Wednesday , May 24 2017
Home / شہر کی خبریں / صدر جمہوریہ کے عہدہ کے لیے متفقہ رائے میں ڈگ وجئے سنگھ رکاوٹ

صدر جمہوریہ کے عہدہ کے لیے متفقہ رائے میں ڈگ وجئے سنگھ رکاوٹ

مرکزی کانگریس قائد کے ریمارکس پر ٹی آر ایس اور کانگریس میں دوریاں ، ٹی آر ایس کی این ڈی اے سے قربت
حیدرآباد۔ 4 مئی (سیاست نیوز) ملک کی اپوزیشن جماعتیں صدرکانگریس سونیا گاندھی کی قیادت میں صدر جمہوریہ کے عہدے کے لیے متفقہ امیدوار کی مساعی کررہے ہیں تو دوسری طرف کانگریس کے جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ نے تلنگانہ میں برسر اقتدار ٹی آر ایس کو کانگریس سے دور کرنے کا کام کیا ہے۔ تلنگانہ پولیس کے خلاف ڈگ وجئے سنگھ کے حالیہ متنازعہ ریمارکس سے برہم برسر اقتدار پارٹی نے صدارتی امیدوار کے مسئلہ پر صدر کانگریس سونیا گاندھی سے ملاقات سے بھی انکار کردیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ دیگر جماعتوں کی طرح ٹی آر ایس قیادت سے خواہش کی گئی تھی کہ وہ صدر کانگریس سونیا گاندھی سے ملاقات کریں تاکہ صدارتی عہدے کے امیدوار کے مسئلہ پر بات چیت کی جاسکے۔ ڈگ وجئے سنگھ کے متنازعہ ریمارک میں ٹی آر ایس کو مرکز میں برسر اقتدار این ڈی اے کے قریب کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے قریبی ساتھیوں کو اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ٹی آر ایس صدارتی انتخابات میں این ڈی اے امیدوار کی تائید کرے گی۔ ٹی آر ایس نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ریاست میں کانگریس اور بی جے پی سے یکساں طور پر دوری برقرار رکھی تھی۔ تاہم حالیہ تبدیلیوں اور مرکزی حکومت کے پاس زیر التوا بعض اہم کاموں کی یکسوئی کے پیش نظر این ڈی اے امیدوار کی تائید کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس اپنی ادبی طاقت کے اعتبار سے 22 ہزار پوائنٹس رکھتی ہے جو صدارتی الیکشن میں اہمیت کے حامل ہوں گے۔ جولائی میں نئے صدر کے انتخاب کا امکان ہے۔ ٹی آر ایس کے 17 ارکان پارلیمنٹ اور 82 ارکان اسمبلی ہیں اور صدارتی الیکشن میں ان کی یہ طاقت 22048 ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر ملک بھر میں ٹی آر ایس کے پاس 1.9 فیصد کی طاقت موجود ہے جو کسی بھی امیدوار کی کامیابی میں اہم رول ادا کرسکتی ہے۔ برسر اقتدار این ڈی اے کو فی الوقت 25,354 ووٹ کی کمی ہے اور ٹی آر ایس کی تائید کے بعد بی جے پی کو صرف 3306 ووٹ کی ضرورت پڑے گی۔ ٹی آر ایس نے اگرچہ صدارتی چنائو میں اپنی حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ کانگریس زیر قیادت اتحاد کی تائید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور چیف منسٹر کی دختر کویتا نے اس مسئلہ میں کہا کہ صدارتی انتخابات میں قومی جماعتوں کے امیدواروں کے اعلان کے بعد ہی تائید کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی صدر چندر شیکھر رائو مناسب فیصلہ کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈگ وجئے سنگھ کی جانب سے پولیس پر فرضی آئی ایس آئی ایس ویب سائٹ چلانے اور مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیم میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کے الزام سے ٹی آر ایس سخت برہم ہے۔ کانگریس کے بعض قائدین نے برسر اقتدار پارٹی کو اپنی ناراضگی سے واقف کرایا تاہم وہ کانگریس کی زیر قیادت مشترکہ امیدوار کے حق میں ٹی آر ایس کی تائید کو حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا کے اسمبلی انتخابات سے قبل این ڈی اے محاذ کو صدارتی امیدوار کی کامیابی کے لیے 79274 ووٹوں کی کمی تھی لیکن اتراکھنڈ اور بی جے پی میں شاندار کامیابی کے بعد صورتحال بی جے پی کے حق میں ہوچکی ہے۔ الیکٹورل کالج میں بی جے پی اور حلیفوں کے جملہ ووٹ 4,34,182 تھے جو اسمبلی انتخابات کے بعد 5,24,088 تک پہنچ گئے۔ صدارتی الیکشن کا الیکٹورل کالج ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ووٹ کی ویلیو علاقے کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ تمام ارکان پارلیمنٹ کے ووٹ کی حیثیت یکساں ہوتی ہے جبکہ ارکان اسمبلی کے ووٹ کی قیمت ریاستوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT