Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / ’’صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی فتح کا روسی عہدیداروں نے جشن منایا تھا‘‘

’’صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی فتح کا روسی عہدیداروں نے جشن منایا تھا‘‘

اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی انٹلیجنس کی اطلاعات بالکل درست تھیں، ہیکنگ کے ذریعہ ای ۔ میلز وکی لیکس ویب سائیٹ کو فراہم کئے گئے

واشنگٹن ۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) روس میں بھی سینئر سرکاری عہدیداروں نے ڈیموکریٹک امیدوار ہلاری کلنٹن پر ری پبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی فتح کا جشن یہ سوچ کر زوروشور سے منایا کہ اس میں بھی کہیں نہ کہیں ان کی (روس) فتح مضمر ہے جبکہ ایک میڈیا رپورٹ میں یہ کہا جارہا ہیکہ ٹرمپ کی فتح کا اس طرح جشن منانا انٹلیجنس کے اس تجزیہ کو صحیح ثابت کرتا ہے کہ روس نے امریکی صدارتی انتخابات میں دخل اندازی کی تھی۔ 8 نومبر کو انتخابی نتائج ظاہر ہونے کے بعد جیسے ہی ٹرمپ کی فتح کا اعلان کیا گیا، امریکہ کے علاوہ روس میں بھی خوشیوں کی لہر دوڑ گئی۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک اہم اسٹوری کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی کہ روس میں جو خوشیاں منائی جارہی ہیں وہ دراصل خود روسیوں کو یہ احساس ہوچکا ہیکہ یہ ان کی بھی سیاسی فتح ہے جس کے بعد انٹلیجنس کی ان رپورٹس کو تقویت حاصل ہوئی ہے کہ روس نے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ کی فتح کیلئے اہم رول ادا کیا۔ روس ہلاری کلنٹن کی جیت کا خواہاں نہیں تھا۔ روسی ہیکنگ بھی اس وقت چرچا کا موضوع بنی  ہوئی ہے جہاں ای ۔ میلز اکاؤنٹ کی ہیکنگ کی گئی اور یہ تمام رپورٹس فی الحال سبکدوش ہونے والے صدر بارک اوباما کو مل چکی ہے جبکہ نومنتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بھی کچھ ہی دنوں میں یہ رپورٹ مل جائے گی۔ وائیٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جوش ارنیسٹ نے اپنی روزانہ کی نیوز بریفنگ کے دوران اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اوباما انتظامیہ نے امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی بیجا مداخلت کا  بڑا سخت نوٹ لیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ میں جمہوریت کے بنیادی  اصولوں کی جس طرح دھجیاں اڑائی گئی ہیں، اس کا بھی اوباما انتظامیہ نے سخت نوٹ لیا ہے۔ اوباما اگر سبکدوش ہونے والے صدر ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ یہ تمام باتیں تاریخ میں ریکارڈ ہوجاتی ہیں جو کبھی کبھی غلط ہونے کی وجہ سے غلط قدم اٹھانے والے ملک (یہاں اشارہ ہے روس کی طرف) کیلئے وبال جان بھی بن جاتی ہیں بلکہ اسے ایک ناسور کہیں تو بیجا نہ ہوگا جو ہمیشہ رستا رہتا ہے۔ اسی دوران ارنیسٹ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ روس نے امریکی انتخابات سے ایک ماہ قبل یعنی اکٹوبر سے ہی غیرمعمولی بیانات جاری کرنا شروع کردیئے تھے جن کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہیکہ امریکی صدارتی انتخابات میں روس نے مداخلت کی تھی اور یہ مداخلت روس کی اعلیٰ ترین قیادت کی ہدایت پر ہی کی گئی تھی۔ لہٰذا یہ سمجھنا ایک فطری بات ہیکہ صدر اوباما نے اس معاملہ کو کتنی سنجیدگی سے لیا ہوگا۔ سبکدوش ہونے والے صدر کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ملک کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے بھی سبکدوش ہوگئے۔ بارک اوباما کا مستقبل میں جب بھی ذکر ہوگا انہیں ’’سابق امریکی صدر‘‘ کی  حیثیت سے یاد کیا جائے گا۔ بہرحال اس واقعہ نے نہ صرف امریکی عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے بلکہ صدر اوباما نے بھی اپنی تمام تر توجہ فی الحال اسی رپورٹ پر مرکوز کر رکھی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے امریکی جاسوسی ایجنسیوں کے ذریعہ جن دیگر معلومات کو حاصل کرنے کا تذکرہ کیا ہے، ان میں ہیک کی گئی اطلاعات کی وکی لیکس ویب سائیٹس کو فراہمی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
لہٰذا روسیوں کو 8 نومبر کے روز جو کچھ ہوا اس پر بہت اچھا محسوس ہورہا ہے اور اس بات پر بھی اچھا محسوس ہورہا ہیکہ انہوں نے ’’کارہائے نمایاں‘‘ انجام دیئے۔ امریکی وزیرخارجہ کی حیثیت سے اپنی آخری پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ اس معاملہ کو صدر اوباما اور خود انہوں نے اپنے روسی ہم منصبوں کے ساتھ اٹھایا تھا۔

TOPPOPULARRECENT