Tuesday , May 23 2017
Home / Top Stories / صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی مشیر مائیکل فلائن مستعفی

صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی مشیر مائیکل فلائن مستعفی

صدر و نائب صدر کو اہم معلومات فراہم نہ کرنے کا شاخسانہ، جنرل کیلاگ (ریٹائرڈ) نئے مشیر

واشنگٹن ۔ 14 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازعہ قومی سلامتی مشیر مائیکل فلائن نے آج استعفیٰ دیدیا۔ کہا یہ جارہا ہیکہ انہوں نے نئے صدر ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل روس کے سفیر کے ساتھ روس پر عائد کی جانے والی امریکی تحدیدات کے موضوع پر تفصیلی بات چیت کی تھی اور بعدازاں اس بات چیت کو صیغہ راز میں رکھنے کی کوشش کی تھی۔ یاد رہیکہ فلائن کے استعفیٰ سے قبل یہ خبریں بھی گشت کررہی تھیں کہ گذشتہ ماہ جسٹس ڈپارٹمنٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو انتباہ دیا تھا کہ فلائن نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو روسی سفیر متعینہ امریکی سرگی کسایک سے کی گئی بات چیت کے متعلق گمراہ کیا تھا۔ یاد رہیکہ 58 سالہ فلائن کو امریکی صدر ٹرمپ کے انتخابی مہمات کے دوران ان کا سب سے قریبی رفیق تصور کیا جاتا تھا لیکن حیرت انگیز بات یہ ہیکہ وہ اس اعلیٰ سطحی عہدہ پر صرف تین ہفتہ کی قلیل مدت کیلئے ہی برقرار رہ سکے۔ لہٰذا جدید امریکہ کی تاریخ میں فلائن قلیل ترین مدت کیلئے خدمات انجام دینے والے عہدیدار بن گئے۔ فلائن کے استعفیٰ کے بعد قومی سلامتی مشیر کے عہدہ پر عبوری طور پر لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جوزف کیتھ کیلاگ کی تقرری عمل میں آئی ہے ۔ وائیٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں یہ بات کہی گئی جس میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہیکہ فوج کے سبکدوش لیفٹننٹ جنرل فلائن نے اپنے استعفیٰ نامہ میں صدر ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پنس سے انہیں نامکمل معلومات فراہم کرنے پر معذرت خواہی کی ہے۔ فلائن نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل انہوں نے روسی سفیر سے تفصیلی بات چیت کی تھی لیکن اس کی مکمل معلومات صدر اور نائب صدر کو نہیں دی تھی۔

اپنے استعفیٰ نامہ میں انہوں نے مزید تحریر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی قلیل مدتی میعاد کے دوران انہوں نے کئی ممالک کے اپنے ہم منصبوں، وزراء اور سفراء کے فون کالس موصول کئے تھے اور ان کالس کے ذریعہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ان کے مشیران اور دیگر قائدین کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب جب کسی بھی ملک میں اقتدار تبدیل ہوتا ہے تو اس نوعیت کی کالس آنا ایک عام بات ہے چونکہ یہ تمام واقعات یکے بعد  دیگرے اور پے درپے رونما ہوئے تھے لہٰذا وہ (فلائن) اس وقت کے نامزد نائب صدر مائیک پنس کو مکمل معلومات فراہم کرنے سے قاصر رہے جس میں سب سے اہم روسی سفیر کی فون کال تھی لہٰذا اس سلسلہ میں انہوں نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ صدر و نائب صدر سے معذرت خواہی کرلی ہے اور انہوں نے معذرت خواہی کو خوش دلی سے قبول بھی کرلیا ہے۔ فلائن نے کہا کہ صدر اور نائب صدر اس وقت اپنی عظیم الشان ٹیم تشکیل دینے میں مصروف ہیں اور انہیں توقع ہی کہ یہ ٹیم امریکہ کی تاریخ کی عظیم ترین ٹیم ثابت ہوگی۔ اس موقع پر فلائن کے اچانک استعفیٰ دینے پر میڈیا میں چہ میگوئیاں کی جارہی ہیں جہاں یہ بھی کہا جارہا ہیکہ صرف تین ماہ پر انا ٹرمپ انتظامیہ داخلی بحران کا شکار ہے اور سینئر رفقاء بھی اس میں ملوث ہیں۔ دوسری طرف فلائن کی جگہ لینے والے جنرل کیلاگ امریکی فوج کے ایک تجربہ کار جنرل مانے جاتے ہیں جنہوں نے 1967 سے 2003ء تک اپنی خدمات انجام دیں جبکہ ویتنام جنگ کے دوران انہیں سلور اسٹار جیسے فوجی  ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔ 1997ء تا 1998ء انہوں نے 82 ویں ایربورن ڈیویژن کے کمانڈر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں جبکہ سبکدوشی سے قبل جنرل کیلاگ کمانڈ، کنٹرول، کمیونکیشنز اور کمپیوٹرس ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT