Saturday , July 22 2017
Home / سیاسیات / صدارتی انتخابات میں کامیابی ، بی جے پی اور کانگریس کے متضاد دعوے

صدارتی انتخابات میں کامیابی ، بی جے پی اور کانگریس کے متضاد دعوے

کولکتہ 12 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیہ نے آج کہا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی جانب سے صدارتی انتخاب کیلئے اپوزیشن میں اتحاد پیدا کرنے کی کوششیں در اصل سیاسی بقا کی جدوجہد ہے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ حقیقت یہ ہے کہ کئی اپوزیشن جماعتیں صدارتی انتخاب میں بی جے پی کے امیدوار کی کھلے عام تائید کرینگی ۔ وجئے ورگیہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ کانگریس ‘ سی پی ایم اور دوسری جماعتیں بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف صف بندی کر رہی ہیں کیونکہ انہیں کئی انتخابات میں لگاتار شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جماعتیں خود اپنی سیاسی بقا کیلئے ایک ہو رہی ہیں کیونکہ ان کی سیاسی بقا ہی داؤ پر لگی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ جماعتیں صدارتی انتخاب کیلئے متحد ہو رہی ہیں۔ وہ یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اس بار بھی انہیں شکست ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں این ڈی اے کے اجلاس میں کوئی قطعی فیصلہ کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے صدر ‘ این ڈی اے کی حلیفوں سے بات کرینگے اور اس پر فیصلہ کرینگے ۔ اہم اپوزیشن کانگریس نے آج واضح کردیا کہ متحدہ اپوزیشن صدارتی انتخابات کے لئے مشترکہ امیدوار این ڈی اے کے نامزد امیدوار کے خلاف کھڑا کرے گی اور تمام کی مثبت پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشک سنگھوی نے کہاکہ اِس سلسلہ میں بات چیت جاری ہے۔ کسی بھی خوف، ترغیب یا انا کے بغیر بات چیت کی جارہی ہے۔ اپوزیشن اِس بات کو یقینی بنانے کا پابند ہے کہ انتہائی قابل اعتماد اور جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے شخص کو صدارتی انتخابات میں اپنا امیدوار بنایا جائے تاکہ حکومت اور این ڈی اے کے نامزد امیدوار کو منہ توڑ جواب دے سکے۔ اُنھوں نے کہاکہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہر ممکن کوشش کی جائے گی تاکہ کسی خوف ، جانبداری ، تحدید یا انا کے بغیر وسیع تر اپوزیشن اتحاد تعمیری انداز میں قائم کیا جارہا ہے اور اِس مقصد اور بہتر نتائج کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ جولائی میں پرنب مکرجی کے امکانی جانشین کے زیرغور ناموں کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے سنگھوی نے کہاکہ پورے ملک کے لئے پُرکشش اور قابل اعتماد امیدوار کا انتخاب کیا جائے گا۔ وسیع تر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور اتفاق رائے پیدا ہورہا ہے۔ کسی نے بھی کوئی پیش قیاس نہیں کی ہے اورنہ اپنی انا کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ عام آدمی کی فلاح و بہبود ہوسکے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT