Monday , July 24 2017
Home / Top Stories / صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت ڈیموکریٹس کی من گھڑت : ٹرمپ

صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت ڈیموکریٹس کی من گھڑت : ٹرمپ

جیمس کومی ’ مکھن باز ‘ عہدیدار تھے ۔ کومی کو انتباہ ، این بی سی کے ساتھ تفصیلی انٹرویو

واشنگٹن ۔ 12 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام) : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج ان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا کہ امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کی وجہ سے ہی ان کی جیت ہوئی ۔ انہوں نے الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے من گھڑت قرار دیا اور کہا کہ یہ سب ڈیموکریٹس کا کیا دھرا ہے جو گذشتہ سال انتخابی شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں ۔ یاد رہے کہ حال ہی میں انہوں نے ایف بی آئی ڈائرکٹر جیمس کومی کو بھی برطرف کردیا ہے ۔انہوں نے کومی کو قومی رازوں کے افشاء کے خلاف انتباہ دیا۔ دریں اثناء ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے جیمس کومی کی برطرفی کو منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ یو ایس اٹارنی جیف سیشنز اور ان کے ڈپٹی کی جانب سے سفارش پیش کیے جانے سے قبل ہی انہوں نے (ٹرمپ ) کومی کی برطرفی کا ذہن بنالیا تھا ۔ این بی سی نیوز کے ساتھ پہلی بار صبر و تحمل کے ساتھ بیٹھ کر انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں سفارشات کا انتظار نہیں تھا بلکہ وہ تو اپنا ذہن پہلے ہی بنا چکے تھے کہ کومی کو بہر حال برطرف کرنا ہے ۔ روس سے متعلق بھی میں خود اپنے آپ سے سوال کیا کرتا تھا کہ یہ سب شکست خوردہ ڈیموکریٹس کا کیا دھرا ہے اور من گھڑت ہے کیوں کہ شکست کے بعد ’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘ کے مصداق ڈیموکریٹس اپنی شکست کے لیے ایک بہانہ ڈھونڈ رہے تھے کیوں کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ انتخابات میں انہیں نمایاں کامیابی حاصل ہوگی ۔ مگر ایسا نہیں ہوا ۔ انٹرویو کے دوران ٹرمپ دفاعی موڈ میں نظر آئے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس کو یہ غلط فہمی تھی کہ الیکٹورل کالج کسی بھی ری پبلکن کی جیت آسانی سے ہونے نہیں دے گا لیکن نتیجہ بالکل برعکس رہا ۔ اپنی یہی شرمندگی مٹانے کے لیے ڈیموکریٹس اب روس کارڈ کھیل رہے ہیں ۔ ٹرمپ نے ایکبار پھر کومی کا راگ الاپتے ہوئے کہا کہ انہیں برطرف کرنے کا مقصد یہ تھا کہ کسی ایسے شخص کو لایا جائے جو اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا سکے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے اس فیصلہ سے عوام الجھن کا شکار ضرور ہوئے ہوں گے لیکن کیا کیا جائے ۔

میں چاہتا تھا کہ امریکی عوام کے لیے بہترین فیصلے کرسکوں ۔ بہترین ایڈمنسٹریٹرس ہوں ۔ بہترین ذمہ داریاں نبھانے والے ہوں اور کومی کی کارکردگی دیکھنے کے بعد مجھے لگا کہ یہ امریکی عوام کے لیے مناسب شخص نہیں ہے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ کومی ان کے ( ٹرمپ ) ساتھ ڈنر کرنا چاہتے تھے کیوں کہ وہ اپنے عہدہ پر برقرار رہنے کے خواہاں تھے ۔ لہذا میں نے ان کی اس خواہش کی تکمیل کی اور وائیٹ ہاؤس میں بہترین ڈنر کا اہتمام کیا گیا ۔ اس کے باوجود میں نے کومی سے کہہ دیا تھا کہ میرا ( ٹرمپ ) موقف ہنوز واضح نہیں ہے ۔ ایف بی آئی کے ڈائرکٹر کے طور پر آپ کا نام ہنوز زیر غور ہے اور ہم دیکھیں گے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں ۔ ڈنر کے دوران کومی نے یہ تک کہا تھا کہ آپ ( ٹرمپ ) کے بارے میں کوئی تحقیقات نہیں ہورہی ہے ۔ ڈنر کے بعد بھی دوبار فون پر بات کرتے ہوئے کومی نے یہی جملہ دہرایا تھا ۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ( ٹرمپ ) جانتے تھے کہ ان کے بارے میں کوئی تحقیقات نہیں ہورہی ہے لیکن کومی سے میں نے قصداً پوچھا تھا کہ کیا کوئی تحقیقات میرے بارے میں بھی ہورہی ہے ۔ جب کہ انہوں نے ( ٹرمپ ) ایف بی آئی سے یہ کبھی نہیں کہا کہ امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت سے متعلق تحقیقات کو ختم کردیا جائے ۔ میں خود بھی یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا کسی ملک کے انتخابات سے کسی دیگر ملک کا کچھ لینا دینا ہوتا ہے ؟ ! بہر حال ، کومی کی باتوں سے ایسا ہی لگا کہ وہ ریاکاری اور دکھاوا کرنے والے ڈائرکٹر ثابت ہوں گے جب کہ مجھے ( ٹرمپ ) ’مکھن لگانے‘ والے عہدیدار بالکل پسند نہیں ۔ روس نے اگر ایسا کچھ کیا تھا تو میں خود اس کے بارے میں جاننے کے لیے بے چین تھا کیوں کہ میں خود بھی یہی چاہتا تھا کہ آئندہ امریکہ کی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہونے پائے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT