Thursday , October 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / صدقہ بہترین علاج ہے !

صدقہ بہترین علاج ہے !

صفات عالم تیمی

آج کل ہمہ اقسام کی بیماریاں بہت عام ہوچکی ہیں۔ کچھ بیماریاں تو ایسی ہیں جن کے علاج سے ڈاکٹر عاجز آچکے ہیں اور ہزار کوششوں کے باوجودمریض کو شفا نہیں مل رہی ہے، ممکن ہے اس مضمون کے پڑھنے والے یا اُن کے رشتے دار ایسی ہی کسی بیماری سے متاثر ہوں، جس میں بہت سارے پیسے خرچ ہوچکے ہوں ، اور اب اس سے عاجز آکر علاج ومعالجہ چھوڑ چکے ہوں۔ ایسے ہی بھائیوں اور بہنوں سے ہم کہنا چاہیں گے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، ایک ایسے روحانی علاج کا تجربہ کریں جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے بیان فرمایاہے، حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ دَاوُوْا مَرْضَآکُمْ بِالصَّدَقَۃِ  صدقہ کے ذریعہ اپنے مریضوں کا علاج کرو‘‘۔ اس حدیث کو امام البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع میں بیان کیا ہے۔
اللہ والوں نے ہردور میں اپنی مصیبت اور بیماری سے نجات کے لئے صدقہ و خیرات کیا ہے اور انہیں اس کے جسمانی اور روحانی فائدے بھی حاصل ہوئے ہیں۔ اس لیے اگر آپ نے ہر طرح کے علاج کا تجربہ کرلیا ہے اورعلاج کرتے کرتے تھک چکے ہیں تو اب صدقہ کے ذریعہ بھی علاج کا تجربہ کریں۔ آپ نے یوں تو بہت صدقہ کیا ہوگا، لیکن ابھی اس نیت سے صدقہ کریں کہ اللہ پاک ہمیں فلاں بیماری سے نجات دے یا ہمارے رشتے دار کو فلاں بیماری سے عافیت عطا فرما۔ اللہ نے چاہا تو اس کا اثر ضرور دیکھیں گے۔

آئے دن ہم اس طرح کے واقعات سنتے رہتے ہیں کہ صدقہ کرنے کی وجہ سے فلاں مرد یا عورت کو خطرناک بیماری سے نجات ملی ہے۔انہیں واقعات میں سے ایک سبق آموز واقعہ سعودی عرب کی ایک خاتون کا ہے۔ میرے ایک ثقہ اور نیک دوست نے بیان کیا کہ :
دارالحکومت ریاض کے شہر حریملاء میں امیر کبیر خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بلڈ کینسر کی مریض تھی، اللہ اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ اس کی دیکھ بھال کے لئے ایک انڈونیشیائی خادمہ کو بلایا گیا۔  خاتون دیندار، خلیق اور حسن اخلاق کی پیکر تھی۔ جب خادمہ کو آئے ایک ہفتہ بیت گیا تو خاتون نے محسوس کیا کہ خادمہ غسل خانے میں بہت دیر تک بیٹھتی ہے اور باربار جاتی ہے۔
تجسس سے بے تاب ہوکر ایک مرتبہ اس خاتون نے خادمہ سے بار بار غسل خانے جانے کا سبب دریافت کیا تو خادمہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی، اور کہا کہ میں نے بیس دن قبل ایک بچہ جنا ہے، جب مجھے انڈونیشیا میں ایجنسی کی طرف سے فون آیا تو میں نے موقع کو غنیمت سمجھا اور کام کے لئے چلی آئی کیوں کہ میری مالی حالت بہت خراب تھی، اور باتھ روم میں میرے بہت دیر تک رہنے کی وجہ یہ ہے کہ میرا سینہ دودھ سے بھرا ہوتا ہے، باتھ روم میں بیٹھ کر دودھ کو نچوڑ کر ہلکا کرتی ہوں۔ مجھے میرا بچہ بہت یاد آتا ہے اور بہت بے چین ہوجاؤں تو غسل خانہ جاتی ہوں اور وہاں رو رو کر اپنا جی ہلکا کرلیتی ہوں ۔

جب خاتون کو خادمہ کی حقیقت حال معلوم ہوئی تو اس نے فورا انڈونیشیا جانے والی پہلی پرواز میں اس کی نشست مختص کرادی اور ٹکٹ سمیت اگلے دو سال تک کی تنخواہ دیتے ہوئے اس سے کہا کہ ’’اپنے بچے کے پاس جاؤ ، تم دو سال تک بچے کو دودھ پلانا اور اس کا خیال رکھنا۔ شیرخوارگی کی مدت پوری ہونے کے  بعدہمارے پاس آ سکتی ہو، واپسی کی خواہش ہو تو میرا یہ فون نمبر ہے اس پر فون کر دینا‘‘۔
خادمہ خوشی خوشی وطن واپس چلی گئی ۔خادمہ کے سفر کے ایک ہفتے بعد کینسر کی جانچ کی تاریخ آگئی۔ جب خون کی جانچ کی گئی تو ڈاکٹرس کو بڑا تعجب ہوا کہ بلڈ کینسر کا کوئی وجود ہی دکھائی نہیں دیا۔ ڈاکٹر نے دوبارہ جانچ کرنے کا حکم دیا۔ خون کی کئی بار جانچ ہوئی مگر نتیجہ ایک ہی نکلا ۔ ڈاکٹر کو خاتون کی شفا یابی پر بڑا تعجب ہوا۔ بعد ازاں مزید جانچ کرتے ہوئے الٹراساونڈ کیا گیا تو پتہ چلا کہ جسم سے کینسر غائب ہوچکا ہے ۔ حیرت زدہ ڈاکٹر نے خاتون سے پوچھا کہ اس مدت میں تم نے کیا علاج کیا ؟
خاتون کا جواب تھا : ’’ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا: دَاوُوْا مَرْضَآکُمْ بِالصَّدَقَۃِ  صدقہ کے ذریعہ اپنے مریضوں کا علاج کرو‘‘۔(صحیح الجامع )
صحیح الترغیب کی روایت ہے ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے ایک ایسے عارضہ کی بابت دریافت کیا جواس کے گھٹنے میں لاحق ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ سات سال سے پریشان  تھا اورہر طرح کا علاج کراچکا  تھا، ابن مبارک رحمہ اللہ نے اس سے کہا : جاؤ ایک کنواں کھدواؤ۔ کیونکہ آج لوگوں کو صاف پانی کی سخت ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہاں سے چشمہ نکلے گا تو تیرے پیر سے نکلنے والا خون خشک ہوجائے گا، اس آدمی نے ایسا ہی کیا چنانچہ اس عمل سے اسے

TOPPOPULARRECENT