Saturday , September 23 2017
Home / دنیا / صدر بنگلہ دیش نے حوجی قائد کی درخواست رحم مسترد کردی

صدر بنگلہ دیش نے حوجی قائد کی درخواست رحم مسترد کردی

سزائے موت کی تعمیل کی راہ ہموار ‘ تیاریوں کا آغاز‘ احکام وصول ہونے کی جیل عہدیدار کی توثیق

ڈھاکہ ۔9اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) صدر بنگلہ دیش عبدالحمید نے ممنوعہ حرکت المجاہد الاسلامی کے صدر مفتی عبدالحنان اور ان کے دیگر دو ساتھیوں کی  رحم کی درخواستیں مسترد کردیں ۔ اس طرح ان کی پھانسی کی سزا پر تعمیل کی راہ ہموار ہوگئی ۔ انہوں نے ایک درگاہ پر حملہ کیا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور برطانوی ہائی کمشنر زخمی ہوگئے تھے ۔ صدر حمید نے ان کی رحم کی درخواستیں ان کی جانب سے لمحہ آخر پھانسی کی سزا سے بچنے کی کوششوں کے تحت صدر سے رحم کی درخواست کی تھی ۔ بنگلہ دیش ایک ترجمان نے کہا کہ ہمیں صدارتی فیصلہ وصول ہوچکا ہے اور جیل کے قواعد کے مطابق مجرموں کو کسی بھی وقت پھانسی دی جاسکتی ہے ۔ وزیر داخلہ اسد الزماں خان نے کہا کہ سزا کے حکم کی تعمیل کیلئے تیاریاں جاری ہیں ۔ بنگلہ دیش کے قانون نظام کے مطابق مجرم صدر مملکت سے رحم کی درخواست کرسکتے ہیں ‘ جب تک وہ معاف نہیں کئے جاتے جیل کے عہدیدار انہیں سزا سنائے جانے کے وقت سے چار ہفتے بعد کسی وقت بھی سزائے موت دے سکتے ہیں ۔ عدالت مرافعہ نے ان کی سزائے موت کی توثیق کردی تھی ۔ 20دن قبل اس توثیق کے احکامات حاصل ہوئے تھے جس کی مجرموں کو فوری اطلاع دی گئی تھی ۔ 19مارچ کو سپریم کورٹ نے سابق فیصلہ کی دوبارہ توثیق کردی ۔ حنان اور ان کے دیگر دو ساتھیوں کو برطانوی قافلہ پر حملہ کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی ۔ بنگلہ دیشی نژاد برطانوی ہائی کمشنر انور چودھری دستی بم حملہ سے جو شمالی مشرقی سلہٹ کی ایک درگاہ پر کیا گیا تھا ‘ جس میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے اور تمام کے تمام ملازم پولیس تھے جب کہ دیگر 70 زخمی ہوئے تھے ۔ انور کو معمولی زخم آئے تھے ۔ حوجی کے کارکنوں نے درگاہ حضرت شاہ جلالؒ سلہٹ پر یہ حملہ کیا تھا ۔ ایک ٹریبونل نے مقدمہ کی عاجلانہ سماعت کی تھی اور 23ڈسمبر 2008ء کو فیصلہ سنایا تھا ۔ حنان اور دیگر 7 افراد نے حوجی کے کارکن تھے ‘جنہیں ڈھاکہ ایک اور عدالت نے 2001ء کے مہلک بم حملہ کی سزا کے طور پر سزائے موت سنائی تھی ۔ ایک سرکاری باغ میں بنگلہ دیشی سال نو تقاریب کے دوران حملہ میں 10افراد ہلاک ہوئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT