Wednesday , July 26 2017
Home / اداریہ / صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ایک ماہ

صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ایک ماہ

دل بہرحال اسیرغم دوراں ہی رہا
تم سے مل کر بھی ملاقات کا ارماں ہی رہا
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ایک ماہ
امریکہ کا وائیٹ ہاؤز ہر گذرتے دن کے ساتھ عالمی درد سر بنتا جارہا ہے۔ صدر کی حیثیت سے ڈونالڈ ٹرمپ کا ایک ماہ پورا ہورہا ہے۔ ان 30 دنوں میں خود امریکیوں اور ماباقی دنیا کے لوگوں کیلئے ہزارہا مسائل اور تنازعات پیدا ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نظم و نسق کے اندر ہی اختلافات ابھر کر سامنے آ چکے ہیں خاص کر روس کے ساتھ ڈونالڈ ٹرمپ کی قربت اور روس کے ساتھ ٹرمپ کے قومی سلامتی مشیر جنرل (ریٹائرڈ) مائیکل فلن کے نامناسب رابطہ پر تنازعہ گہرا ہوگیا ہے۔ اگرچیکہ مائیکل فلین نے استعفیٰ دیدیا ہے ان کی جگہ وائس ایڈمرل ہاروڈ کومشیر برائے قومی سلامتی بنایا جانے والا تھا مگر انہوں نے بھی یہ عہدہ حاصل کرنے سے انکار کردیا۔ ٹرمپ انتظامیہ میں اصل مسئلہ یہ پیدا ہوچکا ہیکہ آیا امریکی صدر کی حیثیت سے ڈونالڈ ٹرمپ کو روس سے حد سے زیادہ قربت رکھنے کی وجوہات کیا ہیں۔ جنرل مائیکل فلن کی روسی سفیر کے ساتھ فون پر بات چیت کے معاملے کا صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو کئی ہفتوں سے علم تھا۔ اس موضوع پر امریکہ کے اندر کئی سوالات اٹھ چکے ہیں جن کا جواب دینے سے قاصر ٹرمپ اپنی تجارت بچانے کیلئے الٹ پھیر کے ساتھ وضاحت کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ وہ روس میں تجارت کرنے اور تجارتی مقاصد کو انجام دینے کی طویل تاریخ رکھتے ہیں لیکن کئی کوششوں کے باوجود انہیں روس میں رئیل اسٹیٹ کا ایک بھی کام نہیں مل سکا تھا البتہ روس کے کئی بااثر مالیاتی اداروں کے ساتھ ان کی شراکت داری ہے اور ساری دنیا میں ان کے پراجکٹس پھیلے ہوئے ہیں۔ روسی سرمایہ کار ہی نے ان کے تمام قرصوں کے مسائل حل کئے ہیں اور دیوالیہ پن سے بچانے میں بھی روسی سرمایہ کاروں نے ان کی مدد کی ہے۔ ٹرمپ کے سابق اور موجودہ مشیران کی بڑی تعداد کا اب بھی روس کے ساتھ مالیاتی روابط ہیں۔ یہی وجہ ہیکہ صدر روس ولادیمیر پوٹن کے ساتھ دوستی کاہاتھ بڑھانے کی وہ کوشش کررہے ہیں تاکہ اپنی رئیل اسٹیٹ ایمپائر کو روس میں  بھی کھڑا کرسکیں۔ امریکہ کے کٹر حریف روس کے ساتھ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوستی امریکیوں کو بے چین کررہی ہے۔ ٹرمپ کی پارٹی ری پبلکن کے کئی سینئر قائدین نے روسی حکام کے ساتھ رابطوں کی وسیع تر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ نظم و نسق میں ابتداء ہی میں اتھل پتھل عالمی امور کیلئے درد سر بنتا جارہا ہے۔ روس، امریکہ قربت کو خطرناک تصور کرنے والوں نے ٹرمپ پر شدید تنقید کی ہے۔ جنرل فلن کا استعفیٰ بھی ایک ایسے وقت دیا گیا جب وزیراعظم کناڈا جسٹن ٹریڈیو نے واشنگٹن کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس ہوئے تھے۔ اس دورہ پر جنرل فلن کے استعفیٰ کے اثرات دیکھے گئے ہیں۔ ادھر وزیراعظم جاپان شینزوابے کے دورہ امریکہ کے فوری بعد شمالی کوریا کا میزائیل داغا جانا تو ایک خطرناک تبدیلی سمجھی جارہی ہے۔ اب وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو واشنگٹن پہنچے لیکن ٹرمپ نظم و نسق میں قومی سلامتی امور کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ اس ایک ماہ کی صدارت میں ٹرمپ نظم و نسق نے چین، ایران اور ونیزویلا کو بھی مشتعل کردیا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں نے ان ملکوں کو بھی تشویش میں مبتلاء کردیا ہے جو امریکہ کے ساتھ تجارتی اور سیکوریٹی تعلقات رکھتے ہیں اور ان شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ ہندوستان کے بشمول کئی ملکوں کو اپنے باہمی تجارتی تعلقات کے مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ اوباما نظم و نسق کے دوران جن ملکوں کے دوستانہ تعلقات کے علاوہ سربراہان مملکت کے شخصی روابط تھے ان میں بتدریج دوری اور کشیدگی پیدا ہوگی۔ قومی سلامتی مشیر کے غیابمیں امریکہ کے ساتھ پیدا  ہونے والے خطرات، داخلی اور خارجی امور کے علاوہ امریکی معاشی محاذ کو درپیش مسائل، غیرقانونی رقومات کی منتقلی، بردہ فروشی ا ور سائبر انفراسٹرکچر کے اندر پیدا ہونے والی سنگین خرابیوں کو صرف سلسلہ وار ایگزیکیٹیوز آڈرس کے ذریعہ دور نہیں کیا جاسکتا۔ ٹرمپ کیلئے وائیٹ ہاؤز سے زیادہ ان کا فلوریڈا کا تفریح مقام عزیز ہے۔ ٹرمپ کو اپنے دیگر کابینی رفقاء کی کارکردگی سے بھی ناراضگی ہے۔ صرف ایک ماہ کے اندر ٹرمپ نظم و نسق نازک موڑ پر کھڑا ہے اور وائیٹ ہاؤز دن بہ دن ساری دنیا کیلئے درد سر بن جائے گا۔ روس کے موضوع پر پوچھے جانے والے ہر سوال پر برہم ہونے والے ٹرمپ امریکی عوام کیلئے دن بہ دن مشکلات ہی پیدا کریں گے۔
گورنر آر بی آئی کی پالیسی اور تاجر طبقہ
ہندوستانی تاجر طبقہ کو نوٹ بندی کے بعد گورنر آر بی آئی سے کافی توقعات وابستہ تھیں خاص کر وہ مالیاتی سال کے ایک چوتھائی حصہ میں اہم شرح سود میں کمی کے اعلان کی امید کررہے تھے لیکن آر بی آئی نے سود کی موجودہ شرحوں کو ہی برقرار رکھا ہے اور ایک ’’غیرجانبدارانہ‘‘ پالیسی کا موقف اختیار کرلیا ہے۔ اس سے یہ واضح اشارہ ملتا ہیکہ عالمی مالیاتی بحران 2008-09ء کے بعد سے ہندوستان نے جو طویل مالیاتی راحت اقدامات کئے تھے، اب یہ راحت ختم کی جائے گی جو تاجر اپنے کاروبار کو وسعت دینے کا منصوبہ رکھتے تھے، شرح سود میں کسی کمی کا امکان نظر نہ آنے کے بعد تجارت کو وسعت دینے کا منصوبہ ترک کرنے مجبور ہوں گے۔ گورنر ارجیت پٹیل کی قیادت میں آر بی آئی نے ہندوستانی مارکٹ کے ساتھ اپنا رابطہ بھی کم کردیا ہے۔ ستمبر  میں عہدہ کا جائزہ لینے کے بعد سے وہ تاجر طبقہ سے ان کی بڑھتی دوری کو تشویشناک سمجھا  جارہا ہے۔ مرکز کی مودی حکومت بھی آر بی آئی کی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ایسے میں تاجر طبقہ کے حق میں راحت ملنے کا امکان موہوم دکھائی دیتا ہے۔ اگرچیکہ آر بی آئی کے گورنر کی پالیسی پر تاجر طبقہ کی جانب سے تنقیدیں ہورہی ہیں مگر تلخ حقیقت تو یہی ہیکہ ہندوستانی تاجر برادری اور عام آدمی یکساں طور پر متاثر ہے۔ نوٹ بندی کے بعد حکومت پیداوار بڑھانے کی کوشش کررہی ہے لیکن آر بی آئی کی پالیسی مخالف سمت میں کام کررہی ہے تو پھر عصری ہندوستان کی مالیاتی تاریخ پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان قوی ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT