Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / صدر جمہوریہ کی حقیقت بیانی

صدر جمہوریہ کی حقیقت بیانی

مجید صدیقی

27 جنوری کو دہلی میں نائب صدر جمہوریہ ہند حامد انصاری کے ہاتھوں صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کی کتاب کی رسم اجراء انجام پائی جس میں انھوں نے اپنی روداد زندگی کو شامل کیا ہے ۔ کتاب کا نام ’’دی ٹربولنٹ ایئرس 1980-96‘‘ ہے ۔جناب مکرجی نے اپنی اس کتاب میں اپنی سیاسی زندگی کے دوران پیش آئے اہم واقعات کا احاطہ کیا ہے جیسے اندرا گاندھی کا قتل ، بابری مسجد کی شہادت ، آپریشن بلیو اسٹار اور راجیو گاندھی کی کابینہ اور کانگریس سے ان کا اخراج جیسے حساس موضوعات پر اپنا قلم اٹھایا ہے ۔ یہ کتاب جو دوسری کتاب ہے ان کی یادداشتوں پر مشتمل ہے ۔
مسٹر مکرجی نے اپنی صاف گوئی ، بیباکی کی کا اس کتاب میں اس وقت کے سیاسی حالات پیش کرتے ہوئے اظہار کیا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’رام مندر کی کشادگی کا فیصلہ وزیراعظم راجیو گاندھی کا غلط فیصلہ تھا اور بابری مسجد کی شہادت ’’دھوکہ دہی اور عہد شکنی‘‘ تھی اور ان واقعات سے عالمی سطح پر ہندوستان کی شیبہ کو زبردست نقصان پہنچا ہے ۔ انھوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ آزادی کے بعد کے دنوں میں یہ دور ہندوستان کی تاریخ کا انتہائی پرآشوب اور ہنگامہ خیز دور رہا ہے ۔
پرنب مکرجی نے لکھا کہ رام مندر کا دروازہ کھولنے اور بابری مسجد کا انہدام دو ایسے تاریخی واقعات ہندوستان میں ہوئے ہیں جس سے ملک کا سیکولر تانہ بانہ متاثر ہوا ہے اور وہ ایک دہشت گردی کا نقطہ آغاز سمجھا جائے گا ۔ ملک کے عوام اورسیاسی مفکرین کے یہ اندازے درست ثابت ہوئے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے ملک میں دہشت گردی اور دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔
جناب مکرجی نے بڑے درد اور دکھ سے اس بات کا اظہار کیا کہ بابری مسجد کو منہدم نہیں کیا جانا چاہئے تھا اور اس گھناؤنی سازش میں کانگریس کے وزیراعظم پی وی نرسمہاراؤ نے ایک اہم رول ادا کیا ہے ۔ انھوں نے ہندوستانی عوام خصوصاً مسلمانو کو یہ تیقن دیا تھا کہ کارسیوکوں کو متنازعہ عمارت سے دور رکھا جائے گا  ۔لیکن نرسمہاراؤ جو کہ آر ایس ایس کی ذہنیت کے حامل کانگریس کی صفوں میں گھسے ہوئے تھے اپنے وعدے سے منحرف ہو کر اپنے فرائض منصبی کو بھول کر اپنے کمرہ کا دروازہ بند کرکے ساری دنیا سے رابطہ ختم کرلئے اور گیان دھیان میں چلے گئے تھے اور جب تک بابری مسجد پوری طرح شہید نہ کردی گئی تب تک وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلے ۔ یہ دھوکہ اور غداری نہیں تو اور کیا ہے ۔ جس شخص کے کاندھوں پر وزارت عظمی کی بھاری ذمہ داری ہے اور جو سارے ملک کے لا اینڈ آرڈر اور ہر چیز کا ذمہ دار ہے وہی اگر اس طرح کی حرکت کرتا ہو تو انتظامیہ کا تو بس خدا حافظ ۔
پرنب مکرجی کے مطابق مسجد کا انہدام ایک مجنونانہ عمل تھا ۔ جس کی ہمت افزائی کرنے والوں میں وشوا ہندو پریشد کے قائدین اشکوک سنگھل ،پروین توگاڑیہ ، ونئے کٹیار ، بی جے پی قائدین ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ، راجناتھ سنگھ ، واجپائی  ، اوما بھارتی ، سشما سوراج اور بے شمار سادھو اور سادھویاں کررہے تھے ۔ دیکھا جائے تو مسجد کا انہدام ایک منظم سازش تھی جس کے لئے ایک خاص دستے کو 10 روز سے ٹریننگ دی جارہی تھی ورنہ اس جگہ توڑنے پھوڑنے کے ہتھیار جیسے سبّل ، پھاوڑے  ،کدال کہاں سے فوری دستیاب ہوتے ۔ یہ سب پہلے سے منصوبہ بند کام تھا ۔
دوسری اہم بات اس سلسلہ میں اس وقت کے چیف منسٹر کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں حلفیہ بیان داخل کیا تھا کہ 6 ڈسمبر کو بابری مسجد کو کچھ نہیں ہوگا اور بہر طور اس کی حفاظت کی جائے گی ۔ لیکن ہوا کیا وہ آپ ہم سب دیکھ چکے ہیں ۔ یہ سب دھوکہ اور جھوٹ پر مبنی بیانات تھے ۔ اس کی سزا کے طور پر کلیان سنگھ کو کورٹ میں ایکدن کی عدالت میں ٹھہرنے کی سزا ہوئی جرم کتنا گھناؤنا اور سزا کتنی معمولی غور کرنے والی بات ہے  ۔انھیں اب اپنی کارکردگی کی بنیاد پر راجستھان کی گورنری سے نوازا گیا ہے ۔ اوما بھارتی پہلے بھی اور اب بھی مرکزی وزیر ہیں ۔ اڈوانی نائب وزیراعظم اور جوشی مرکزی وزیر رہ چکے ہیں ۔
اگر ملک کے عوام نے اب بھی سنگھ پریوار کے ہتھکنڈوں کو نہیں پہچانا تو آگے ملک کا سیکولر کردار داؤ پر لگ سکتا ہے اور آنے والے دن اور بھی بھیانک ہوسکتے ہیں جسے بھگتنے کے لئے ہمیں تیار رہنا ہوگا ۔
عوام محسوس کرتے ہیں کہ ملک میں عدم رواداری اور دہشت گردی کی فضا ، بابری مسجد کی شہادت کے بعد پروان چڑھی ہے ۔ ایک افسوسناک بات یہ ہے کہ بابری مسجد کے انہدام ، رتھ یاترا کے دوران فرقہ پرستی پھیلانے والے مجرم ابھی تک قانون کے پنجے سے آزاد ہیں ۔ اس طرح ان کی ہمتیں اور بلند ہوچکی ہیں ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سبرامنیم سوامی بی جے پی قائد کھلے عام روہت ویمولا کی تائید کرنے والوں کو ’’کتّے‘‘ کہتے ہیں اور مساجد میں دیوی دیوتاؤں کو رکھنے کی بات کرتے ہیں ۔ پھر بھی آزاد ہیں ۔ سادھوی پراچی بھی اسی طرح کے بیانات دیا کرتی ہیں ۔
پرنب مکرجی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ بابری مسجد سانحہ سے نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کے دل کو ٹھیس پہنچی بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کو تکلیف پہنچی ۔ ہندوستان کی شبیہ جو ایک روادار اور تکثیری سماج کی ہے اس واقعہ سے مسخ ہوئی ہے ۔ لیکن فرقہ پرست طاقتوں کو اسکی کوئی پروا نہیں ہے ۔
انھوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے شاہ بانو کیس میں غیر ضروری مداخلت کی تھی جس سے انکی امیج متاثر ہوئی ۔
انھوں نے قوم کو اپنے ان خیالات کے ذریعہ انتباہ دیا ہے کہ وہ ملک کی فرقہ پرست طاقتوں سے ہوشیار رہیں جو صرف مٹھی بھر افراد ہیں اور عوام میں کسی قیمت پر اتحاد و یکجہتی بنائے رکھنے کی کوشش کریں ۔ جناب مکرجی ایک محب وطن ، دور اندیش اور فرض شناس سیاستداں اور صدر جمہوریہ ہیں جو ربر اسٹامپ بالکل نہیں ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ ماضی کی ان غلطیوں کی سزا اب کانگریس بھگت رہی ہے ۔ ملک میں موجودہ فرقہ پرست طاقتیں حکومت کررہی ہیں جو ماضی میں مسلمانوں سے کئے گئے کھلواڑ کا نتیجہ ہے کہ آج عدم رواداری نے رواداری کی جگہ لے لی ہے ۔ موجودہ حکومت تو سچ اور انصاف کی بات یا پھر اقلیتوں کے تحفظ کی کوئی بات یا کوئی مشورہ سننے کو تیار نہیں ہے ۔ سنگھ پریوار مسلمانوں کو حاشیہ پر لا کر انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے پر تلی ہوئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT