Saturday , August 19 2017
Home / کھیل کی خبریں / صدر فیفا بننے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ، پلے کا بیان

صدر فیفا بننے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ، پلے کا بیان

میسی گزشتہ 10 سال میں بہترین ۔ نیمار اور رونالڈو کی بھی تعریف ۔ برازیلی فٹبال لجنڈ کی نیوز کانفرنس
کولکاتا ، 12 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) فٹبال لجنڈ پلے نے آج بیان دیا کہ وہ ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے کہ اس کھیل کی گورننگ باڈی فیفا کی سربراہی کریں، جو عدیم النظیر کرپشن اسکینڈل سے سنبھلنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ یہ اسکینڈل اس تنظیم کے صدر سپ بلاٹر اور یوئیفا سربراہ مائیکل پلاٹینی کی معطلی کا موجب بنا ہے۔ ’’نہیں، میرا فیفا کا صد بننے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،‘‘ تین ورلڈ کپ جیتنے والے واحد فٹبالر پلے نے ہندوستان میں اپنے ایک ہفتہ طویل سفر کے دوران اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں یہ بات کہی۔ فیفا اِس موسم گرما سے ہی وسیع تر بدعنوانی کے الزامات کے پیش نظر بحران میں مبتلا ہے، جبکہ امریکی محکمہ انصاف نے کئی اعلیٰ عہدید اروں کے خلاف باضابطہ الزامات عائد کئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بلاٹر اور پلاٹینی فیفا کی اخلاقیات کمیٹی کی جانب سے معطل کردیئے گئے ہیں۔ فیفا کے بورڈروم سے باہر کھیل کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے پلے نے ارجنٹائن کے فارورڈ لیونل میسی کو ’’گزشتہ 10 سال میں بہترین‘‘ قرار دیا لیکن ہم وطن برازیلی نیمار اور پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو کی بھی تعریف کی۔ ’’مختلف نسلوں کے کھلاڑیوں کا تقابل کرنا بہت مشکل امر ہے۔ مگر گزشتہ 10 برسوں میں میسی بہترین رہے ہیں۔ (کرسٹیانو) رونالڈو فارورڈ پوزیشن میں کھیلتے ہیں اور اسکور کرنے کوشاں رہتے ہیں جبکہ میسی مختلف انداز میں کھیلتے ہیں۔ میری ٹیم میں ، میں دونوں کو رکھنا چاہوں گا … ہمارے پاس نیمار ہے جن کا بھی اچھا مستقبل ہے۔‘‘ 74 سالہ لجنڈ نے اتفاق کیا کہ یہ کھیل کافی مسابقتی بن چکا ہے، لیکن پلے نے کہا کہ وہ اگر موجودہ نسل میں کھیلتے ، تب بھی وہ کامیاب ہوتے۔ ’’بلاشبہ آج فٹبال پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہے مگر جب خدا آپ کو فٹبال کھیلنے کی صلاحیتوں سے نوازے تو کوئی بھی نسل میں معاملہ یکساں رہتا ہے۔ فٹبال بس ہنر کا معاملہ ہے۔ مجھے یقین ہے ’بیٹو‘ اُتنا ہی کامیاب ہوتا اگر وہ اِس دور میں کھیلتا۔‘‘ فیفا جو سپ بلاٹر تنازعہ کے بعد سے بحران میں مبتلا ہے، اس کے بارے میں سوالات کے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے پلے نے تاہم کہا کہ وہ ’’صدر کے عہدہ کیلئے مقابلہ آرائی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں‘‘۔ ورلڈ کپ کے بعد جہاں وہ جرمنی کے مقابل 1-7 سے بری طرح ہارے، اپنے دور کا بھاری بھرکم برازیل بھلے ہی پہلے جیسی طاقت نہیں رہا اور اس کیلئے پلے نے ٹیم کے ماحول کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ جاریہ انڈین سوپر لیگ کے ڈیفنڈنگ چمپینس اٹلیٹیکو ڈی کولکاتا کیلئے مشورہ میں پلے نے کہا : ’’ہمیشہ اپنے حریفوں اور عوام کا احترام کریں، آپ بہترین ہوسکتے ہو مگر آپ ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھ سکتے ہو۔‘‘

TOPPOPULARRECENT