Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / صدر کشمیر بار اسوسی ایشن کی این آئی اے میں دوبارہ طلبی

صدر کشمیر بار اسوسی ایشن کی این آئی اے میں دوبارہ طلبی

 

سری نگر۔ 13 ستمبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) نے کشمیر ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کو ایک بار پھر تفتیش کے لئے طلب کرلیا ہے ۔ میاں قیوم کو جمعرات 14 ستمبر کو نئی دہلی میں این آئی اے کے ہیڈکوارٹرس میں حاضر ہونے کے لئے کہا گیا ہے ۔ ذرائع نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایڈوکیٹ قیوم کو پاکستان اور دوسرے ممالک سے ہونے والی مبینہ ٹیرر فنڈنگ اور علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے این آئی اے کی جانب سے شروع کردہ تحقیقات کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کے لئے ایک بار پھر نئی دہلی طلب کیا گیا ہے ۔اس دوران کشمیر میں وکلاء نے این آئی اے کی طرف سے ایڈوکیٹ میاں قیوم کو ایک بار پھر نئی دہلی طلب کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 14 ستمبر سے ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک رکن نے یو این آئی کو بتایا کہ ہم نے ایڈوکیٹ قیوم کو بلاوجہ ہراسان کرنے اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف ہڑتال پر جانے کا فیصلہ متفقہ طور پر لیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہائی کورٹ وکلاء کے ساتھ ساتھ تمام ضلع اور منصف بار ایسوسی ایشنزجمعرات سے اپنی معمول کی سرگرمیاں معطل رکھیں گے۔کشمیر بار اسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ قیوم کو اس سے پہلے 6 ستمبر کو نئی دہلی میں این آئی اے کے ہیڈکوارٹرس پر طلب کیا گیا جہاں انہیں مسلسل کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ این آئی اے کی طلبی کے خلاف کشمیر میں وکلاء نے 8 ستمبر تک مسلسل چار روز تک اپنی معمول کی سرگرمیاں معطل رکھی تھیں۔ این آئی اے پہلے ہی متعدد علیحدگی پسند لیڈران، دو مبینہ پتھراؤ کرنے والوں اور ایک کشمیری تاجر کی گرفتاری عمل میں لاچکی ہے ۔ این آئی اے نے 5 ستمبر کو جنوبی کشمیر میں دو مبینہ پتھراؤ کرنے والوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار شدگان جاوید احمد بٹ ساکن کولگام اور کامران یوسف (فوٹو جرنلسٹ) ساکن پلوامہ کو گزشتہ ہفتے این آئی اے کی خصوصی عدالت نے دس دن تک جانچ ایجنسی کی حراست میں بھیج دیا۔ انہیں مبینہ طور پر پتھراؤ کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔این آئی اے نے 6 اور7 ستمبر کوکشمیر، جموں، نئی دہلی، ہریانہ اور پنجاب میں کم از کم تین درجن مقامات پر چھاپے مار کر تلاشیاں لیں۔ یہ چھاپے علیحدگی پسند قائدین اور تجارت پیشہ افراد کے گھروں اور دفاتر پر ڈالے گئے تھے۔ این آئی اے نے 24 جولائی کو 7 علیحدگی پسند قائدین کو گرفتار کرکے نئی دہلی منتقل کیا جہاں انہیں ریمانڈ پر تہاڑ جیل میں مقید رکھا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT