Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / صدر عآپ کجریوال پر بدعنوانیوںکا الزام، سزا ملنی چاہئے :کپل مشرا

صدر عآپ کجریوال پر بدعنوانیوںکا الزام، سزا ملنی چاہئے :کپل مشرا

الیکشن کمیشن اور انکم ٹیکس محکمے سے حقیقی معلومات تین سال پوشیدہ رکھی گئیں ‘ کئی چندہ دہندگان کے ایکسیس بینک میں اکاؤنٹ

نئی دہلی، 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام)عام آدمی پارٹی سے معطل رکن اسمبلی اور دہلی حکومت کے برخاست وزیر کپل مشرا نے آج بہت سارے ثبوتوں کے ساتھ وزیر اعلی اروند کجریوال پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اس کے لیے انہیں جیل کی سزا ملنی چاہئے ۔پانچویں روز بھوک ہڑتال کے دوران فائلوں اور دستاویزات کے ساتھ میڈیا کے سامنے آئے ۔مشرا نے اس موقع پرکجریوال حکومت کے کروڑوں روپئے کے چندہ کے لین دین کی تفصیلات پیش کی  اور بتایا کہ کس طرح فرضی کمپنیوں کے ذریعہ لین دین کیا گیا۔ کس طرح سے فرضی کمپنیوں سے پارٹی نے چندہ جمع کیا اور اس کی معلومات الیکشن کمیشن اور محکمہ انکم ٹیکس سے پوشیدہ رکھاگیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بار بار کہنے کے باوجود کجریوال اور نہ ہی ان کی پارٹی کے ان پانچ وزراء کے بیرونی دورے کی اطلاعات فراہم کی گئی جس میں سرکاری فنڈز کا استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارا کھیل حوالہ کا ہے اور بلیک منی کو سفید کرنے کا ہے ۔

مشرا نے کہا کہ 2013-14 کے لیے پارٹی کے اکاؤنٹ میں جو پیسہ تھا اس کا حساب کتاب الیکشن کمیشن سے چھپایا گیا۔ چندے کے حساب کی تفصیلات پارٹی کی ویب سائٹ پر نہیں ڈالی گئی۔ یہاں تک کی پارٹی کے کارکنوں سے بھی سچ کوے چھپایا گیا اور انہیں بھی تاریکی میں رکھا گیا۔ مشرا نے اپنے تازہ انکشاف میں کہا کہ عام آدمی پارٹی نے تین سال بعد محکمہ انکم ٹیکس اور الیکشن کمیشن کو اکاؤنٹ میں جمع ساری رقومات کی تفصیلات بدل دیں۔ سال 2015-16 میں بینک میں 65 کروڑ سے زیادہ رقم جمع تھی، لیکن الیکشن کمیشن کو بتایا گیا 32 کروڑ ہی جمع ہیں۔ الیکشن کمیشن اور محکمہ انکم ٹیکس سے مسلسل تین سال تک سچی معلومات چھپائی گئیں۔انھو ں نے کہا کہ کئی فرضی کمپنیوں کو محکمہ انکم ٹیکس نے اپنے ریڈار پر لیا ہے ۔ دو کروڑ کے حساب کتاب کی جانچ ہو رہی ہے جس کے بارے میں کجریوال باخبرہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کس نے اورکب ان کے اکاؤنٹ میں چندہ کی رقم جمع کی انہیں اس کی اطلاع نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محلہ کلینک کے نام پر دھوکہ کیا گیا۔ نیل نام کے ایک شخص کا تعارف کرانے کے بعد انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس تعلق سے کاغذات یکجا کئے ہیں۔ انہوں نے کئی کمپنیوں کے نام واضح طور پر لے کر کہا کہ تقریبا 16 فرضی کمپنیوں سے لین دین کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کچھ ایسے آدمیوں کے نام بھی لئے جن کے نام سے چندہ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان ساری باتوں کی معلومات وزیر اعلی کو تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان میں کئی کے اکاؤنٹ کرشنا نگر واقع ایکسس بینک کی شاخ میں ہیں جہاں نوٹ بندي کے دوران چھاپہ مارا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT