Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / صدرجمہوریہ کا فیصلہ بھی عدالتی جائزہ کا تابع

صدرجمہوریہ کا فیصلہ بھی عدالتی جائزہ کا تابع

ہمیں اُمید ہے کہ وہ ہمیں مشتعل نہیں کریں گے ، صدر راج کے نفاذ کے بارے میں اُتراکھنڈ ہائیکورٹ کا بیان
نینی تال ۔ 20 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) صدرجمہوریہ کا فیصلہ کہ اُتراکھنڈ اسمبلی کو معطل رکھا جائے عدالتی جائزہ کا تابع ہے ، اُن سے بھی غلطی ہوسکتی ہے ، اُتراکھنڈ ہائیکورٹ نے آج یہ تبصرہ کیا ۔ این ڈی اے حکومت کی جانب سے اس دلیل پر کہ صدرجمہوریہ نے دستور کی دفعہ 356 کے تحت اپنی ’’سیاسی سمجھ بوجھ‘‘کے مطابق صدرراج کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس وی کے بسٹ پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ لوگ غلطی کرسکتے ہیں چاہے وہ صدر ہوں یا ججس ۔ عدالت نے مزید کہا کہ صدرجمہوریہ کی مداخلت کا جواز کیا ہے جو مواد عدالت کے جائزہ کیلئے پیش کیا گیا ہے وہ بالکل واضح ہے ۔ عدالت کا یہ تبصرہ مرکزی حکومت کے اس ادعا کے بعد کیا گیا کہ صدرجمہوریہ نے پورے مواد کو سمجھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے ۔ ممکن ہے کہ اُن کو پیش کردہ مواد اُس مواد سے مختلف ہو جو عدالت کے اجلاس پر پیش کیا گیا ہے۔ عدالت کا یہ ادعا اُس وقت منظرعام پر آیا جبکہ عدالتی بنچ نے کہاکہ گورنر نے صدرجمہوریہ کو جو رپورٹس ریاستی صورتحال کے بارے میں روانہ کی ہیں

اُس سے ہم اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ ایوان اسمبلی میں 28 مارچ کو طاقت کا فیصلہ مقرر تھا جس میں ہرچیز طئے ہوجاتی ۔ سماعت کے دوران ہائیکورٹ نے نوٹ کیا کہ گورنر نے صدرجمہوریہ کو اپنی رپورٹس میں کہیں بھی یہ تذکرہ نہیں کیا ہے کہ 35 ارکان اسمبلی رائے دہی کی تقسیم چاہتے ہیں۔ گورنر کو شخصی طورپر مطمئن ہونا چاہئے لیکن انھوں نے اپنے شخصی اطمینان کا اندراج نہیں کیاکہ 35 ارکان اسمبلی جنھوں نے ایوان میں ووٹوں کی تقسیم کا مطالبہ کیا تھا ، عدالت نے کہاکہ ان رپورٹس سے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا ہے کہ کانگریس کے 9 باغی ارکان اسمبلی نے ایسا مطالبہ کیا تھا ۔ عدالت کے تبصرہ میں یہ بھی کہا گیا کہ گورنر کے ذہن میں جو اندیشے پیدا ہوں گے ان کے بارے میں بھی مواد مکمل طورپر موجود نہیں ہے۔ صدرراج نافذ کرنے کی ضرورت کن اندیشوں کے تحت پیش آئی اس کا تذکرہ رپورٹ میں نہیں ملتا ۔ گورنر نے 19 مارچ کو صدرجمہوریہ کو مکتوب روانہ کیا تھا لیکن اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ 35 ارکان اسمبلی نے ووٹس کی تقسیم کا مطالبہ کیا ہے ۔

یہ انتہائی اہم تھا ۔ بنچ کے اس اعتراض پر مرکز نے 19 مارچ کو کہا کہ گورنر کو تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔ بنچ نے برطرف چیف منسٹر ہریش راوت کی درخواست اور دیگر متعلقہ درخواستوں کی سماعت کے دوران جس میں اُتراکھنڈ میں صدر راج کے نفاذ کو چیلنج کیا گیا تھا سوال کیا کہ سابق چیف منسٹر ہریش راوت کے الزامات 9 باغی کانگریس ارکان اسمبلی پر تنقید کا مواد دفعہ 356 کے استعمال کیلئے بنیاد بن سکتا تھا لیکن رپورٹ میں اُن کا تذکرہ نہیں ہے ۔ عدالت نے باغی ارکان اسمبلی کو مکمل طورپر غیرمتعلق اور ناقابل قبول اندیشے قرار دیا ۔ عدالت کی بنچ نے یہ بھی کہا کہ کابینی نوٹس جو ریاست میں صدرراج کے نفاذ کے بارے میں روانہ کی گئی تھیں، پوشیدہ کیوں رکھی جارہی ہیں ۔ ان پر عدالت میں کوئی بحث نہیں ہوئی اور نہ درخواست گذار کو ان کی نقل فراہم کی گئی ۔ کل سماعت کے دوران ڈیویژن بنچ نے بار بار ادعا کیا تھا کہ الزامات کے قطع نظر ارکان کی خرید و فروخت اور کرپشن کے خاتمہ کا واحد دستوری طریقہ اکثریت کی آزمائش ہے ۔

TOPPOPULARRECENT