Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / صدارتی امیدوار

صدارتی امیدوار

مرے لئے مرا ذوقِ سفر ہی کافی ہے
رہِ طلب میں کسی رہنما کی شرط نہیں
صدارتی امیدوار
صدرجمہوریہ کے عہدہ کیلئے بی جے پی نے اپنے امیدوار کو نامزد کرکے اپوزیشن حلقوں کو تذبذب کا شکار بنادیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہورہا ہیکہ آیا ایک دلت کو ملک کا اگلا صدرجمہوریہ بنانے کی تیاریوں کے درمیان اپوزیشن پارٹیاں مرکز کی حکمراں پارٹی کی اس پسند کو مسترد کرنے کی ہمت دکھا سکیں گی۔ یہ وقت آنے پر پتہ چلے گا اس وقت صدارتی امیدوار کے طور پر بہار کے گورنر دلت قائد رام ناتھ کووند کا نام سامنے آیا ہے۔ ملک کے جلیل القدر عہدہ کیلئے ایک معزز شخصیت کا انتخاب تمام ارکان پارلیمنٹ، لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے بشمول الکٹورل کالج کے ذریعہ ہوتا ہے۔ الکٹورل کالج کے 10,98,882 ووٹ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہیکہ این ڈی اے کی تمام ارکان رام ناتھ کووند کی تائید کررہے ہیں جن کے موجودہ ووٹ 5,37,683 ہیں اور یہ تعداد صدارتی انتخاب کیلئے نصف تعداد سے کم ہے یعنی 5,49,492 کا فرق پایا جاتا ہے۔ کانگریس زیرقیادت متحدہ ترقی اتحاد (یو پی اے) کے پاس 3,91,739 ووٹس ہیں جبکہ دیگر پارٹیوں کے 144,302 ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں پارلیمانی ایوان کے علاوہ ریاستی اسمبلیوں کے 4120 ارکان اسمبلی ہیں۔ اس مرتبہ صدارتی امیدوار کیلئے ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ صدارتی انتخاب کیلئے اب علاقائی پارٹیوں کی رائے کو اہمیت حاصل ہوگی۔ ایک دلت امیدوار کو یہ پارٹیاں کس طرح حمایت کریں گی یہ غور طلب ہوگا۔ تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے صدر کے چندرشیکھر راؤ نے این ڈی اے امیدوار کی حمایت کردی ہے ۔ ان کے پاس دو فیصد ووٹ ہیں۔ ٹی آر ایس کے 82 ارکان اسمبلی اور 19 لوک سبھا ارکان ہیں۔ اوڈیشہ کی بی جے ڈی نے بھی رام ناتھ کووند کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ راشٹرپتی بھون کی شخصیت کا انتخاب سیاسی مفادپرستی سے بالاتر ہونا چاہئے۔ اب تک ملک کے اس جلیل القدر عہدہ کیلئے سیاسی اتفاق رائے اور سیاسی برتری کے مقابلہ سے ہٹ کر ہوتا رہا ہے۔ اس مرتبہ این ڈی اے امیدوار کیلئے اگر سیاسی ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے تو اپوزیشن کو اپنے علاقوں میں دلتوں کے ووٹوں سے محرومی کا اندیشہ ہوگا۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کی میعاد 24 جولائی کو پوری ہورہی ہے۔ بعض سیاسی پارٹیاں اس اہم عہدہ کیلئے متفقہ امیدوار کے نام کا اعلان کرنا چاہتی تھیں لیکن حکمراں بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے نے دلت لیڈر کو نامزد کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے تمام اپوزیشن کو تنہا اپنے امیدوار کے بارے میں غور کرنے کا موقع ہی نہیں چھوڑا ہے۔ تاہم سمترا مہاجن لوک سبھا اسپیکر بھی اس دوڑ کیلئے اہم امیدوار ہوسکتی تھیں کیونکہ وہ ایک عوامی جانی پہچانی شخصیت کے علاوہ تجربہ کار سیاستداں ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے وہ بھی متفقہ امیدوار ہوسکی تھیں۔ موجودہ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کو دوسری میعاد کیلئے امیدوار بنانے کے امکانات کو اس وقت ختم کردیا گیا جب خود پرنب مکرجی نے اس دوڑ میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے امیدوار کی نامزدگی میں ہی اتفاق رائے کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی کی زیرقیادت منعقدہ اجلاسوں میں بھی اپوزیشن پارٹیوں کی رائے منقسم دکھائی گئی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اپوزیشن پارٹیاں اپنے امیدوار کو نامزد کرکے اس پر اتفاق رائے کی کوشش کریں۔ مخالف بی جے پی محاذ بنانے کیلئے کوشاں کانگریس کیلئے یہ بڑا دھکہ ہیکہ اس کو صدارتی انتخاب کی دوڑ میں دیگر ہمخیال پارٹیوں کا ساتھ حاصل نہیں ہوسکا۔ چیف منسٹر بہار نتیش کمار کے مشتبہ رول نے اپوزیشن اتحاد کو دھکہ پہنچایا ہے۔ سونیا گاندھی نے دلت کے مسئلہ پر مرکز کو کنارہ کش کرنا چاہتی تھیں۔ دلت کے علاوہ روزگار اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں کو بھی سونیا گاندھی نے موضوع بنا کر مرکز کی بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کے صدارتی امیدوار کے خلاف محاذ تیار کرنا چاہتی تھیں۔ ایک مخالف بی جے پی فرنٹ یپش کرکے اپنا منصوبہ بنانے میں وہ محض ہمخیال پارٹیوں کی لمحہ آخر کی کنارہ کشی سے ایک مخالف بی جے پی فرنٹ بنانے میں ناکام رہیں۔ سیاسی گوشوں میں یہ بات بھی شدت سے نوٹ کی جارہی ہیکہ رام ناتھ کووند کو صرف 3 ہفتے قبل ہی صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کی شملہ میں منعقدہ ایک تقریب میں داخل ہونے نہیں دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے کوئی پیشگی اجازت حاصل نہیں کی تھی۔ اب 71 سالہ رام ناتھ کووند ہی صدارتی امیدوار کے لئے نامزد ہورہے ہیں تو ان کے انتخاب کی راہ میں اپوزیشن پارٹیوں کا موقف حائل نہیں ہوسکے گا کیونکہ ایک منقسم اپوزیشن حکمراں اتحاد کیلئے کوئی خطرہ نہیں ہوسکتی۔ کانگریس قیادت پھر ایک بار سیاسی ناکامی کا شکار ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT