Thursday , August 17 2017
Home / اداریہ / صدر جمہوریہ کا دورۂ چین

صدر جمہوریہ کا دورۂ چین

صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے چین کا چار روزہ سرکاری دورہ کیا اور باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی سمت پیشرفت کا جائزہ لیا ۔ صدر جمہوریہ کا یہ دورہ چین کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ہندوستان اور چین دو بڑے اور طاقتور ممالک ہیںاور ان کے تعلقات میں حالیہ عرصہ میں قدرے سرد مہری اور کشیدگی پیدا ہوئی ہے ۔ دونوںملکوں کے مابین جو دوستانہ تعلقات اور قربتیں رہی تھیں وہ بتدریج ختم ہو رہی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ چین کے تعلقات پاکستان سے جو کبھی محض رسمی سے ہوا کرتے تھے اب بہت قریبی اور گہرے ہوگے ہیں۔ کئی شعبہ جات میں دونوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون و اشتراک کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جبکہ ہندوستان اور امریکہ کے مابین روابط کافی گہرے اور اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں۔ ماضی میں چین اور ہندوستان کی طرح امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کافی قریبی اور گہرے ہوا کرتے تھے لیکن اب یہ مساوات بدل گئی ہے ۔ ایسے میں چین اور ہندوستان کے تعلقات کو استوار کرنے کی جو بھی کوشش ہوتی ہے وہ خوش آئند ہی کہی جاسکتی ہے ۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے چین کی قیادت کے ساتھ بات چیت میں اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ ان کا اصرار تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے مسئلہ پر دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں ہی ممالک دہشت گردی سے متاثر بھی ہیں۔ صدر جمہوریہ نے ہندوستان کی نیوکلئیر سپلائرس گروپ میں شمولیت اور جئیش محمد تنظیم کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی کوششوں کے تعلق سے بھی چین سے تبادلہ خیال کیا ۔ یہ دونوں مسائل ہندوستان کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اس کی راہ میں چین ہی سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔ چین نے جہاں نیوکلئیر سپلائرس گروپ میں ہندوستان کی شمولیت کو روک دیا ہے وہیں وہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے سے بھی روک رہا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ قوانین کے مطابق فی الحال ایسا نہیں ہوسکتا ۔ یہ دونوں ہی امور ہندوستان کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ جئیش محمد پر ہندوستان میں کئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہنے کا الزام ہے ۔

نیوکلئیر سپلائرس گروپ میں ہندوستان کی شمولیت کو حالانکہ امریکہ نے ہری جھنڈی دکھا دی ہے لیکن چین اس راہ میں بھی رکاوٹ ہے ۔ وہ محض پاکستان کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے اور جب تک خود چین اور ہندوستان کے تعلقات میں بہتری پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک پاکستان کو چین کے ذریعہ سے اپنے مقاصد کی تکمیل اور ہندوستان کی بہتری اور اس کے عزائم کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے مدد ملتی رہے گی ۔پاکستان چین کے ذریعہ اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوتا رہے گا ۔ ہندوستان اور چین کے مابین سرحدی تنازعہ بھی ہے اور سرحدات پر چین کی افواج کی جانب سے وقفہ وقفہ سے مختلف سرگرمیاں بھی ہندوستان کیلئے تشویش کا باعث ہیں۔ ہندوستان ‘ اس مسئلہ پر بھی چین کے ساتھ بات چیت کرتا رہا ہے لیکن اس بات چیت کو کامیاب نہیں کہا جاسکتا ۔ چین پر اثر انداز ہونے کی ضرورت ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو سمجھے اور امریکہ کی مخالفت میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو کشیدگی یا سرد مہری کی نذر نہ کیا جائے ۔ ہندوستان اور چین دو بڑے ممالک ہیں اور یہ ایک دوسرے سے بہتر پڑوسیوں جیسے اور قریبی روابط رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے مابین اگر بھروسے اور اعتماد کی فضا پیدا کی جاتی ہے تو دنیا کے بے شمار امور میں یہ اپنے رول کو منواسکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی معیشت بھی دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار کی جاتی ہے اور اس محاذ پر بھی دونوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے سارے ایشیا کی ترقی کو یقینی بنانے میں اہم ترین رول نبھا سکتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے مابین سرحدی تنازعہ ہو یا پھر دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے باہمی تعاون و اشتراک ہو ‘ معاشی تعلقات ہوں یا تجارت کو فروغ دینا ہو یا پھر صنعتی شعبہ کی ترقی کو یقینی بنانا ہو ہر شعبہ ایسا ہے جس میں دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے بے مثال ترقی کرسکتے ہیں اور دنیا پر اثر انداز بھی ہوسکتے ہیں۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کیلئے مثال قائم کرسکتے ہیں اور خود دونوں ملکوں کے عوام کو ترقی کے ثمرات سے مستفید بھی کیا جاسکتا ہے ۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دو بڑے اور طاقتور پڑوسی ممالک کے باہمی تعلقات کو کسی تیسرے ملک کی دوستی یا مخالفت کی بنیاد پر متاثر ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے اور نہ ہی ان تعلقات کو کسی اور ملک کی جانب سے اپنے مفادات یا مقاصد کی تکمیل کیلئے استحصال کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ اگر اس بات کو سمجھ لیا جائے تو پھر ہند ۔ چین تعلقات کوبہتر بنانا زیادہ مشکل نہیں ہوسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT