وہ راشٹر پتی بھون سے پارلیمنٹ ہاوز تک جائیں گے اور پھر وہاں سے واپس راشٹرپتی بھون پہونچیں گے ۔ مرکزی حکومت کے ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سکریٹریز کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ نئے صدر جمہوریہ کے عہدہ سنبھالنے کی تقریب کے انتظامات کو قطعیت دے سکے ۔ ان کا جائزہ لے سکیں اور ان کی نگرانی بھی انجام دے سکے ۔ برسر اقتدار این ڈی اے یا اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ابھی اپنے اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔ موجودہ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی آئندہ ماہ اپنی پانچ سالہ مکمل کر رہے ہیں۔

میں صدارتی دوڑ میں شامل نہیں ہوں ‘ پرکاش سنگھ بادل
بھوپال 13 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق چیف منسٹر پنجاب مسٹر پرکاش سنگھ بادل نے قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے نئے صدر جمہوریہ کے انتخاب کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں۔ جب ایک صحافی نے ان سے کہا کہ این ڈی اے امیدوار کے طور پر ان کا نام لیا جا رہا ہے مسٹر بادل نے کہا کہ یہ صرف افواہ ہے ۔ سینئر اکالی دل لیڈر نے کہا کہ ان کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ ملک کا اعلی ترین عہدہ سنبھالیں۔ حال ہی میں اپنے حلقہ انتخاب لانبی میں بھی مسٹر بادل نے اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا ۔ انہو ںنے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے نام سے متعلق افواہیں سنی ہیں ان میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ وہ جب تک زندہ ہیں اپنی ریاست کے عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں أ

 

TOPPOPULARRECENT