Saturday , July 29 2017
Home / Top Stories / صدارتی انتخابات کیلئے 99 فیصد رائے دہی ، جمعرات کو نتائج

صدارتی انتخابات کیلئے 99 فیصد رائے دہی ، جمعرات کو نتائج

پارلیمنٹ اور 31 اسمبلیوں میں ووٹ ڈالے گئے، مودی، سونیا گاندھی پہلے ووٹ دینے والوں میں شامل، کووند کا پلہ بھاری

نئی دہلی۔17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے 14 ویں صدر جمہوریہ کے انتخاب کے لیے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان نے آج ملک بھر میں اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا اور 99 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ نظریاتی ٹکرائو کے درمیان ہونے والے اس انتخاب میں بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے کے امیدوار رام ناتھ کووند اور اپوزیشن امیدوار میرا کمار کے مابین مقابلہ ہے۔ موجودہ صدر پرنب مکرجی کے جانشین کے انتخاب کے لیے ہوئی اس رائے دہی میں این ڈی اے امیدوار کووند کا پلہ بھاری ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان اور مختلف ریاستی اسمبلیوں میں 10 بجے دن سے رائے دہی کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے جن میں خاتون ارکان کی قابل لحاظ تعداد بھی شامل ہے۔ قطار میں ٹہرے اپنی باری کا انتظار کرتے دیکھے گئے۔ پارلیمنٹ ہائوز کے باہر روم نمبر 62 کے پولنگ بوتھ میں 5 بجے شام رائے دہی کا اختتام ہوا۔ جہاں وزیر اعظم ن ریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ پہلے ووٹ ڈالنے والوں میں شامل تھے۔ امیت شاہ اگرچہ گجرات اسمبلی کے رکن ہیں لیکن انہیں پارلیمنٹ میں حق رائے دہی ادا کرنے کی اجامت دی گئی تھی۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور ان کے فرزند راہول گاندھی نے بھی اپنے حق رائے دہی سے ستفادہ کیا۔ کیرالا، تاملناڈو، مہاراشٹرا، تلنگانہ، آندھراپردیش، اڈیشہ، بہار، اترپردیش میں ابتدائی مرحلہ سے بھاری رائے دہی ریکارڈ کی گئی جہاں ارکان مقننہ نے پہلے تین گھنٹوں میں رائے دہی کا زیادہ تر عمل مکمل کرلیا۔ دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال کی قیادت میں عام آدمی پارٹی کے قانون سازوں نے ووٹ دیا۔ پنجاب کے چیف منسٹر امریندر سنگھ نے کانگریس کے ارکان اسمبلی کو رائے دہی سے قبل ناشتہ پر مدعو کیا تھا۔ ہریانہ میں حکمراں بی جے پی کے ارکان کمل گپتا اور لیگاشرما سب سے پہلے ووٹ دینے والوں میں شامل تھے۔ تاملناڈو میں چیف منسٹر ای پلانی سوامی نے چینائی کے اسمبلی کامپلکس میں پہلے ووٹ دیا۔ ہماچل پردیش میں صدفیصد رائے دہی ہوئی اور وہ سب سے پہلے رائے دہی مکمل کرنے والی ریاست بن گیا۔ مغربی بنگال میں چیف منسٹر ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی پارٹی ایم سی نے ملک میں موجودہ مظالم کے خلاف بطور احتجاج اپوزیشن امیدوار میرا کمار کے حق میں ووٹ دیا۔ این سی پی نے اپنے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کی جانب سے رام ناتھ کووند کو ووٹ دینے کی افواہوں کو مسترد کردیا۔الیکشن کمیشن نے 32 پولنگ اسٹیشن قائم کئے تھے۔ پارلیمنٹ کے کمرہ نمبر 62 میں ایک اور 31 ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں میں ایک ایک مرتبہ رائے دہی قائم کیا گیا تھا۔ 776 ارکان پارلیمنٹ اور 4,120 ارکان اسمبلی رائے دہی کے اہل تھے۔ الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی مجموعی قدر 10,98,903 ہے۔ این ڈی اے کو 5,37,683 ووٹ حاصل ہیں جس کے باوجود 2000 ووٹوں کی کمی ہے۔ این ڈی اے امیدوار کووند کو 2,180 ارکان اسمبلی اور 530 ارکان پارلیمنٹ کی تائید حاصل ہے۔ اپوزیشن امیدوار میرا کمار کو 1,628 ارکان اسمبلی اور 232 ارکان پارلیمنٹ کی تائید حاصل ہوگئی ہے۔ اعدادی قوت کے اعتبار سے لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار، بہار کے سابق گورنر رام ناتھ کووند کو قابل لحاظ سبقت حاصل ہے۔ بی جے پی اور اس کے حلیفوں کے تقریباً 63 فیصد ووٹ اور کانگریس کے زیر قیادت اپوزیشن کو 35 فیصد ووٹ حاصل ہیں۔ موجودہ صدر پرنب مکرکی کو 2012ء کے انتخاب میں 7 لاکھ سے زائد اور ان کی پیشرو پرتیبھا پاٹل کو 6 لاکھ سے زائد ووٹ ملے تھے۔ یہ دونوں کانگریس کے امیدوار تھے۔ کووند اپنے انتخاب کی صورت میں 1997ء تا 2002ء صدر رہنے والے کے آر نارائنن کے بعد ملک کے دوسرے دلت صدر ہوں گے۔ ووٹوں کی گنتی 20 جولائی کو دہلی میں ہوگی اور اس روز نتیجہ کا اعلان کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT