Tuesday , August 22 2017
Home / دنیا / صدارتی مباحثہ میں ٹرمپ کا ہندوستانی معیشت کا تذکرہ

صدارتی مباحثہ میں ٹرمپ کا ہندوستانی معیشت کا تذکرہ

لاس ویگاس، 20 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان اور چین کی بڑھتی ہوئی معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی دونوں ممالک کے مقابلے میں امریکہ کی معیشت دم توڑ رہی ہے۔ 8 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے آج ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوارمحترمہ ہلاری کلنٹن کے ساتھ تیسری اور آخری بحث (پریسڈینشیل ڈبیٹ) کے دوران ٹرمپ نے ہندوستان کی تیز شرح نمو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ آٹھ فیصد کی جی ڈی پی (مجموعی گھریلو مصنوعات) کی شرح سے آگے بڑھ رہا ہے اور امریکہ ایک فیصد کی شرح کے ساتھ دم توڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حال ہی میں نے ہندوستان کے چند نمائندوں سے ملاقات کی ہے ۔ہندوستانی معیشت آٹھ فیصد کی جی ڈی پی کی شرح سے آگے بڑھ رہی ہے ، چین بھی سات فیصد کی شرح سے آگے بڑھ رہا ہے اور ان کے مقابلے میں ہماری جی ڈی پی محض ایک فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے اور یہ نمبر بھی نیچے کی طرف جا رہا ہے ۔ امریکہ میں روزگار کی زبردست کمی ہورہی ہے اور ملک اونچی سطح پر اپنے کاروبار کو کھو رہا ہے ۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے بھی ہندوستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ صدر بنے تو ہندوستان اور امریکہ کی دوستی مزید مضبوط ہوگی۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی بھی تعریف کی تھی۔ گزشتہ دنوں امریکہ میں ہندو کمیونٹی کے ایک پروگرام انہوں نے کہا تھا کہ وہ ہندوستان کے پرجوش وزیر اعظم مودی کے ساتھ مل کر تعلقات آگے بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔ اگر وہ منتخب ہوئے تو ہندوستان اور ہندو کمیونٹی کا سچا ہمدرد وائٹ ہاؤس میں ہوگا۔

 

صدارتی انتخاب لڑنا وقار میں کمی : ٹرمپ جونیر
لاس ویگاس ۔ 20 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے بیٹے کی سوچ یہ ہیکہ اس کے والد نے صدارتی  انتخابات لڑنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ دراصل ان کے ’’وقار میں گراوٹ‘‘ کے مترادف ہے کیونکہ سیاست میں اس کے والد ایک نووارد ہیں۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی بلندیوں پر گزاری ہے جیسا کہ کوئی ماہر سیاستداں ہوتا ہے اور ایسے کام انجام دیئے جو امریکہ میں ورکرس کیلئے فائدہ مند ہوں۔ ہلاری اور ٹرمپ کے درمیان تیسرے مباحثہ کے اختتام کے بعد فاکس نیوز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ  جونیر نے کہا کہ ٹرمپ اس وقت جو کررہے ہیں اگر یہی کام انہوں نے زندگی بھر کیا ہوتا تو آج وہ امریکہ کے ایک انتہائی اعلیٰ درجہ کے سیاستداں ہوتے جبکہ حقیقت یہ ہیکہ اس کے والد نے سیاست کو ایک ایسے وقت اپنایا ہے جب ان کی عمر 70 سال ہوگئی ہے۔ اب آپ بتائیے کہ صرف ایک سال قبل سیاسی میدان میں آنے والے کو بھلا سیاست کا کیا تجربہ ہوگا؟ اس کے برعکس ہلاری کلنٹن امریکہ کی ایک منجھی ہوئی سیاستداں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT