Wednesday , July 26 2017
Home / Top Stories / صدارتی انتخابات کیلئے آج رائے دہی ، جمعرات کو نتیجہ کا اعلان

صدارتی انتخابات کیلئے آج رائے دہی ، جمعرات کو نتیجہ کا اعلان

نئی دہلی ۔ /16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے آئندہ صدر جمہوریہ کے انتخاب کیلئے کل /17 جولائی کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ جس میں بی جے پی کی قیادت میں حکمراں این ڈی اے امیدوار رام ناتھ کووند اپوزیشن امیدوار میرا کمار سے مقابلہ ہے ۔ نئی دہلی میں /20 جولائی کو ووٹوں کی گنتی ہوئی جہاں مختلف ریاستوں کے دارالحکومت سے بیلٹ باکس لائے جائیں گے ۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان اس رائے دہی میں حصہ لے سکتے ہیں ۔ اس انتخابات میں این ڈی اے کا پلہ بھاری ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں ہنوز بعض علاقائی جماعتوں سے اپنی امیدوار کیلئے تائید حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ بہار کے سابق گورنر کووند اور لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار حصول تائید کیلئے مختلف ریاستوں کا دورہ کرچکے ہیں ۔
موجودہ صدر پرنب مکرجی کی میعاد /24 جولائی کو ختم ہوگی ۔اس جلیل القدر عہدہ پر بشمول پرنب مکرجی تاحال 13 صدور فائز رہ چکے ہیں ۔ صدارتی انتخابات کے 4896 ووٹرس میں 4120 ارکان اسبملی اور 766 ارکان پارلیمنٹ ہیں ۔ تاہم قانون ساز کونسلوں کے ارکان (ایم ایل سی) الیکٹورل کالج کا حصہ نہ ہونے کے سبب ووٹ نہیں دے سکتے ۔

 

صدارتی انتخابات کیلئے ملک گیر سطح پر انتظامات ، این ڈی اے کا پلڑا بھاری
نئی دہلی، 16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ملک کے اعلی ترین آئینی عہدہ کیلئے پیر کو ہونے والے الیکشن کی تمام تیاریوں مکمل ہوچکی ہیں جس میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کے امیدوار رام ناتھ کووند اور اپوزیشن کی امیدوار میرا کمار کے مابین راست مقابلہ ہے ۔صدارتی الیکشن کے الیکٹورل کالج میں اگر مختلف پارٹیوں کی صورتحال دیکھی جائے تو اپوزیشن کی ‘میرا’ پر این ڈی اے امیدوار ‘رام’ (ناتھ) کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے ۔ کووند کو حکمراں این ڈی اے کے ساتھ ساتھ جنتا دل یو، بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، انا ڈی ایم کے ، تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس) سمیت کئی چھوٹی پارٹیوں کی بھی حمایت ملتی نظر آ رہی ہے ، جبکہ میراکمار کے حق میں کانگریس کے علاوہ 16 دیگر پارٹیوں کی حمایت ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے غیرمتوقع فیصلے میں دلت برادری کے لیڈر اور بہار کے سابق گورنر رام ناتھ کووند کے نام کا اعلان کیا تو اپوزیشن نے بھی اسی برادری کا امیدوار اتارنے کا فیصلہ کیا اور میراکمار کے نام پر رضامندی ہوئی۔ کووند کو امیدوار بنا کر مسٹر مودی نے اپوزیشن میں بھی پھوٹ ڈال دی۔ بہار میں مہاگٹھ بندھن کی حکومت کی قیادت کر رہے جنتا دل یو نے مسٹر کووند کو حمایت دینے کا فیصلہ کیا۔صدارتی الیکشن کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس کے علاوہ تمام ریاستوں کی قانون ساز کونسلوں میں ووٹنگ صبح 10 بجے سے شام پانچ بجے تک ہوگی۔ پارلیمنٹ کے کمرہ نمبر 62 میں ووٹنگ ہوگی۔ ریاستوں میں بھی الیکشن کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔

ممبران پارلیمنٹ کے بیلٹ پیپر سبز رنگ اور ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسلروں کے بیلٹ پیپر گلابی رنگ کے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی 20 جولائی کو دوپہر سے قبل 11 بجے شروع ہوگی۔ صدر پرنب مکھرجی کی معیادکار 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے ۔ نومنتخب صدر 25 جولائی کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے ۔ صدارتی الیکشن ‘الیکٹورل کالج’ کے ذریعہ کیا جاتا ہے ، جس میں ملک کے رکنپارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی ووٹ ڈالتے ہیں۔ صدارتی الیکشن میں کُل ووٹ کے 48 فیصد ووٹ این ڈی اے کے پاس ہیں جن میں سے 40 فیصد ووٹ صرف بی جے پی کے ہیں۔ دوسری طرف انا ڈی ایم کے کے پانچ فیصد، بی جے ڈی کے تین فیصد، ٹی آر ایس کے دو فیصد، جنتا دل یو کے دو فیصد سے کم اور وائی ایس آر کانگریس اور انڈین نیشنل لوک دل (آئی این ایل ڈی) دونوں کو ملا کر دو فیصد ووٹ ہیں۔ ان تمام کو ملا کر 14 فیصد ووٹ ہیں۔ان پارٹیوں نے بھی این ڈی اے امیدوار کو حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایسی صورت میں مسٹر کووند کے حق میں 62 فیصد سے زیادہ ووٹ ہیں، جبکہ کانگریس اور اس کے ساتھیوں کے پاس محض 34 فیصد ووٹ ہیں۔ صدارتی الیکشن میں کُل 10،98،903 ووٹ ہیں۔ ان ووٹوں میں 5،49،408 ارکان پارلیمنٹ کے اور 5،49،495 ارکان اسمبلی کے ووٹ ہیں۔ صدر منتخب ہونے کے لئے کسی بھی امیدوار کو نصف ووٹ زیادہ ملنا چاہئے ۔ اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی کے پاس 4،42،117، کانگریس کے پاس 1،61،478، ترنمول کانگریس 63،847، تلگودیشم پارٹی کے 31،116، شیوسینا کے 25، 893، سماج وادی پارٹی کے 26،060، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے 27،069 ووٹ ، بہوجن سماج پارٹی کے 8،200 ، جنتا دل یو کے 20،935 اور راشٹریہ جنتا دل کے 18،796 ووٹ ہیں۔دراوڑ منتر کژگم کے پاس 18 ہزار 352 ووٹ، جبکہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے پاس 15 ہزار 857 ووٹ ہیں۔

 

 

صدارتی انتخابات : ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے سونیا کا مطالبہ
نئی دہلی ۔ /16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج کہا کہ کل صدارتی انتخابات کا تقاضہ ہے کہ ’’ضمیر کی آواز ‘‘ کے مطابق ووٹ دیا جائے ۔ کیونکہ یہ نظریات اور غیرمتوازن اقدار کے درمیان ایک جنگ ہے ۔ انہوں نے اس مقابلہ کو تنگ نظر ذہنیت ، انتشار پسند اور فرقہ پرست نظریہ کے خلاف جنگ قرار دیا ۔ وہ اپوزیشن پارٹیوں کے ایک اجلاس سے صدارتی خطاب کررہی تھیں جس میں میرا کمار اور گوپال کرشن گاندھی کو علی الترتیب اپوزیشن کا متفقہ صدارتی اور نائب صدارتی امیدوار نامزد کرنے کا رسمی اعلان کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی اقدار پر اعتماد یقین ہونا چاہئیے ۔ یہ انتخابی جنگ نہیں بلکہ نظریات کی جنگ ہے ۔ اس الیکشن کا تقاضہ ہے کہ ہندوستان کی اور مہاتما گاندھی کی درخشاں اقدار کو محفوظ رکھنے کیلئے ضمیر کی آواز کے مطابق ووٹ دیا جائے ۔ ہزاروں کی تعداد میں عوام (مرد و خواتین ) نے ہندوستان کی اقدار کو برقرار رکھنے کیلئے ایک سخت جنگ کی تھی ۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ ان اقدار کی برقراری کیلئے جدوجہد کرنی چاہئیے جیسے کہ ہم نے آزادی کیلئے جنگ کی تھی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT