Friday , July 28 2017
Home / سیاسیات / صدارتی انتخابات میں کراس ووٹنگ کا امکان

صدارتی انتخابات میں کراس ووٹنگ کا امکان

اترپردیش اور بہار سے کووند کے حق میں زیادہ ووٹ ملنے کی بی جے پی کو توقع
نئی دہلی ۔ 2جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کو این ڈی اے صدارتی امیدوار رام ناتھ کووند کے حق میں اپوزیشن جماعتوں بالخصوص اترپردیش اور بہار میں کراس ووٹنگ کی توقع ہے ۔ سماج وادی پارٹی میں داخلی اختلافات شدید ہوگئے ہیں اور چند ارکان اسمبلی جو ملائم سنگھ یادو اور ان کے بھائی شیوپال یادو کے حامی ہیں ‘ ان کا موقف یہ ہیکہ کووند کا سرزمین اترپردیش سے تعلق ہے ‘ وزیراعظم نے بتایا کہ چند قانون ساز ارکان کووند کی تائدی میں ووٹ دے سکتے ہیں ۔ ملائم سنگھ یادو لوک سبھا رکن سے بھی این ڈی اے امیدوار کووند کی تائید کا اعلان کیا ہے ۔ شیوپال سنگھ کی حالیہ عرصہ کے دوران چیف منسٹر یو پی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقاتوں کے باعث مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں قیاس ارائیاں جاری ہیں ۔ شیوپال یادو پارٹی اور سابق چیف منسٹر اکھلیش یادو کے کٹر مخالف ہیں ۔ کووند کو انتخابی منچ میں معروف بی جے پی ذرائع نے کہا کہ ایس پی کے چند قانون ساز ارکان کووند کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں ۔

مایاوتی زیر قیادت بی ایس پی بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور اس کے بھی بعض ارکان اپوزیشن امیدوار میرا کمار کی تائید سے انحراف کرتے ہوئے کووند کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں ۔ اترپردیش کی 403 رکنی اسمبلی میں ایس پی اور بی ایس پی کے بالترتیب 54 اور 19ارکان میں ایس پی کے 5 لوک سبھا اور 18راجیہ سبھا ارکان ہیں جبکہ بی ایس پی کے راجیہ سبھا ارکان کی تعداد 6ہے ۔ مرکز اور اترپردیش میں بی جے پی اقتدار پر ہے اس کے باوجود بعض اپوزیشن ارکان کی کووند کو تائید حاصل ہونے کی پارٹی کو توقع ہے ۔ بہار میں اپوزیشن جماعتیں کافی مضبوط ہیں لیکن چیفمنسٹر اور جنتادل ( یو) صدر نتیش کمار کی کووند کو تائید نے صورتحال کو غیر یقینی بنادیا ہے ۔ بی جے پی کے ایک لیڈر نے کہا کہ کانگریس اور آر جے ڈی میں کراس ووٹنگ کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔
آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو اس بات کو یقینی بنانے کی ممکنہ کوشش کررہے ہیں کہ میرا کمار کو زیادہ سے زیادہ ووٹ یقینی بنائیں لیکن کانگریس کا موقف انتہائی نازک ہے ۔ صدارتی انتخاب میں پارٹی ویپ کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی ترجیحی بنیادوں پر رائے دینے کیلئے آزاد ہیں ۔ اس لئے ہر رکن کا موقف معلوم کرنا ممکن نہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT