Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / ’’صدام کو عراق پر حکمرانی کیلئے چھوڑدینا چاہئیے تھا‘‘

’’صدام کو عراق پر حکمرانی کیلئے چھوڑدینا چاہئیے تھا‘‘

سابق ڈکٹیٹر نے عرب سرزمین پر امریکہ کی ناکامی کی پیش قیاسی کی تھی :جان نکسن

واشنگٹن ۔/17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سی آئی اے کے ایک سابق افسر جنہوں نے عراقی حاکم صدام حسین سے پوچھ گچھ کی تھی ، کہا ہے کہ انہیں (صدام کو) ملک چلانے کیلئے چھوڑدیا جانا چاہئیے تھا اور یہ ایک بہتر متبادل ہوسکتا تھا ۔ جان نکسن نے اپنی نئی کتاب میں عراق کے سابق ڈکٹیٹر کے ساتھ اپنی متعدد ملاقاتوں اور اس دوران ہوئی بات چیت کی کئی اہم تفصیلات بیان کیا ہے ۔ جان نکسن کے مطابق 2003 ء میں اتحادی فوج کے ہاتھوں صدام کی گرفتاری کے بعد ان سے پوچھ گچھ کرنے کا موقع ملا تھا ۔ اس موقع پر سابق صدر نے پیش قیاسی کی تھی کہ عراق میں امریکہ ناکام ہوجائے گا اور خبردار کیا تھا کہ قابض فورسیس اگر عربوں کے ذہنوں کو نہیں سمجھ سکیں گے تو انہیں بدترین ہزیمت اٹھانی پڑے گی ۔ جان نکسن نے ٹائم میگزین میں لکھا ہے کہ ’’جب میں نے صدام سے پوچھ گچھ کی تھی انہوں نے کہا تھا کہ آپ ناکام ہوجائیں گے ۔ آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ عراق پر حکمرانی کرنا آسان نہیں ہے ۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ مجھے اس بات پر حیرت و تشویش ہے کہ آپ یہ کیوں محسوس کررہے ہیں ۔ جس پر انہوں (صدام) نے جواب دیا تھا کہ آپ عراق میں ناکام ہونے جارہے ہیں ۔ کیونکہ آپ عربوں کے دماغ کو نہیں سمجھ سکتے ۔ آپ ان کی زبان اور تاریخ کو نہیں جانتے ‘‘ ۔ جان نکسن کا نظریہ ہے کہ ’’عراق کی ہمہ نسلی و ہمہ تہذیبی شناخت‘‘ کو برقرار رکھنے کیلئے صدام حسین جیسے کسی لیڈر کی ضرورت تھی ۔

جان نکسن نے کہا کہ صدام کی قیادت ، طرز حکمرانی اور بربریت کے لئے رسوائی ان کے دور اقتدار کی کئی خامیوں میں شامل ہیں لیکن وہ (صدام) جب کبھی اپنے اقتدار کی بنیاد کو خطرہ محسوس کرتے تو انتہائی بے رحمانہ انداز میں فیصلہ کن موقف اختیار کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ کسی عوامی تحریک کے ذریعہ ان کی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کا تصور بعید از قیاس تھا ۔ علاوہ ازیں آئی ایس آئی ایس جیسے گروپ کو عراق میں ایسی کامیابی حاصل ہونا ناممکن تھا ۔ جیسی آج شیعہ اکثریتی حکومت میں حاصل ہوئی ہے ۔ سی آئی اے کے سابق سربراہ جان نکسن اگرچہ صدام کو پسند تو نہیں کرتے لیکن عراق جیسے ایک پیچیدہ ملک پر حکمرانی کیلئے ان (صدام) کی صلاحیتوں کا بھرپور احترام کرتے ہیں ۔ جان نکسن نے یاد دلایا کہ صدام نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا تھا کہ ’’مجھ سے پہلے (عراقی) لوگ محض بحث مباحثوں میں الجھے رہا کرتے تھے لیکن میں نے یہ سب ختم کردیا اور ان سب کو متفق کیا ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT