Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / صدر اوباما نے ہیروشیما کے دورے سے نئی تاریخ رقم کی

صدر اوباما نے ہیروشیما کے دورے سے نئی تاریخ رقم کی

HIROSHIMA, MAY 27 :- U.S. President Barack Obama (R) and Japanese Prime Minister Shinzo Abe walk in front of a cenotaph after they laid wreaths at Hiroshima Peace Memorial Park in Hiroshima, Japan May 27, 2016. REUTERS-12R

ہیروشیما 27 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکا کے ایک صدر نے دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرانے کا حکم دیا تھا۔اس واقعے کے ستر،اکہتر سال بعد ایک اور امریکی صدر (براک اوباما) ایٹم بم کی تباہی سے دوچار ہونے والے اس شہر میں پہنچے ہیں اور انھوں نے مرنے والے ہزاروں افراد کی امن یادگار پر پھول چڑھائے ہیں۔یہ کسی امریکی صدر کا ہیروشیما کا پہلا دورہ ہے۔ امریکہ نے 6 اگست 1945کو ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرایا تھا۔اس کے نتیجے میں آن واحد میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ اس سال کے آخر تک فوت ہوگئے تھے۔امریکا اور جاپان کی حکومتوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان ماضی کی تلخیوں کے خاتمے اور دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کوششوں میں مدد ملے گی۔لیکن امریکی صدر کے دورے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ناقدین نے دونوں ملکوں پر منتخب یادداشتوں کو باور کرانے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں نے متضاد پالیسیاں اختیار کررکھی ہیں۔ صدر امریکہ براک اوباما نے سوالوں کے تحریری جواب میں کہا کہ’’’میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی ہتھیار چلانے کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ نہیں لوں گا بلکہ میں یہ بتانا چاہوں گا کہ میں اور وزیراعظم شینزو آبی اکٹھے دنیا کو یہ دکھانے کے لیے آرہے ہیں کہ مصالحت ممکن ہے اور سابقہ بدترین حریف بھی مضبوط اتحادی بن سکتے ہیں‘‘۔
بمباری کے مہلوکین کو اوباما کا اعزاز ، جذباتی مناظر
ہیروشیما ۔ 27 مئی ۔(سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ براک اوباما نے 71 سال قبل ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے سے ہلاک ہونیو الے 1,40,000 افراد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی خاموش صداؤں کی وجہ سے نیوکلیئر ہتھیاروں کے ذخیرے کے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ وجود میں آیا ہے ۔ اوباما پہلے امریکی صدر ہیں جو پہلے ایٹم بم حملے کے بعد اس علاقہ کا دورہ کررہے ہیں ۔ انھوں نے بمباری میں زندہ بچ جانے والے افراد سے ملاقات بھی کی ۔ اس موقع پر ان سے گلے ملتے ہوئے کئی افراد اشک بار ہوگئے اور جذباتی مناظر دیکھے گئے ۔ صدر امریکہ نے اشارہ دیا کہ وہ متاثرین سے جو بمباری میں زندہ بچ گئے تھے گلے ملنا چاہتے ہیں ،چنانچہ متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے 79 سالہ شی گیکی موری اُن سے گلے ملے اور اس موقع پر دونوں آبدیدہ ہوگئے۔ یہ ملاقات ہیروشیما کے امن یادگار پارک ہوئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT