Saturday , September 23 2017
Home / اداریہ / صدارتی نتائج اور کانگریس اتحاد گروپ

صدارتی نتائج اور کانگریس اتحاد گروپ

جب کبھی میں فریب کھاتاہوں
آپ کو اور آزماتا ہوں
صدارتی نتائج اور کانگریس اتحاد گروپ
صدارتی انتخاب میں کانگریس اتحاد گروپ نے الیکشن سے زیادہ این ڈی اے امیدوار کی مخالفت پر توجہ دے کر کراس ووٹنگ سے بے خبر رہتے ہوئے شکست کا سامنا کیا۔ اپوزیشن گروپ نے اپنے خوشحال گھروں کے ڈرائنگ رومس میں رات کو سجائی گئی محفلوں میں این ڈی اے امیدوار کی شکست کیلئے ایک دلت امیدوار سابق اسپیکر میرا کمار کو نامزد کیا۔ اس طرح کانگریس کی سیاست کی پھیلائی کمزور مہم کا ماتم کرتے ہوئے اپوزیشن گروپ نے حکمراں بی جے پی پارٹی کو مزید مضبوط بنانے میں مدد کی ہے۔ رامناتھ کووند کے حق میں سینکڑوں ارکان اسمبلی کی کراس ووٹنگ نے اپوزیشن کیمپ کی کمزوریوں اور نادانیوں کو آشکار کردیا ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود کانگریس اور اس کی حلیف پارٹیوں نے پیر کو ہوئی پولنگ میں کامیابی کی اکثریت کی حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوتاہی سے کام لیا۔ البتہ میرا کمار کو توقع سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ بی جے پی نے اپنے امیدوار کیلئے 70 فیصد ووٹ ملنے کی توقع ظاہر کی تھی۔ حکمراں پارٹی کی مضبوط لابی اور کراس ووٹنگ کے باوجود رامناتھ کووند کو 65.65 فیصد ووٹ ملے جس کو 1974 کے صدارتی انتخاب کے بعد سب سے کم تناسب سے کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی مشترکہ صدارتی امیدوار میراکمار کو 184.4 ووٹ ملے جن کی قدر 3,67,314 ہوتی ہے لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہیکہ آیا 18 پارٹیوں کا گروپ جس میں جنتادل یو بھی شامل ہے، آئندہ بھی این ڈی اے کے خلاف اس طرح مضبوط بن کر قائم رہے گا۔ ان صدارتی انتخاب کے نتائج کی پرواہ کئے بغیر اگر یہ اپوزیشن اتحاد 2019ء کے عام انتخابات میں بی جے پی کے خلاف مشترکہ مقابلہ کیلئے تیار رہے گا یہ کہنا مشکل ہے۔ مرکز میں بی جے پی زیرقیادت مودی حکومت نے ہندوستان کی سیکولر سیاسی ڈھانچہ کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اسی بنیاد پر سیکولر اپوزیشن نے بی جے پی کے جارحانہ نظریہ، سماجی اور سیاسی حکمت عملیوں کے خلاف خود کو قریب تو کیا ہے مگر بی جے پی کو کمزور کرنے سے قاصر نظرآیا۔ اپوزیشن قائدین جیسے آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو اور ان کے ارکان خاندان کے خلاف سی پی آئی اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے تحقیقات کرانے اور دباؤ ڈالنے کے باوجود لالو پرساد یادو نے گروپ کو متحد رکھنے میں اہم رول ادا کیا۔ اس گروپ کے دیگر قائدین ملائم سنگھ یادو اور بہوجن سماج پارٹی صدر مایاوتی پر بھی تحقیقاتی ایجنسیوں کا شکنجہ کستا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں ان قائدین کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ بی جے پی نے ایک غیرمعروف شخص رامناتھ کووند کو ملک کے جلیل القدر عہدہ پر فائز کرنے میں کامیابی حاصل کرلی جبکہ اس سال کے اوائل میں رامناتھ کووندکو شملہ میں ایک صدارتی تقریب میں جہاں پرنب مکرجی شرکت کررہے تھے، بحیثیت گورنر بہار رامناتھ کووند کو شرکت سے روک دیا گیا تھا کیونکہ ان کے پاس اس تقریب کا دعوت نامہ نہیں تھا۔ تقریب کے انتظامیہ کی بے رخی پر برہم ہونے کے بجائے رامناتھ کووند نے اس واقعہ کو صبروتحمل کے ساتھ جذب کرلیا اور ٹھیک دو ماہ بعد وہ این ڈی اے کے صدارتی امیدوار کے طور پر عوام الناس کے سامنے متعارف ہوئے۔ وزیراعظم مودی سے قربت اور آر ایس ایس کے وفادار پرچارک ہونے کا صلہ یہ ملا ہے کہ ایک غیرمعروف فرد نے ملک کے جلیل القدرعہدہ تک پہنچ گئے۔ ہندوستانی عوام کی اکثریت اس سے قبل رامناتھ کووند سے ناواقف تھی۔ ہندوستان میں دلتوں کے بارے میں لکھنے والے مشہور صحافی بھی دلت لیڈر رامناتھ کووند سے ناواقف تھے لیکن اب وہ قطعی اکثریت کے ساتھ ملک کے 16 ویں صدرجمہوریہ منتخب ہوئے ہیں۔ ار ایس ایس سے ان کی قربت نے انہیں اس عہدہ تک پہنچانے میں مدد کی ہے۔ بہرحال رامناتھ کووند ہندوستان کے دوسرے دلت صدرجمہوریہ ہیں۔ ان سے قبل کے آر نارائنن دلت صدرجمہوریہ تھے۔ بہرحال ان کا انتخاب ایک ایسے وقت ہوا جب ملک بھر میں مسلمانوں اور دلتوں پر حملے ہورہے ہیں، امتیاز برتا جارہا ہے، گاؤرکھشک کے نام پراقلیت کو نشانہ بنایا جارہا ہے تو ایک دلت کی حیثیت سے نئے صدرجمہوریہ رامناتھ کووند ہندوستان میں پھیلائی جارہی عدم رواداری کی فضاء کو روکنے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ان سے توقع کی جاتی ہیکہ وہ پسماندہ طبقات، بچھڑے ذاتوں، مسلمانوں اور اپنے حقوق سے محروم عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے اپنے جلیل القدر اختیارات کا استعمال کریں گے۔
فرقہ پرستوں کیخلاف ممتابنرجی کا اعلان جنگ
چیف منسٹر مغربی بنگال و صدر ترنمول کانگریس ممتابنرجی نے ملک میں فرقہ پرستوں کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے بھارت چھوڑو تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی کو ملک سے نکال باہر کرنے کے عزم کے ساتھ انہوں نے گذشتہ روز کولکتہ میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کی موجودہ نازک صورتحال کی جانب درست نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے ملک میں گاؤ رکھشکوں کی جانب سے معصوم مسلم شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید تنقید کی اورکہا کہ یہ گاؤ رکھشک نہیں بلکہ گاؤ راکھشش ہیں۔ لہٰذا بی جے پی کو ملک سے نکال باہر کرنے کا وقت آ گیا ہے۔18 سیکولر پاریٹوں کے اتحاد کے ساتھ صدارتی انتخاب کا مقابلہ کرنے والے اپوزیشن گروپ کو دوبارہ مجتمع کرنے اور اس کو وسعت دینے کی ضرورت بھی ظاہر کی گئی ہے۔ فسادیوں سے ملک کو بچانے کی ضرورت ہے۔ اس لئے ہندوستان سے بی جے پی کو نکال دینے تک وہ خاموش نہیں رہیں گی۔ مغربی بنگال سے بی جے پی کو ایک بھی لوک سبھا نشست حاصل نہ کرنے کا ماحول پیدا کرنے پر توجہ دیتے ہوئے بی جے پی کو ہر ریاست میں کمزور کرنے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ ممتابنرجی کا جذبہ ملک کے سیکولر جذبہ کا آئینہ دار ہے۔ صدارتی انتخاب کے موقع پر میراکمار کی حمایت میں 18 پارٹیوں کا اتحاد ایک اچھی شروعات ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مودی کو سال 2019ء کے عام انتخابات میں 30 فیصد سے زائد ووٹ نہیں ملیں گے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ملک کے رائے دہندوں کو مودی حکومت کی پالیسیوں اور خرابیوں سے واقف کروایا جائے۔ اس کیلئے تمام سیکولر پارٹیوں کو متفقہ طور پر ابھی سے ملک گیر سطح پر مہم چلانے کی ضرورت ہے مگر افسوس اس بات کا ہیکہ سیکولر اتحاد کی حامی پارٹیوں میں بعض امور پر عدم اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ جب ملک سے فرقہ پرستوں کے صفایا کو ٹھان لیا گیا ہے تو پھر سیکولر پارٹیوں کو ایک ہی مقصد اور مہم کے ذریعہ آگے بڑھنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT