Friday , July 28 2017
Home / اداریہ / صدر فلسطین کا دورہ ہند

صدر فلسطین کا دورہ ہند

ہندوستان ، مملکت فلسطین کا دیرینہ روایتی حامی ملک ہے ۔ ابتداء میں ہندوستان کا اسرائیل کی جانب جھکاؤ نہیں تھا اور نہ ہی اس یہودی مملکت کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار تھے لیکن حالیہ برسوں میں دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ درآمدات کنندہ کی حیثیت سے اس نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات کو فروغ دینا شروع کیا ۔ صدر فلسطین محمود عباس کا دورہ ہند اور وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل سے قبل ہندوستان کے ساتھ دیرینہ دوستی کے احیاء کا مقصد ، فلسطین کی تعمیر نو اور ترقی میں ہندوستان کے تعاون کو موثر بنانا ہے ۔ وزیراعظم مودی کے جولائی میں ہونے والے مجوزہ دورہ اسرائیل سے قبل صدر فلسطین محمود عباس کی ہندوستان آمد ایک خاص اہمیت کا حامل دورہ ہے کیوں کہ یہودی مملکت کے ساتھ ہندوستان کے 25 سالہ سفارتی دور میں پہلی مرتبہ نریندر مودی پہلے وزیراعظم ہیں جو اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں ۔ وزیر اعظم نے محمود عباس سے ملاقات کے بعد فلسطین کے کاز کے بارے میں ہندوستان کے موقف اعادہ پیش کیا ۔ ان کی جانب سے یہ زور دیا گیا کہ اسرائیل اور فلسطین کو اپنے دیرینہ علاقائی تنازعات کی جامع یکسوئی کے لیے حل تلاش کرلینا چاہئے ۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے چیلنجس کو سیاسی مذاکرات اور پرامن بقائے باہم کی کوششوں کے ذریعہ ہی دور کیا جاسکتا ہے ۔ ہندوستان نے اگرچیکہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان معطل شدہ بات چیت کے احیاء کی امید ظاہر کی ہے ۔ وزیراعظم مودی کو اپنے دورہ اسرائیل کے موقع پر یہ ذہن بنانے کا موقع ملا ہے کہ وہ فلسطینی کاز کے لیے ہندوستان کے موقف کو واضح کریں ۔ جس طرح انہوں نے صدر فلسطین محمود عباس سے ملاقات کے بعد عملی تعاون پر زور دیا اور فلسطینی معیشت کو بنانے اور اس کے عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے باہمی اتفاق کیا ہے ۔ ایسے میں یہ امید تو پیدا ہوتی ہے کہ ہندوستان وزیراعظم مودی کی قیادت میں فلسطینی ترقی اور اس کی کوششوں کی حمایت میں آگے آئے گا ۔ صدر محمود عباس نے وزیراعظم مودی سے ستمبر 2015 میں نیویارک سلامتی کونسل اجلاس کے موقع پر بھی ملاقات کی ہے اور حالیہ برسوں میں ان کا یہ پانچواں دورہ ہند ہے ۔ فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم کے پڑھتے واقعات سے ہر کوئی واقف ہے ۔ جنگ سے متاثرہ اس ملک میں فلسطینی عوام کا معیار زندگی ایک تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے ۔

ہندوستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حق میں آواز اٹھائی ہے مگر جب سے اسرائیل کی طرفداری کرنے والی پالیسی کو ترجیح دی جارہی ہے ۔ اس سے تشویش پیدا ہونا فطری امر ہے ۔ ہندوستان اور اس کی موجودہ قیادت کو یہ علم بخوبی ہوگا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کو سلب کرنے والی اسرائیلی پالیسیوں نے فلسطین مملکت کے تصور کو دھکہ پہونچایا ہے ۔ ہندوستان کی حالیہ موافق اسرائیل پالیسیوں کے بارے میں مشرق وسطیٰ میں جو تشویش پائی جاتی ہے اس کو دور کرنے کا موقع مل رہا ہے تو اس سے استفادہ کرنا مودی حکومت کا کام ہے کیوں کہ وزیراعظم مودی کے دورہ اسرائیل سے قبل دونوں ملکوں ہند ۔ اسرائیل سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے ۔ لیکن اس  کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ مشرق وسطیٰ کے اطراف و اکناف کے ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کس قدر وسیع اور مستحکم ہیں ۔ اسرائیل دفاعی شعبہ میں روس اور امریکہ کے بعد تیسرا سب سے بڑا ملک ہے جو ہندوستان کو ہتھیار سربراہ کرتا ہے ۔ جہاں تک فلسطینی کاز اور مشرق وسطیٰ امن کا معاملہ ہے ہندوستان کے بارے میں حالیہ برسوں کے دوران یہ تبدیلی خیالکے ساتھ سوچا جارہا ہے کہ ہندوستان نے فلسطینی مسائل کو نظر انداز کر کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنارہا ہے خاص کر اس نے یکطرفہ طور پر معاشی اور سیکوریٹی مقاصد کو ترجیح دینی شروع کی ہے ۔ بظاہر مودی حکومت فلسطینی مسائل پر اپنی تائید کو ترجیح دیتی نظر آئی ہے مگر اس نے اسرائیل اور فلسطین کے مسائل کو ایک خاص اہمیت دے کر دونوں ملکوں کو باہمی مذاکرات کی ترغیب دینے کی کوشش کا مظاہرہ بھی کررہی ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ میں ہندوستان کی دوستی کا نیا مرحلہ اور نئے باب کے آغاز کی علامت ظاہر ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT