Sunday , October 22 2017
Home / اداریہ / صدر امریکہ کا دورۂ کیوبا

صدر امریکہ کا دورۂ کیوبا

آگ اور پانی کا جب ملاپ ہوتا ہے
یا تو آگ بجھتی ہے یا پانی بھاپ بنتا ہے
صدر امریکہ کا دورۂ کیوبا
صدر امریکہ بارک اوباما کا دورۂ کیوبا تاریخی اہمیت اختیار کررہا ہے۔ اس کمیونسٹ ملک کے ساتھ امریکہ کی برسوں پرانی رنجش کے ختم ہوجانے کا کوئی امکان نہیں تھا لیکن ڈسمبر 2014ء میں موجودہ صدر کیوبا راول کاسٹرو اور بارک اوباما کے درمیان ملاقات اور یہ اتفاق کرلئے جانے کے بعد کہ 1959ء میں موافق امریکی حکومت کو کیوبا انقلاب کے ذریعہ بیدخل کردیئے جانے کے بعد پیدا شدہ کشیدگی ختم کردی جائے گی، تب سے دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے سفارتی تعلقات کو اِستوار کرنے کی کوشش کی۔ مواصلات اور ایرلائین سرویس بحال کرنے جیسے تجارتی معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ دونوں ملکوں نے لا اِنفورسمنٹ اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے بھی باہمی تعاون سے اتفاق کیا۔ صدر امریکہ بارک اوباما نے اپنے پیشرو امریکی صدر کے برخلاف کیوبا کے ساتھ دوستی کو ترجیح دی اور جرأت مندانہ اقدام کرتے ہوئے کیوبا کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ سابق حکمراں 89 سالہ فیڈل کاسٹر نے امریکہ کو حاشیہ پر رکھ کر اس کے ’’سوپر پاور موقف‘‘ کی ہرگز پرواہ نہیں کی تھی۔ کیوبا کے ساتھ بڑے تنازعے اب بھی برقرار ہیں۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ 54 سال پرانے معاشی تحدیدات ہیں۔ اوباما نے ان تحدیدات کو نرم کرنے کی کوشش کی، لیکن ری پبلیکن اپوزیشن نے ایسا کرنے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کردی ہے۔ اس کے باوجود اوباما نے کیوبا کے معاملے میں اپنے عاجلانہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے صنعت و تجارت اور سفری تحدیدات میں نرمی پیدا کی۔ صدر امریکہ کو اب کیوبا کی اہم شکایت کو دُور کرنا ہے۔ یہ شکایت امریکہ کی بدنام زمانہ جیل ’’گوانتا ناموبے‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ اس بحری پٹی پر سے امریکی قبضہ کو برخاست کرنا ہے۔ اوباما کے دورہ کیوبا کے دوران اگرچیکہ گوانتا ناموبے بحری پٹی کے تعلق سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، لیکن کیوبا کے نئے صدر راول کاسٹرو کو امریکہ کے ساتھ برسوں پرانی عدم اعتماد کی فضاء کو ختم کرنے میں پہل کرنی چاہئے۔ صدر امریکہ بارک اوباما کو اپنے ملک میں ناقدین اور مخالفین کا سامنا ہے جو کیوبا کے ساتھ امریکی تعلقات کو استوار کرنے پر معترض ہیں۔ اگرچیکہ اوباما اپنے دورہ صدارت کے آخری ایام میں ماباقی دنیا کے ساتھ امریکہ کے روابط کو خوشگوار بنانا چاہتے ہیں۔ اس لئے کیوبا کے ساتھ صنعت و تجارت اور سیاحت کو فروغ دینے کے معاہدہ کے بعد کیوبا میں امریکی سیاحوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوا۔ سرد جنگ کے زمانہ میں کیوبا میں امریکی سیاحوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوا۔ سرد جنگ کے زمانہ میں کیوبا اور امریکہ کی کشیدگی میں زبردست اضافہ ہوا تھا۔ کیوبا کی نئی قیادت نے عالمی سطح پر اپنے ملک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجہ میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے راول کاسٹرو کا فیصلہ ایک نئی راہ کو کھولنے میں مددگار ثابت ہوا۔ راول کاسٹرو نے کیوبا میں معاشی صورتِ حال روزگار سیاحت کو فروغ دینے کا جو بیڑہ اُٹھایا ہے، اس کا سلسلہ صدر امریکہ کا دورہ کیوبا سے جاملتا ہے۔ امریکہ نے بھی حالیہ برسوں میں غیرمعمولی تبدیلیوں سے گذرتے ہوئے اوباما کی قیادت میں بیرونی دنیا کے ساتھ اچھے روابط قائم کرلئے ہیں۔ ایران کے ساتھ امریکہ کا دیرینہ تنازعہ بھی ختم کرنے کی پہل اوباما کی ایک اچھی کوشش ثابت ہوتی ہے۔ اب کیوبا کے ساتھ دشمنی کو ختم کردیا گیا ہے تو کیوبا کے اپنے مسائل ہیں۔ مغربی طاقتوں کی تحدیدات نے بھی اس کو معاشی طور پر ایک نازک سطح پر لاکھڑا کیا تھا ، لیکن صدر فیڈل کاسٹرو نے اپنے ملک کو کمزور ہونے نہیں دیا جس کے نتیجہ میں آج امریکی سربراہ کو کیوبا کی مستحکم موقف کے سامنے امریکہ کی پالیسی میں نرمی کو مضبوط بنانے میں مدد ملنی چاہئے۔ امریکہ اور کمیونسٹ کیوبا کا رابطہ بلاشبہ تعلقات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اب جلد سے جلد تجارتی پابندیوں کے خاتمہ کیساتھ دیگر کئی ضروری اقدامات بھی کرنے ہونگے۔ اب جبکہ امریکہ، کیوبا سفارتی تعلقات قائم ہوگئے ہیں تو اجتماعی طور پر اس بہتر بنانے کیلئے اقتصادی تجارتی اور مالی رکاوٹوں کو بھی ختم کردیا جانا چاہئے۔ صدر امریکہ کے اس تاریخی دورہ کے ساتھ اس تعلقات کو بہتر بنانے کی راہ میں ابھی جو رکاوٹیں ہیں، انہیں دُور کیا جانا چاہئے جن مسائل پر اتفاق رائے نہیں ہو پایا ہے، ان پر جلد سے جلد اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT