Tuesday , October 24 2017
Home / ہندوستان / صدرنشین اترپردیش پبلک سرویس کمیشن کا تقرر کالعدم مجرمانہ پس منظر کی شکایت پر الہ آباد ہائیکورٹ کی کارروائی

صدرنشین اترپردیش پبلک سرویس کمیشن کا تقرر کالعدم مجرمانہ پس منظر کی شکایت پر الہ آباد ہائیکورٹ کی کارروائی

الہ آباد ۔ 14 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) الہ آباد ہائیکورٹ نے آج صدر اترپردیش پبلک سرویس کمیشن کی حیثیت سے انیل کمار یادو کے تقرر کو  غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا ہے اور ان کی دیانتداری اور اہلیت کی مناسب تحقیقات کے بغیر صدرنشین کے تقرر میں دستوری فریضہ کی خلا ورزی پر حکومت کی سرزنش کی ہے ۔ صدرنشین پبلک سرویس کے تقرر کو مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ اور جسٹس یشونت ورما پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کہا کہ قابل امیدواروں کی دستیابی کو نظر انداز اور دستور کے دفعہ 316کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے انیل کمار یادو کا اندھا دھند طریقہ سے تقرر کیا گیا ہے ۔ یادو کا 83 امیدواروں میں سے انتخاب کیا گیا ہے جنہوں نے صدرنشین کے عہدہ کیلئے ریاستی حکومت کو اپنا سوانحی خاکہ (بائیو ڈاٹا) پیش کیا ہے ۔ انہوں نے اپریل 2013 ء سے اس عہدہ پر فائز ہیں۔ ہائیکورٹ نے یہ احکامات ایک وکیل منیش کمار اور دیگر کی  عرضی پر سماعت کے بعد جاری کئے ہیں۔ درخواست گزاروں نے ا لزام عائد کیا کہ انیل کمار یادو کا تقرر حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے عمل میں لایا گیا ہے جبکہ ان کے خلاف آبائی ضلع آگرہ میں اقدام قتل اور غنڈہ ایکٹ کے تحت کیس درج ہیں ۔اگرچیکہ یادو نے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ وہ منسوبہ الزامات بری ہوچکے ہیں لیکن ہائیکورٹ نے یہ وضاحت کی کہ الزامات کی حقیقت کے قطع نظر آج یہ احکامات (کالعدم) جاری کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں انیل کمار یادو نے یہ دعویٰ کیا کہ ضلع مین پور میں واقع چترگپتا ڈگری کالج پر پرنسپال بھی رہ چکے ہیں۔
دادری واقعہ پر مودی کے ریمارکس پر سی پی آئی کی تنقید
نئی دہلی ۔ 14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی کہ انہوں نے دادری قتل واقعہ پر تاخیر سے اور نہایت ہی معمولی بیان دیا ہے۔ ان کا فرض ہیکہ وہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیں۔ قتل واقعہ راست طور پر بی جے پی اور سنگھ پریوار سے تعلق رکھتا ہے۔ وزیراعظم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہیکہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کررہے ہیں۔ سی پی آئی ایم پی ڈی راجہ نے کہا کہ دستوری اقدار کی پاسداری ملک کے وزیراعظم کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT