Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / صدارتی انتخابات تمام سیکولر و مسلم جماعتیں ،میرا کمار کے ساتھ لیکن مقامی جماعت ؟

صدارتی انتخابات تمام سیکولر و مسلم جماعتیں ،میرا کمار کے ساتھ لیکن مقامی جماعت ؟

مسلم ووٹوں کی تقسیم کے الزامات اور بی جے پی کی مدد کا پھر ایک مظاہرہ
حیدرآباد ۔ 12۔ جولائی (سیاست نیوز) صدر جمہوریہ کے انتخاب کیلئے 17 جولائی کو رائے دہی مقرر ہے اور تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے موقف کا اعلان کردیا ہے۔ کیرالا اور آسام میں مسلم اقلیت کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں نے یو پی اے کے امیدوار میرا کمار کی تائید کا اعلان کیا لیکن حیدرآباد میں مسلمانوں کی قیادت کا دعویٰ کرنے والی مقامی جماعت نے آج تک اس مسئلہ پر موقف کی وضاحت نہیں کی ہے۔ صدارتی امیدوار میرا کمار نے شاید اسی طرح کی جماعتوں کے غیر واضح موقف کو دیکھتے ہوئے ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کی۔ حیدرآباد کے مسلمان دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی قیادت کے دعویداروں کا ضمیر انہیں کس امیدوار کی تائید کیلئے انہیں راضی کرے گا ۔ کیا مقامی قیادت کا ضمیر زندہ ہے ؟ یا انہوں نے اسے اپنے مفادات کیلئے کسی کے پاس گروی رکھ دیا ہے ۔ ایسے وقت جبکہ صدارتی امیدوار کیلئے مقابلہ سیکولرازم اور سنگھ پریوار کے درمیان ہے، مقامی جماعت کو چاہئے تھا کہ وہ امیدواروں کے اعلان کے ساتھ ہی سیکولر امیدوار کے حق میں اپنی تائید کا اعلان کرتی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے این ڈی اے کی جانب سے رامناتھ کووند کی امیدواری کے اعلان کے ساتھ ہی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ رامناتھ کووند نے 2010 ء میں بی جے پی ترجمان کی حیثیت سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف قابل اعتراض بیان دیا تھا۔ اسی بیان کو بنیاد بناکر حیدرآباد کے ایم پی نے رامناتھ کووند کی امیدواری کی مخالفت کی لیکن آج تک نہ ہی میرا کمار کی تائید کا اعلان کیا اور نہ اپنے موقف کی وضاحت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی میں صدارتی امیدوار کے مسئلہ پر قائدین میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بعض قائدین میرا کمار کی تائید کے حق میں ہے جبکہ بعض قائدین شرائط کے ساتھ تائید کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ یو پی اے نے امیدوار کے اعلان کے بعد محاذ میں شامل 17 جماعتوں کی تائید کو متجمع کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا اور اس نے مقامی جماعت سے تائید کیلئے ربط قائم کرنا گوارا نہیں کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں مقامی جماعت کی مرکز کی برسر اقتدار پارٹی اور حکومت سے قربت کی اطلاعات کے باعث کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں نے مجلس کو سیکولر جماعتوں کی فہرست سے علحدہ کردیا ہے ۔ ایسے میں مقامی جماعت الجھن کا شکار ہے کہ وہ صدارتی انتخاب میں کس کی تائید کرے۔ اگر وہ کانگریس کی دشمنی میں رامناتھ کووند کی تائید کرتی ہے تو وہ کھل کر بی جے پی کے حلیف ثابت ہوجائے گی لیکن اس طرح کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اس لئے بی جے پی امیدوار کی کھل کر تائید کرنا مجلس کے لئے خودکشی کے مترادف ہوگا۔ اگر مقامی جماعت رائے دہی سے خود کو دور رکھے گی تو ایسی صورت میں بھی یہ فیصلہ بی جے پی کے حق میں تصور کیا جاسکتا ہے کیونکہ رائے دہی میں حصہ نہ لینے سے میرا کمار کے حق میں ووٹوںکی تعداد کم ہوجائے گی۔ 2014 ء انتخابات کے بعد سے مقامی جماعت نے سیکولر جماعتوں سے عملاً دوری اختیار کرلی ہے اور وہ مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے درپردہ طور پر بی جے پی کی کامیابی میں اہم رول ادا کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں مقامی جماعت نے کرناٹک کے مسلم اکثریتی علاقوں خاص طور پر گلبرگہ کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ گلبرگہ میں گزشتہ تقریباً 30 برسوں سے مسلم لیگ اور پھر کانگریس سے وابستہ مسلم قائدین اسمبلی اور بلدیات میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں مجلس کے داخلہ سے مقامی مسلم قائدین کی کامیابی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ اب جبکہ کرناٹک اسمبلی انتخابات قریب ہیں، مجلس کا یہ اقدام گلبرگہ کے مسلمانوں میں ناراضگی کا سبب بن چکا ہے۔ اسی دوران اطلاعات کے مطابق مجلسی قیادت نے اپنے بعض پرانے کانگریسی دوستوں کے ذریعہ کانگریس کی قومی قیادت تک یہ پیام دینے کی کوشش کی کہ اگر ان سے ربط قائم کیا جائے تو وہ میرا کمار کی تائید کرسکتے ہیں۔ ربط پیدا کرنے کے مسئلہ پر کانگریس قیادت نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی کیونکہ اس سے مقامی جماعت کی اہمیت میں اضافہ ہوجائے گا۔ موجودہ صورتحال میں مجلسی قیادت کیلئے صدارتی انتخاب نہ ہی نگلنے اور نہ اگلنے کی طرح ہوچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT