Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / صدر امریکہ اور سعودی فرمانروا کی ملاقات، اختلافات کی یکسوئی

صدر امریکہ اور سعودی فرمانروا کی ملاقات، اختلافات کی یکسوئی

امریکہ اور سعودی عرب یمن میں سب کو ساتھ لے کر چلنے والے حکومت کے خواہاں: بارک اوباما

واشنگٹن /4 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما نے سعودی فرمانروا ملک سلمان کا ان کے اولین اور تاخیر کا شکار دورہ کے لئے آمد پر وہائٹ ہاؤس میں ان کا خیرمقدم کیا اور گرمجوش الفاظ کے ساتھ ان کا استقبال کیا، حالانکہ مشرق وسطی کے بحران کے بارے میں دونوں کے نظریات مختلف ہیں۔ اوباما نے 79 سالہ ملک سلمان کے لئے وہائٹ ہاؤس کے دروازے کھول دیئے اور دونوں ممالک کے درمیان ’’دیرینہ دوستی‘‘ کا تذکرہ کیا۔ ملک سلمان ماہ مئی میں دورہ کرنے والے تھے، لیکن اسے ملتوی کردیا گیا تھا۔ اسے دونوں ممالک کے اختلافات کی علامت سمجھا جا رہا تھا۔ اوباما نے اپنے اوول آفس میں ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایک بار پھر شخصی دوستی کا اعادہ کریں، لیکن دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بھی گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ ملک سلمان نے کہا کہ ان کا دورہ امریکہ کے ساتھ ان کے ملک کے گہرے اور مستحکم تعلقات کی علامت ہے۔ یہ ملاقاتیں عام طورپر کسی بیان کے اجراء کی وجہ بنتی ہیں، جس سے ممکنہ حد تک ملاقات کو مثبت رنگ دیا جاتا ہے۔ مرکز برائے دفاعی و بین الاقوامی مطالعہ جات کے انتھونی کارڈسمین نے کہا کہ دونوں ممالک قریبی دفاعی شراکت دار ہیں، اس کے باوجود کہ دونوں میں اختلافات بھی موجود ہیں، لیکن دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

گرمجوش عوامی بیانات کے پس پردہ شام اور یمن کے بارے میں دونوں ممالک کے درمیان گہرے اختلافات پوشیدہ ہیں، جب کہ سعودی عرب کو ایران کے ساتھ امریکہ کے نیوکلیئر معاہدہ کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں۔ سعودی عرب نے برسر عام ایران سے معاہدہ کی تائید کی، لیکن نجی نشستوں میں گہری تشویش ظاہر کی، کیونکہ ایران سعودی عرب کا دیرینہ کٹر حریف ہے۔ اوباما نے صرف یہ تسلیم کیا کہ دونوں فریقین کو باہم تبادلہ خیال کرنا چاہئے۔ عالمی امور میں دونوں ممالک کو خاص طورپر مشرق وسطی کے بارے میں چیلنجس درپیش ہیں۔ دونوں قائدین نے وسیع تر مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ اوباما نے کہا کہ دونوں ممالک یمن میں حکومت کی کار کردگی بحال کرنے اور فوری انسانی بحران سے اس غربت زدہ ملک کو چھٹکارا دلوانے کے سلسلے میں مشترکہ اندیشے رکھتے ہیں۔ سعودی عرب نے ایران کی حمایت یافتہ باغیوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے یمن پر بمباری کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ ملک سلمان کے برسر اقتدار آنے اور ان کے فرزند وزیر دفاع، ولیعہد دوم محمد کے بااختیار ہونے کے بعد ان حملوں کا آغاز ہوا۔ امریکہ اس کوشش کی تائید کرتا ہے، لیکن بار بار خبردار کرچکا ہے کہ جنگ کے اثرات بے قصور شہریوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

اوباما نے کہا کہ شام کے بحران کے بارے میں دونوں ممالک کے اندیشے مشترک ہیں اور سیاسی عبوری عمل شام میں اندرون ملک شروع ہونا چاہئے۔ اسی طرح ہولناک خانہ جنگی کا اختتام ممکن ہے، لیکن سعودی عرب کے اپوزیشن گروپس کی تائید جیسے جیش الاسلام جو مختلف کٹر اسلام پسند گروہوں کا وفاق ہے، وہائٹ ہاؤس کے لئے فکرمندی کی وجہ ہے۔ سعودی عرب سنی جنگجوؤں کو ایرانی حمایت یافتہ شیعہ نیم فوجی جنگجوؤں کا مدمقابل سمجھتا ہے۔ شام میں ایرانی حمایت یافتہ اسد حکومت کے خلاف خانہ جنگی جاری ہے۔ وسیع تر بنیادوں پر یہ عرب۔ عجم دشمنی کا تسلسل ہے۔ صدر امریکہ بارک اوباما نے کہا کہ ملک سلمان کی خواہش ہے کہ یمن میں سب کو ساتھ لے کر چلنے والی حکومت قائم ہو، تاکہ غربت زدہ عرب ملک کو انسانی بحران سے چھٹکارا حاصل ہوسکے۔ امریکہ، سعودی عرب کی اس خواہش میں برابر کا شریک ہے۔ دونوں قائدین نے ایران کے نیوکلیئر معاہدہ کے بارے میں بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا اور امریکہ نے سعودی عرب کے اندیشوں کا ازالہ کردیا۔ مارچ سے امریکہ سعودی زیر قیادت یمن میں مداخلت کی تائید کر رہا ہے، تاکہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو اقتدار پر قبضہ کرنے سے روکا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT