Friday , July 28 2017
Home / ہندوستان / صدارتی عہدہ سیاست سے بالاتر، ملک کی ترقی اوّلین ترجیح

صدارتی عہدہ سیاست سے بالاتر، ملک کی ترقی اوّلین ترجیح

ووٹ بینک کی میرے لئے کوئی اہمیت نہیں، ووٹ کے حصول کیلئے صدارتی امیدوار رامناتھ کووند کی اروناچل پردیش میں مہم
ایٹانگر 6 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) این ڈی اے صدارتی امیدوار رامناتھ کووند نے آج کہاکہ صدارتی عہدہ سیاست سے بالاتر ہوتا ہے اور اُن کی کوشش یہ رہے گی کہ ملک میں ہر ریاست کو خوشحالی کی راہ پر لے آئیں۔ اُنھوں نے بی جے پی ارکان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صدرجمہوریہ کا کبھی بھی کسی جماعت سے تعلق نہیں رہتا۔ تمام لوگ بلالحاظ ذات پات و مذہب و ریاست مساوی ہیں۔ ووٹ بینک اُن کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ ترقی اُن کے لئے قابل ترجیح ہے۔ رامناتھ کووند کے ہمراہ مرکزی وزراء راج نریندر سنگھ تومر، کرن رجیجو کے علاوہ بی جے پی جنرل سکریٹری رام مادھو، لوک سبھا ایم پی رام وچار نتم اور نارتھ ایسٹ ڈیموکریٹک الائنس کنوینر ہمتا بسواس شرما آج صبح ایٹا نگر پہونچے تاکہ اروناچل پردیش ارکان اسمبلی کی تائید حاصل کی جاسکے۔ کووند نے کہاکہ ترقی یافتہ ہندوستان اُن کا خواب ہے اور وہ سماج کے تمام طبقات کی بھی مساوی ترقی کے خواہاں ہیں۔ ریاستوں اور عوام کے مابین مساوات کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہئے تاکہ ملک ترقی کرسکے۔ اروناچل پردیش کے عوام کی ہندی زبان میں بات کرنے کی صلاحیتوں کی ستائش کرتے ہوئے کووند نے کہاکہ مجھے یہاں ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے میں اپنی آبائی ریاست اترپردیش میں ہوں۔ اُنھوں نے کہاکہ اروناچل پردیش ایک چھوٹی ریاست ہونے کے باوجود غیر معمولی تہذیبی ورثے کی حامل ہے اور میرے لئے یہ ریاست بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی اترپردیش اور ملک کی دیگر ریاستیں ہیں۔ کووند نے کہاکہ مرکز میں این ڈی اے برسر اقتدار آنے کے بعد شمال مشرقی عوام کو الگ تھلگ کرنے کا رجحان ختم ہوا ہے۔

اُنھوں نے آج پیپل پارٹی آف اروناچل کے 9 ارکان اسمبلی کے ساتھ بھی علیحدہ اجلاس منعقد کیا، یہ نارتھ ایسٹ ڈیموکریٹک الائنس کا حصہ ہیں اور اِس اجلاس میں اِن ارکان اسمبلی نے کووند کی تائید کا یقین دلایا۔ چیف منسٹر پیما کھندو نے کہاکہ اگرچہ اروناچل پردیش کے ووٹ کی قدر کم ہے لیکن تمام 47 بی جے پی ارکان اسمبلی بشمول دو آزاد اور 9 پیپل پارٹی آف اروناچل کے ارکان اپنے ووٹ کے ذریعہ کووند کی کامیابی کو یقینی بنائیں گے۔ اروناچل پردیش میں ووٹ کی قدر ایک بمقابلہ 8 ہے جبکہ اترپردیش میں ایک بمقابلہ 208 ہے۔ کھندو نے شمال مشرقی علاقہ کا دورہ اروناچل پردیش سے شروع کرنے پر کووند کی ستائش کی اور اُن سے خواہش کی کہ شمال مشرق بالخصوص اروناچل پردیش کی ترقی پر خصوصی توجہ دیں۔ قبل ازیں تومر نے کہاکہ کئی سیاسی جماعتیں جو این ڈی اے کے ساتھ نہیں ہیں وہ بھی کووند کی تائید کررہی ہیں۔ رجیجو نے کہاکہ پہلی مرتبہ صدارتی امیدوار نے اروناچل پردیش کا دورہ کیا ہے جبکہ اِس سے پہلے تمام فیصلے گوہاٹی میں ہی کئے جاتے تھے۔ رام مادھو نے تمام ارکان اسمبلی سے خواہش کی ہے کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ رائے دہی کے دن اروناچل پردیش کے دارالحکومت ایٹانگر میں موجود رہیں۔

TOPPOPULARRECENT